• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا و کینیڈا میں 14 فیصد نوجوانوں نے بھنگ کا استعمال کیا، تحقیق

امریکا اور کینیڈا میں ہر 7 میں 1 سے زیادہ کمسن اور نوجوان اپنی زندگی میں بھنگ کا استعمال کرتے ہیں۔

بچوں میں منشیات کے استعمال کے حوالے سے تحقیق کرنے والے ایک ادارے کے تجزیاتی رپورٹ کے مطابق  یہ ڈیٹا 2019 اور 2020 میں لیا گیا اور اس سے پتہ چلا کہ تقریباً دو لاکھ کے قریب افراد جن کی عمریں گیارہ سے 18 سال تھی۔

ان کے ڈیٹا سے حاصل  نتائج کے مطالعے سے یہ نشاندہی ہوئی کہ 14 فیصد نے منشیات کو اسموک کرنے کے لیے ای سگریٹ کا استعمال کیا، جسے بھنگ بھی کہتے ہیں۔ 

محققین کے مطابق یہ تعداد 2013 اور 2016 کے درمیان 6 فیصد تھی۔ جبکہ 2019 اور 2020 میں ایک اور تخمینے کے مطابق اسی عمر کے 13 فیصد افراد نے بارہ ماہ کے دوران بھنگ کا استعمال کیا اور یہ تعداد 2017 اور 2018 کے عرصے سے 7 فیصد زیادہ تھی۔ 

یونیورسٹی آف کوئینز لینڈ برسبین آسٹریلیا کے پی ایچ ڈی کرنے والے تحقیق کار مسٹر لم کا کہنا ہے کہ اس سے نوجوانی اور بچپن میں نہ صرف ذہنی اور دماغی نشو ونما متاثر ہوتی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں دوسری اشیاء پر انحصار سے صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں جو کہ زندگی کے بعد میں آنے والے دور میں سماجی اور دیگر مسائل کا سبب بنتے ہیں۔

صحت سے مزید