امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائیوں کے بعد دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، تاہم ایران کی جانب سے خطے میں حملے تاحال جاری ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت عملی طور پر ختم ہو چکی ہے اور اسے فضائی برتری میں بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ ایران کی ڈرون بنانے کی صلاحیت کو بڑی حد تک تباہ کر دیا گیا ہے۔
اس کے باوجود حالیہ دنوں میں قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں میزائل خطرات اور حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ ابوظبی میں ایک حملے میں ایک شخص ہلاک بھی ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کے حملوں میں نمایاں کمی ضرور آئی ہے، جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران نے بڑی تعداد میں میزائل اور ڈرون فائر کیے، تاہم اب یہ تعداد کم ہو کر محدود حملوں تک رہ گئی ہے، امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق میزائل حملوں میں تقریباً 90 فیصد اور ڈرون حملوں میں 80 فیصد سے زائد کمی ہو چکی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی قابلِ ذکر میزائلوں کا ذخیرہ موجود ہے اور اس نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر لی ہے، ایران اب بڑے حملوں کے بجائے کم تعداد میں مگر مسلسل میزائل اور ڈرون فائر کر رہا ہے، تاکہ مخالف ممالک کے دفاعی نظام کو دباؤ میں رکھا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق ایران موبائل لانچرز اور خفیہ مقامات سے حملے کر رہا ہے، جس کے باعث ان لانچرز کو مکمل طور پر تباہ کرنا مشکل ہے۔
تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران جنگِ استحصال کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے، جس کا مقصد طویل مدت تک دباؤ برقرار رکھنا اور مخالفین کو معاشی و دفاعی طور پر تھکانا ہے۔
اس کشیدگی کے عالمی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں، جس میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور خلیجی خطے میں سیکیورٹی خدشات شامل ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔