• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وہ بہت نازک صورت حال تھی ۔میں موت کے منہ میں لٹکا ہوا،بہت ڈرا ا ہواتھا۔

سوچ رہا تھا کہ بھوکے مگر مچھ سے بچ پاؤں گا یا نہیں ۔۔۔

مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میرا آخری وقت آگیا ہے ۔میرے سفر کا اختتام مگر مچھ کے پیٹ میں جا کر ہونے والا ہے ۔

میری کہانی یہاں ختم ہو گئی ہے ۔

مجھے اپنے بھانجوں کا خیال آگیا۔کامی اورمانی خرگوش میرے منہ بولے بھانجے ہیں ۔ان کی یاد آتے ہی میں غم گین ہو گیا۔خود کو اکیلا اور تنہا محسوس کرنے لگا۔سوچنے لگا ،’’کاش میں گھر سے ہی نہ نکلا ہوتا،اس وقت ان کے ساتھ گھر میں مزے سے بیٹھا ہوتا،کھیل رہا ہوتا،مستیاں کر رہا ہوتا ۔۔۔‘‘ایک طرف موت کے منہ میں جانے کا خیال ۔دوسری طرف اپنے بھانجوں کی یاد ۔میرا دل دکھی ہو گیا۔ 

پچھلی بار جب میں کالے ریچھ کے غار میں پھنس گیا تھا تو مجھے اُس رسی نے بچالیا تھا جو کامی نے میرے جھولے میں ڈال دی تھی ۔کاش اس نے میرے جھولے میں ایسی کوئی چیز بھی ڈال دی ہوتی جس کے ذریعے میں اس مگر مچھ سے بچ سکتا۔اپنی جان بچا سکتا۔یہ خیال آیا تو میں نے سوچا مجھے اپنے جھولے میں دیکھنا تو چاہئے ۔ممکن ہے اس میں اس نے ایسی کوئی چیز واقعی رکھ دی ہو ۔میں اپنے اس جھولے کو ’’خالو بھالو‘‘ کی زنبیل کہا کرتا تھا۔کامی اورمانی خرگوش بھی اسے’’ خالو بھالو‘‘ کی ز نبیل ہی کہتے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس میں جانے کیا کچھ الا بلا بھرا ہوتا ہے،مجال ہے جو کبھی وقت پر کوئی کام کی چیز مل جائے ۔

میں نے شدید مایوسی کے عالم میں اپنے جھولے میں جھانک کر دیکھا توچونک گیا،اس میں دانت کا درد دور کرنے والی دوا رکھی ہوئی تھی ۔میں نے دوا نکال لی ،دیکھا تو حیران رہ گیا ۔اس کے ساتھ ایک چٹ لگی ہوئی تھی جو شاید میرے بھانجے مانی خرگوش نے لگائی تھی ۔ اس پہ لکھا تھا ۔

’’میرے پیارے خالو بھالو ۔۔۔ اگر سفر کے دوران آپ کے دانت میں کبھی درد ہو جائے تو ا س دوا کے چند قطرے دانت پہ مل لینا ۔۔۔فوری طور پر دانت کا درد دُور ہوجائے گا ۔۔۔‘‘مجھے اپنے بھانجے مانی خرگوش پہ پیار آگیا۔کس قدر محبت سے اس نے یہ دوا میرے جھولے میں رکھی تھی ۔وہ ایسا ہی رحم دل اور پیارا سا خرگوش ہے ۔میں سوچنے لگا ۔

یہ دوا مجھے مگر مچھ سے کیسے بچا سکتی ہے بھلا ۔۔۔کس طرح اسے درخت سے دور لے جاسکتی ہے ، فرض کروں،اگر مگر مچھ درخت کے نیچے سے دور چلا بھی جائے تو میں اتنے اونچے درخت سے نیچے کیسے اتروں گا ۔اپنے گٹھیا کے مرض اور اتنے بڑے جھولے کے ساتھ اس قدر اونچے درخت سے نیچے اترنا آسان کام نہیں تھا۔میری چھڑی بھی اب میرے پاس نہیں تھی جس کے سہارے میں چلتا تھا۔اسے ڈھونڈنا بھی مشکل کام تھا ۔مگر مچھ نے وہ چھڑی جھاڑیوں میں پھینک دی تھی ۔

مجھ پر مایوسی طاری ہو نے لگی ۔ادھر مجھ پہ شدید مایوسی طاری تھی اور ادھر نیچے اپنی دُم پہ کھڑا مگر مچھ کھڑے کھڑے بری طرح تھک گیا،اس کا خیال تھا کہ میں زیادہ دیر تک درخت پہ لٹکا نہیں رہ سکوں گا۔اس کے منہ میں گر جاؤں گا ۔مگر ایسا نہ ہوا ۔میں درخت سے گرا ہی نہیں ۔

مگر مچھ زمین پہ لیٹ کرادھر ادھر رینگنے لگا۔اپنے آپ سے کہنے لگا۔

’’ مجھے آج خالوبھالو کے گوشت سے اچھا کھانانہیں مل سکتا۔۔۔بس بہت بہت ہوگئی ۔اب مجھے کھانے کی تیاری کرنی چاہیے ۔۔۔‘‘

اس نے منہ اوپر کرکے کہا:

’’ اے بوڑھے بھالو،اب مجھے بھوک لگ رہی ہے۔میں نے تمہیں کھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔میرا خیال ہے میں اپنے دانت تیز کرلوں تاکہ تمہیں چبا چبا کر باریک کرکے کھانے میں آسانی رہے ۔۔۔‘‘

میں اوپر لٹکا اس کی باتیں سن رہا تھا،سمجھ رہا تھا کہ یہ مگر مچھ مجھے کھائے بغیر یہاں سے جائے گا نہیں ۔میں نے دیکھا مگر مچھ نے اپنے چھوٹے سے ہاتھ میں ایک پتھر اٹھایا اور اپنے نوکیلے دانت تیز کرنے لگا ۔

اس کے بعد وہ درخت کے قریب آیا ،اس کے تنے سے چپک کر اپنی دُم پہ کھڑا ہو گیااوراپنا جبڑا پوری طرح کھول کر اوپر میری طرف کرلیا۔

’’ چلو بوڑھے بھالو، اب میرے جبڑوں میں چھلانگ لگا دو،مجھے سخت بھوک لگی ہے ۔۔۔میں اب مزید انتظار نہیں کر سکتا ۔۔۔‘‘

میں نے اوپر ہی سے چلا کر کانپتی ہوئی آواز میں کہا :’’ تم مجھے کھا کر ختم کردینا چاہتے ہو ۔۔۔لیکن میں ابھی مرنا نہیں چاہتا ۔۔۔‘‘

’’ کیوں نہیں مرنا چاہتے ،اتنے بوڑھے ہو گئے ہو،کیا کروگے مزید جی کر ،اس بڑھاپے میں کسی کے کام آؤ ۔چلو شاباش،نیچے آجاؤ۔‘‘

میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا :’’ میں نہیں آؤں گا۔‘‘

’’ تمہارے تو اچھے بھی آئیں گے ۔۔۔‘‘ مگر مچھ کو غصہ آگیا۔’’ اگر خو دنیچے نہیں آؤگے تو میں اپنی کھردری موٹی اور طاقت ور دم اس درخت کے تنے سے ماروں گا،پھر تم اپنا توازن سنبھال نہیں سکو گے،پکے ہوئے پھل کی طرح نیچے آجا ؤ گے ۔۔۔‘‘

وہ ٹھیک کہہ رہاتھا ۔اگر وہ اپنی دُم اس درخت کے تنے پہ مارتا تو میں ایک جھٹکے سے سیدھا اس کے منہ میں چلا جاتا ۔

میں نے بے چارگی سے کہا :’’ بھالوخالو،تمہارا آخری وقت آگیا ہے،خدا کو یاد کرلو اور مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ ۔۔۔‘‘

میری کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں،اس مصیبت سے خود کو کیسے بچاؤں ۔

اچانک میرے ذہن میں دانت کے درد کی دوا کا خیال آیا ۔دوا کی شیشی ابھی تک میرے ہاتھ میں تھی ۔میں نے بغیر کچھ سوچے سمجھے ،دوا کی بوتل کا ڈھکن کھولا،اور مگر مچھ کے کھلے ہوئے جبڑوں میں دوا کی پوری بوتل اوپر سے پھینک دی ۔

مگر مچھ کو یوں لگا جیسے خالو بھالو نے اس کے منہ میں چھلانگ لگادی ہے ۔اس نے جبڑا بند کیا اور آنکھیں بند کرکے بغیرکچھ سوچے سمجھے بوتل کو چبانے لگا ۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتا بوتل میں موجود لہسن ،کالی مرچ،سرسوں ،سرکہ ،لونگ اور پودینے سے بنی ہوئی تیز اثر دوا کا ذائقہ اس کے دانتوں اور مسوڑھوں میں سرائیت کرگیا۔مگر مچھ کے چودہ طبق روشن ہو گئے ۔اسے نہیں معلوم تھا کہ اس نے کیا چبایا ہے ،مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ دوا کس قدر تیز ،کڑوی اور کسیلی ہوتی ہے ۔

مگر مچھ کا پوراجبڑا اندر سے جلنے لگا۔وہ تڑپ کر نیچے زمین پہ گرا اور چلانے لگا :

’’ارے میں مرگیا۔ یہ میں نے کیا کھالیا ۔خالو بھالو نے مجھے زہر دے دیا ۔خالو بھالو نے مجھے زہر دے دیا ۔میں مر رہا ہوں۔اندر سے جل رہا ہوں۔۔۔ ‘‘وہ بوکھلا کر زمین پر پلٹیاں کھانے لگا۔یہی سمجھا کہ میں نے اسے زہر دے دیا ہے ۔جب جلن کم نہ ہو ئی تو وہ تیزی سے ندی کی طرف بھاگا اور غڑاپ سے گہرے پانی میں چلا گیا۔اس کا منہ بری طرح جل رہا تھا ۔کالی مرچ اور دوسری چیزوں نے ا سے معدے تک جھلسا دیا تھا،اسے فوری طور پر پانی کی ضرورت تھی ۔

مگر مچھ کے پانی میں جاتے ہی میرے لیے راستا صاف ہو گیا تھا ۔میں اب درخت سے نیچے اتر سکتا تھا۔نیچے، میرے لیے کوئی خطرہ نہیں تھا ۔لیکن میں اپنے گٹھیا کے درد کا کیا کروں۔۔۔؟‘‘

مجھے ڈر تھا کہ اتنے اونچے درخت سے نیچے اترنے کی کوشش کروں گا تو خود کو سنبھال نہیں پاؤں گا ۔گر جاؤں گا۔گر کے مرجاؤں گا ۔

میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں ۔۔۔؟

میں نے چلاکر کہا:’’ یا خدا میری مدد کر۔میں بوڑھا بھالو۔اتنے بلند درخت سے کیسے اتروں گا۔میری ہڈیاں کم زور ہیں۔اترتے ہوئے گر جاؤں گا ۔یا خدا میری مدد کر ۔۔۔‘‘

اسی وقت مجھے اپنے بالکل قریب سے کسی کی آواز سنائی دی ۔

’’ ڈرو مت ۔۔۔میں تمہاری مدد کے لیے یہاں موجود ہوں ۔۔۔ کائیں کائیں کائیں ۔۔۔‘‘

میں نے گھبرا کر آواز کی سمت دیکھا۔وہ ایک بڑا سا کواتھا جو میرے سر پہ منڈلا رہا تھا۔خدا کی طرف سے فرشتہ بن کر میری مدد کو آگیا تھا ۔

میں نے جس قدر ممکن تھا سر کو خم کرتے ہوئے کوے کو تعظیم دی اور حیرانی سے پوچھا:

’’ بھائی کوے! تمہارا بہت شکریہ ۔۔۔تمہارے اس جذبے سے میرا حوصلہ بڑھ گیا ہے، لیکن میری مدد کیسے کروگے،کیا سچ میں تم میری مدد کر سکتے ہو ۔۔۔؟‘‘

کوا میرے قریب ہی ایک شاخ پہ بیٹھ گیا۔اپنے پر سمیٹ کر چند لمحوں تک کائیں کائیں کائیں کرتا رہا۔پھر بولا:

’’ میں معمولی سا کوا ضرور ہوں ۔۔۔رنگ بھی کالا ہے ،مگر میرا دل صاف ہے، میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں۔۔۔‘‘

’’ وہی تو پوچھ رہا ہوں،کیسے مدد کروگے ۔۔۔؟‘‘کوے نے کہا:

’’ میں اپنے کھانے پینے کا سامان جمع کرنے نکلا تھا۔۔۔ہم کوے جب کھانے پینے کا سامان لینے نکلتے ہیں تو کوئی اور کام نہیں کرتے، لیکن میں اس وقت تمہیں بچاؤں گا۔۔۔کھانے کا سامان تو ا س کے بعد بھی لا سکتا ہوں ۔۔۔‘‘

’’ تم میری مدد کرنا چاہتے ہو ۔۔۔لیکن میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ تم مجھے اتنے اونچے درخت سے نیچے کیسے اتارو گے ۔۔۔؟‘‘

(یہ جانیے اگلی قسط میں)