• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

فیفا نارملائزیشن کمیٹی نے وقت برباد کیا، تحقیقات ہونی چاہئے

سائوتھ ایشین فٹ بال ممالک کا اجلاس مالدیپ کے دارالحکومت مالے میں ہوا ۔ فٹ بال ایسو سی ایشن آف مالدیپ کے زیراہتمام ساف کانفرس کی صدارت ساف ممالک کے صدر بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے قاضی محمد صلاح الدین نے کی جبکہ دیگر عہدیداروں میں سینئر نائب صدر اور پاکستان فٹ بال کے سابق نائب صدر سید خادم علی شاہ ، سری لنکا کے کری ڈی لیانا، نیپال کے مانی کنور، جنرل سیکرٹری بنگلہ دیش کے انوار الحق، ممبر ایسو سی ایشن بنگلہ دیش کے ابونعیم سوہاگ، بھوٹان کے یوجین وانگ کک، بھارت کے کوشل داس،لانگلوا ہمر، مالدیپ کے عمر علی، نیپال کے اندرامان تلہادھر اور سری لنکا جسوار امارو لیبی۔

ان کے علاوہ کانفرنس میں شرکت کرنے والے آبزرورز میں اے ایف سی کے ہیڈ آف سائوتھ ایشین یونٹ ایم اے ڈویژن مسٹر پرشوتم کیٹل اور اے ایف سی کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور ڈائریکٹر ایم اے ڈویژن واحد لازم کردانی( فیفا کے نمائندے ) شامل تھے۔ جنرل سیکرٹری ساف نےاجلاس میں شرکت کرنے والے تمام شرکاء اور خاص طور پر مالدیپ فٹ بال ایسوسی ایشن کا میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر ساف کے عہدیداروں اور اے ایف سی کے نمائندوںنے اجلاس میں ساؤتھ ایشین ممالک میں فٹ بال کو درپیش مسائل کے حوالے سے بات چیت کی اور کھیل کی ترقی کیلئے مختلف تجاویز بھی دیں۔

پاکستان فٹ بال کے سابق نائب صدر اور ساف کے سینئر نائب صدر سید خادم علی شاہ نے جنگ سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ سائوتھ ایشین ممالک کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعدچھ افراد پر مشتمل ایک خصوصی اجلاس ہوا جس میں ساؤتھ ایشین فٹ بال کے صدر غازی صلاح الدین، بھارت سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن، سیکرٹری جنرل سائوتھ ایشیا انوار الحق، فیفا کے نمائندے اور اے ایف سی کے ڈپٹی سیکرٹری واحد لازم کردانی اور پرشوتم کیٹل اور میں شامل تھا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستانی فٹ بال کے مسئلے کے حل کیلئے فیفا، اے ایف سی اور سائوتھ ایشین فٹ بال اپنا کردار اداکرے گی۔ 

فیفا، اے ایف سی اور سائوتھ ایشین فیڈریشن کے نمائندوں پرمشتمل ایک وفدپاکستانی حکومت سے بات چیت کے لئے پاکستان جائے گا۔وفد میں فیفا نارملائزیشن کمیٹی کے رکن ہارون ملک کو بھی شامل کیا جائے گا۔ فٹ بال مسئلے کے حل کیلئے پاکستان فٹ بال کے اسٹیک ہولڈرز سے بھی ملاقاتیں کی جائیں گی ۔ سب سے پہلے حکومت پاکستان سے اس بات پر زور دیا جائے گا کہ فیفا فٹ بال ہائوس خالی کراکے اس کا قبضہ مکمل طور پر فیفا نارملائزیشن کمیٹی کے حوالے کیا جائے اگرپاکستان حکومت یہ شرط تسلیم کرے گی تو فیفا، اے ایف سی اور ساؤتھ ایشین وفد اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے پاکستانی فٹ بال کے تمام معاملات کے حل کی ضمانت دے گا ۔

پاکستان فٹ بال کی اسکروٹنی سمیت اگلے چار سے پانچ ماہ کے دوران انتخابات کے انعقاد کو بھی یقینی بنائیں گے۔ اجلاس کے دوران یہ بھی طے پایا کہ فیفا اور اے ایف سی پاکستان فٹ بال فیڈریشن نارملائزیشن کمیٹی کے سابق چیئرمین حمزہ خان کے خلاف انکوائری کرے گی کہ انہوں نے اٹھارہ ماہ کا وقت کیوں ضائع کیا اس دوران کروڑوں روپے ٹی اے ڈی اےکی مد میں کہاں کہاں خرچ ہوئے اس کی تحقیقات اور حساب لیا جائے گا۔ 

واضح رہے کہ ساف فٹ بال چیمپئن شیڈول کے مطابق پاکستان کو الاٹ کی گئی تھی اور اس کا انعقاد پاکستان میں ہونا تھا لیکن فیفا کی پاکستان پر عالمی معطلی کے باعث یہ ایونٹ نہ صرف مالدیپ کو دیدیا گیابلکہ پاکستانی ٹیم کو بھی ایونٹ میں شرکت سے محروم کردیا گیا۔

اس طرح پاکستان گزشتہ چھ سال کے دوران ساف چیمپئن شپ کے ساتھ ساتھ دیگر بین الاقوامی ایونٹس سے محروم ہوا۔ پاکستان کے ساتھ چاڈ پر بھی فیفا کی جانب سے معطلی کا شکار تھا لیکن اب فیفا معطلی ختم ہونے کے بعد پاکستان عالمی معطلی میں تنہا کھڑا ہے جس کی وجہ سے قومی فٹ بال ٹیمیں بین الاقوامی فٹبال ایونٹ کا حصہ نہیں بن سکتیں۔ 

عالمی پابندی کے باعث پاکستان میں فٹ بال کا کھیل مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے ۔ کھیل کی بحالی کیلئے ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ سب سے زیادہ نقصان کھلاڑیوں، کوچز اور ریفریز کو اٹھانا پڑ رہا ہے ۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید