کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ پٹھوں کی مضبوطی بزرگوں کی طویل العمری پر کس قدر اثر انداز ہو سکتی ہے؟ حالیہ تحقیق میں اس سوال کا جواب دریافت کر لیا گیا۔
حالیہ تحقیق جو جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع ہوئی ہے، جس سے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ مضبوط مسلز رکھنے والی بڑی عمر کی خواتین میں 8 سالہ فالو اَپ کے دوران موت کا خطرہ کم پایا گیا۔
اس مطالعے کے لیے سائنس دانوں نے 63 سے 99 برس کی تقریباً ساڑھے 5 ہزار خواتین کا جائزہ لیا، ان خواتین کے طاقت کے ٹیسٹ کیے گئے اور بعد ازاں تقریباً 8 برس تک انہیں زیرِ مشاہدہ رکھا گیا۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ جن خواتین کے مسلز زیادہ مضبوط تھے، ان میں موت کا خطرہ کم رہا، خواہ وہ ہفتہ وار تجویز کردہ ورزش مکمل طور پر کر رہی ہوں یا نہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ چونکہ امریکا میں 80 سال اور اس سے زائد عمر کی خواتین کا گروہ تیزی سے بڑھنے والا گروہ ہے، اس لیے طاقتور مسلز کی نگرانی اور اسے برقرار رکھنے کی اہمیت آنے والی دہائیوں میں صحتِ عامہ پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔
اہم بات یہ ہے کہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے خواتین کا باڈی بلڈر جیسا دکھائی دینا ضروری نہیں تھا۔
محققین کے مطابق ہم نے اس بات کا بھی مشاہدہ کیا کہ مسلز کی طاقت اور اموات کے درمیان جسامت میں فرق تعلق کی وضاحت نہیں کرتا، جب ہم نے طاقت کے پیمانوں کو جسمانی وزن اور حتیٰ کہ خالص مسلز کے وزن کے مطابق جانچا، تب بھی شرحِ اموات میں نمایاں کمی برقرار رہی۔
ایک عام غلط فہمی دور کرتے ہوئے ماہرین نے زور دیا ہے کہ طاقت اور مسلز کا حجم بڑھانے کے لیے جم جانا لازمی نہیں۔
محقیقن کے مطابق طاقت اور مسلز کا حجم بڑھانے کے لیے ایکسر سائز کے لیے بھاری ڈمبلز کے بجائے سوپ کین یا کتابوں کا استعمال بھی کر سکتے ہیں، یہ ویٹ لفٹنگ کے لیے اتنی ہی مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں، خصوصاً ان افراد کے لیے جن کے لیے جم یا دیگر سہولتیں دستیاب نہیں۔
مزید برآں، تحقیقاتی ٹیم نے بزرگ افراد کو مشورہ دیا کہ طاقت بڑھانے کی مشقیں شروع کرنے سے قبل اپنے معالج یا صحت کے ماہرین سے مشورہ ضرور کریں تاکہ وہ محفوظ انداز میں اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کر سکیں۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔