• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ 2019 کی بات ہے۔ امریکی ریاست ٹیکسس میں واقع ساوتھ پیڈر آئی لینڈ میں اوشین ٹاور نامی ایک بلند عمارت زیر تعمیر تھی کہ اسی دوران وہاں کام کرنے والے انجینئرز نے یہ محسوس کیا کہ ان کی پیمائشیں صحیح طورپر کام نہیں کررہی ہیں اور کہیں کہیں ڈھلان اور توازن کے زاویے بھی ان کی پیمائشوں کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔چناں چہ انہوں نے تعمیراتی کام کے ذمّے دار ادارے کے حکّام کو اس بارے میں آگاہ کیا۔چوں کہ وہ پاکستان نہیں بلکہ امریکا تھا لہذامذکورہ حکّام یہ اطلاع ملتے ہی حرکت میں آگئے۔ اور کیوں نہ آتے،سب سے پہلے تو انہیں متعلقہ قاعدوں اور قوانین کا خیال آیا ہوگاکہ ذرا سی بھی گڑبڑ ہوئی تو نہ صرف ان کا ادارہ ختم ہوجائے گا بلکہ انہیں مجرمانہ غفلت برتنے کے جرم میں سزائیں بھی بھگتنا ہوں گی۔اگر ایسا نہ بھی ہوا تو یہ ٹھیکہ کروڑوں ڈالرز کا تھا جوتعمیراتی عملے کی کسی بھی غفلت کی صورت میں منسوخ ہوسکتا تھاجس سے ادارے کی ساکھ تباہ ہوسکتی تھی۔

عمارت کا نقشہ بنانے والے اور انجینئرز فوری طورپر اس مقام پر پہنچے جہاں تعمیراتی کام دن رات جاری تھا ۔ ان کا سب سے پہلا حکم یہ تھا کہ فوری طورپر تمام تعمیراتی سرگرمیاں روک دی جائیں۔ وہاں تمام سرگرمیوں کے منتظم نے یہ حکم سنا تو وہ چراغ پا ہوگیا اورحکم دینے والوں سے الجھ پڑا۔اس کا موقف تھا کہ مختلف وجوہ کی بناپر کا م پہلے ہی مقررہ سے کچھ کم رفتار سے جاری ہے اور اگر اسے روکا گیا تو معاہدے کے مطابق تعمیراتی کام کرنے والے ادارے کو عمارت کے مالک کو اس تاخیر کا جرمانہ اداکرنا پڑے گا۔لیکن حکم دینے والے اپنی بات پر ڈٹے رہے کیوںکہ وہ جانتے تھے جو کچھ انہیں بتایا گیا ہے وہ کسی بہت سنگین مسئلے کی نشانیاں ہوسکتی ہیں۔انہیں اپنی پوری تسلّی کرنی تھی کیوں کہ دیگر ممکنہ سنگین نتائج کے ساتھ ان کے ذہن میں یہ خوف بھی تھا کہ اگر کم سے کم نقصان ہوا تو ان کے پروفیشنل لائسنس منسوخ ہوسکتے ہیں۔

کافی اونچی سطح پر بحث مباحثے کے بعدبالآخر تعمیراتی کام بند ہوا تو مذکورہ ماہرین نے اپنا کام شروع کیا۔انہوں نے سب سے پہلے اسٹرکچرل انجینئر کو کچھ ہدایات دے کر تحقیق کا کام شروع کرنے کے لیے کہا۔پھر سول انجینئر کو کچھ ہدایات کی گئیں۔نقشہ بنانے والےنقشے پھیلا کربیٹھ گئے اور کوئی ممکنہ نقص تلاش کرنےلگے اور اس کے حل کی ممکنہ راہوں کے بارے میں سوچ بچارشروع ہوا۔انہوں نے جن افراد کو ہدایات دے کر تحقیق پر مامور کیا تھاانہوں نے سرعت کے ساتھ کام کرکے دوتین گھنٹوں میں جو معلومات فراہم کیں وہ ہوش ربا تھیں۔اب نقشہ بنانے والوں اور اعلی انجینئرز کو خود میدان میں اترکر فراہم کی گئیں معلومات کی تصدیق کرنی تھی۔چناں چہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔پھر کچھ نمونے تجربہ گاہ میں تجزیےکے لیے بھجوائے گئے،بعض اعلی ماہرین سے رابطے کرکے انہیں متعلقہ معلومات اور تصاویر بھیجی گئیں تاکہ وہ بھی اس بارے میں اپنی ماہرانہ رائے دے سکیں۔

ان تمام سرگرمیوں کے نتیجے میں سامنے آنے والی متفقہ رائے یہ تھی کہ عمارت نہ صرف اپنی جگہ چھوڑ رہی ہے بلکہ ایک جانب جُھک بھی رہی ہے۔اسے ڈھانچے کا نقص قرار دے کر عمارت کو منہد م کرنےکا فیصلہ کیا گیاجو کوئی آسان کام نہیں تھا،لیکن یہ کام کرنا تھاکیوں کہ وہ پاکستان نہیں بلکہ امریکا تھا۔

عمارت کو سمندری اور ہوا کے طوفانوں سے بچانے کے لیے بہت مضبوط تین تہیں رکھی گئی تھیں۔ امپلوژن کے ذریعے پہلے عمارت کا کچھ حصہ تباہ کیا گیا۔پھر تین مضبوط ڈھانچوں کو نشانہ بنایا۔ لیکن ٹاورز اتنے بلند تھے کہ انہیں دھماکا خیز کے ذریعے گرایا جاتا توان کا ملبہ بہت آگے تک چلا جاتا۔چناں چہ عمارتیں گرانے کے ماہرین کی رائے سے یہ طے کیا گیا کہ پہلے ان ٹاورز کی بلندی میں تیس میٹرز سے بھی زیادہ حد تک کمی کی جائےپھر انہیں دھماکا خیز مواد کی مدد سے منہدم کیا جائے تو ملبہ متعیّن حدود ہی میں رہےگا۔چناں چہ ایسا ہی کیا گیا اور یہ سارا کام کنٹرولڈ ڈیمولیشن کے ایک متاز نجی ادارے نے کیا تھا۔

آج کی حقیقت اور ہم

ہمارے ہاں بھی ان دنوں ذرایع ابلاغ میں کنٹرولڈ ڈیمولیشن، کنٹرولڈامپلوژن، ڈیٹونیشن، کنٹرولڈبلاسٹ وغیرہ کا بہت ذکر ہورہا ہے۔اس کا سبب نسلہ ٹاور کراچی کو منہدم کرنے کے بارے میں سپریم کورٹ کی جانب سے سنایا جانے والا وہ فیصلہ ہے جس میں کہا گیا ہےکہ نسلہ ٹاور منہدم کرنےکے لیے جدید ڈیوائسز کا استعمال کیا جائے، وہ طریقہ کار اختیار کیا جائے جس طرح دنیا بھر میں عمارتیں گرائی جاتی ہیں۔ عدالت نےاپنے تحریری فیصلے میں کہا ہےکہ جدید ڈیٹونیشن کا استعمال بھارت سمیت دنیا بھر میں کیا جارہا ہے لہٰذا یقینی بنایا جائے کہ نسلہ ٹاور گرانے کے دوران کوئی نقصان نہ ہو۔

آج کی حقیقت یہ ہے کہ سائنس کی مدد سے پہلے عمارتیں تعمیر کرنے کا فن بہ ذاتِ خود ایک سائنس بنا اور چند دہائیوں میں عمارتیں منہد م کرنے کی سرگرمیاں بھی ایک سائنس کا روپ دھار چکی ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں تو آج تک وہ ٹیکنالوجی بھی پوری طرح نہیں پہنچ سکی ہے جو ترقّی یافتہ ممالک عمارتیں گرانے کے لیےدو، تین دہائیاں قبل استعمال کررہے تھے۔ چناں چہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمارت کو فوری طور پر کنٹرولڈ ایمونیشن بلاسٹ سے منہدم کرنےکے لیے کمشنر کراچی، اقبال میمن نے مختلف اخبارات میں اشتہار دیے، جس کے مطابق تجاویز جمع کرانے کی آخری تاریخ انتیس اکتوبر تھی۔

اشتہار میں کہا گیا تھا کہ اس کام کے لیے ان اداروں کو ترجیح دی جائے گی جو کنٹرولڈ ایمونیشن بلاسٹ یا ڈیٹونیشن میں مہارت رکھتے ہوں۔ اس کے علاوہ ان اداروں میں بھی دل چسپی ظاہر کی جائے گی جو بہ حفاظت سائنسی طریقوں سے جلد از جلد اس عمارت کو منہدم کرسکیں۔ تاہم تادمِ تحریر نسلہ ٹاور کو بارود کے ذریعےمنہدم کرنے کے فیصلے پر تمام متعلقہ ادارے ایک صفحے پر نہیں آسکے تھے۔

ڈپٹی کمشنر شرقی، آصف جان صدیقی کی زیر صدارت نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق جو اہم اجلاس یکم نومبر کوہوااس کے بعد انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نسلہ ٹاور گرانے کے لیے اشتہار دینے کے بعد پانچ کمپنیوں نے رابطہ کیا، جن میں سے ایک بیرون ملک کی کمپنی ہے اوراس نے عمارت دھماکے سے گرانے کا کہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ باقی چار پاکستانی کمپنیوں نے روایتی طریقے سے نسلہ ٹاور گرانے کی بات کی ہے۔آصف جان صدیقی نے مزید کہا کہ پاکستانی کمپنیوں نےدو ماہ تک روایتی انداز میں گرانے کا بتایا ہے۔ان کمپنیوں کو بلارہے ہیں تاکہ پریزنٹیشن لیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ عمارت گرانے کے لیےجو باحفاظت طریقہ ہوگا وہ اپنائیں گے،ہمارا مینڈیٹ عمارت منہدم کرنے کے لیے جلد از جلد محفوظ طریقہ اپنانا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمارت گرانے کے لیے دھماکےکی تیکنیک پر بات کی گئی، تاہم آج تک ملک میں دھماکے سے کوئی عمارت نہیں گرائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام کمپنیوں کو سنیں گے اور فیصلہ کریں گے۔ عمارت ہتھوڑی، چھینی سے نہیں توڑنی، لیکن دیکھنا ہے کہ کون یہ کام کرسکتا ہے۔بعض اطلاعات کے مطابق نسلہ ٹاور کو جدید طریقے سے منہدم کرنے کے لیے مذکورہ غیر ملکی کمپنی نے ایک ماہ کے پری ورک کی بات کی ہے۔

کیا ایسا ہوسکتا ہے؟

ہم چوں کہ کبھی ایسے تجربے سے گزرے نہیںہیں اس لیے اکثر افراد یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ کیا نسلہ ٹاورکنٹرولڈ بلاسٹنگ یا امپلوژن کے ذریعے مسمار کیا جاسکتا ہے؟اس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کنڑولڈ ڈیمولیشن یا امپلوژن کہلاتی ہے۔ یہ کام کرنے کےلیے منہدم کی جانے والی عمارت کے بارے میں بہت احتیاط سے تمام متعلقہ تفصیلات جمع کی جاتی ہیں،پھر کئی شعبوں کے ماہر ین یا عمارتیں منہدم کرنے کا کام کرنے والے ماہرین انہیں سامنے رکھ کر منصوبہ بناتے ہیں کہ دھماکا خیر مواد کو کس طرح ستونوں، شہتیروں اور دیگر حصوں میں نصب کیا جائے گا اور اسے کس ترتیب سے پھاڑا جائے گا۔

دراصل اس عمل میں عمارت کو دھماکے سے اُڑایا نہیں جاتا بلکہ ترتیب وار دھماکوں سے اس طرح نقصان پہنچایا جاتا ہے اس کے مختلف حصے ایک ترتیب کے ساتھ منہدم ہوتے جاتے ہیں۔ بہ الفاظِ دیگر عمارت کو ایکسپلوڈ کرنے کے بجائے امپلوڈ کیاجاتا ہے۔ ایسا کرنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ عمارت اور اس کا ملبہ اِدہر،اُدہر گرنےکے بجائے سیدھے عمارت کی بنیاد کی جانب آجاتا ہے۔عمارت منہدم ہونے سے اگر چہ گردو غبار کا طوفان سا اٹھتا ہے،لیکن اس پر پانی کے فوّاروں کے ذریعے کافی حد تک قابو پالیاجاتا ہے۔

دھماکا خیز موادکی مدد سے کسی عمارت کو منہدم کرنے کے لیے ڈیمالیشن بلاسٹرز عمارت کے کئی مختلف حصوں اور ستونوں پر بہ یک وقت لگا کر چلائے جاتے ہیں جس سے انجینئرز عمارت کے ڈھانچے کو مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ ایک مخصوص سمت میں اور مقام پر گرانا یقینی بناتے ہیں۔ اس طریقے سے گرنے والی عمارت کے بچ جانے والے سامان کا مجموعی نقصان نسبتا کم ہوتا ہے اور ڈھانچے کو مکمل طور پر گرانے کا عمل بھی یوں آسان ہوجاتا ہے کہ پھر صفائی کے عملے کے پاس اٹھانے کے لیے صرف ملبے کا ڈھیر بچتا ہے۔

مختلف عمارتوں کے لیے مختلف طریقے

یہ کام چوں کہ بہت خطرناک ہوتا ہے لہذا ہر عمارت کا ہر طرح سے جائہ لیا جاتا ہے اور پھر کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے۔ کسی بھی عمارت کو منہدم کرنے کے لیے دھماکے کرنے والا عملہ مختلف طریقہ اختیار کرسکتاہے، لیکن بنیادی خیال ایک ہی ہوتا ہے کہ عمارت اس اندازسے زمیں بوس ہو کہ ملبہ ہٹانے کا کام بعد میں آسانی سے ہوسکے ۔ اسی وجہ سے دھماکے کرنے والے دھماکاخیز مواداس انداز سے نصب کرتے ہیں کہ عمارت اپنے مرکز کی طرف زمین بوس ہو۔

عام طور پر بلاسٹرز پہلے نچلی منزلوں پر بڑے سپورٹ کالمز کو تباہ کرنے کے لیے طاقت ور مواد لگاتے ہیں اور پھربہ تدریج اوپری منزلوں کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن زیادہ ترنچلی منزلوں پرسہارا دینے والے ڈھانچے کو اڑانا ہی عمارت گرانے کے لیے کافی ہوتا ہے البتہ اوپری منزلوں پرستونوں کوتباہ کرنےسے ان کے چھوٹے ٹکڑوں میں ٹوٹنے میں مدد ملتی ہے اور بعد میں یہ ملبہ اٹھانے کے دوران مدد دیتا ہے۔

دھماکے کرنے والےجب یہ طے کر لیتے ہیں کہ امپلوژن کیسے کرنا ہےتو اگلا عمل دھماکاخیز مواد عمارت میں نصب کرنے کا ہوتاہے۔اس مرحلے میں پہلے انجینئرز بوجھ برداشت نہ کرنے والی دیواریں توڑ دیتے ہیں جس سے منازل صاف ہوجاتی ہیں۔ اگر یہ دیواریں برقرار رہیں تو دھماکےکے بعد ملبہ اٹھانا دشوار ہوجاتا ہے بلکہ اکثر یہ دیواریں عمارتی ڈھانچے کے کئی حصوں کو گرنے ہی نہیں دیتیں۔ اس کام کے لیے ہتھوڑوں یا اسٹیل کٹرز کی مدد لی جاتی ہے۔ اس کے بعد عمارت کا اصل بوجھ اٹھانے والے ستونوں پر دھماکاخیز مواد نصب کرنے کی باری آتی ہے۔ ستونوں کی لمبائی،چوڑائی کے تناسب سےدھماکا خیز مواد کی مقدار کا تعین کیا جاتا ہے۔

کنکریٹ کے ستونوں کے لیے روایتی ڈائنامائٹ یا اسی طرح کا دھماکاخیز مواد استعمال ہوتاہے۔ ڈائنامائٹ ایک انتہائی آتش گیر مادہ ہےجو انتہائی تیزی سے جلتا ہے اوربہت تھوڑے وقت میں بڑی مقدار میں حرارت پیدا کرتا ہے۔ حرارت پر مشتمل یہ گیس اتنی ہی تیزی سے پھیلتی ہےاور اپنے اردگرد جو کچھ بھی ہواس پر بے پناہ بیرونی دباؤ (600 ٹن فی مربع انچ تک) ڈالتی ہے۔ الیکٹرانک ڈیوائس کےذریعے بھڑکانے پر ڈائنامائٹ کنکریٹ کے ستونوں میں بنائےگئےتنگ سوراخوں کو کچل کر دکھ دیتے ہیں۔ 

اس دوران ایک طاقت ور جھٹکا یا لہر وجود میں آتی ہے جو ستونوں میں جاکر سپرسانک رفتار سے پھٹتی ہے اور کنکریٹ جیسا مضبوط ترین مٹیریل بھی چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بکھر جاتا ہے۔البتہ اسٹیل کے ستونوں کو گرانا قدرے مشکل ہوتاہےکیونکہ اسٹیل کنکریٹ سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ اسٹیل کی مدد سے کھڑی عمارتوں کے لیے بلاسٹر عام طور پر خصوصی دھماکا خیز مواد آر ڈی ایکس استعمال کرتے ہیں جو بل بھر میں مضبوط سے مضبوط ستون پگھلانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

آر ڈی ایکس ہو یا ڈائنامائٹ، دونوں کوبھڑ کانے کے لیے ایک شدید جھٹکا درکار ہوتا ہے جو فیوز کے ذریعے ممکن بنایا جاتا ہے۔ روایتی فیوز ڈیزائن ایک لمبی ڈوری ہےجس کے اندر دھماکاخیز موادہوتا ہے۔ جب ڈوری کے ایک سرے کو آگ لگائی جاتی ہے تو اس کے اندر موجود دھماکا خیز مواد مستقل رفتار سے جلتا ہے اور شعلہ ڈوری کے نیچے سے دوسرے سرے پر موجود ڈیٹونیٹر تک جاتا ہے اورپھر دھماکا ہوجاتا ہے۔

حفاظتی اقدامات

کسی بلند عمارت کو بارود کی مدد سےمنہدم کردینے کاکام کوئی دہشت گر د بھی کرسکتا ہے،لیکن جب اس کام کا کوئی ماہریہ عمل کرتا ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ تعمیری اور تخریبی ذہنیت میں کیا فرق ہوتا ہے۔کوئی ماہر جب یہ کام کرتا ہے تو اس کے ذہن میں سب سے پہلے جان اور مال کا تحفظ یقینی بنانے کا خیال ہوتاہے۔ چناں چہ وہ پہلے ہر کام کے لیے منصوبہ بندی کرتے ہیں،نقشے بناتے ہیں اور عمارت کا ڈھانچا باریک بینی سےپرکھتےہیں۔ پہلے مرحلے میں عمارت کے آرکی ٹیکچرل بلیو پرنٹس کی جانچ کی جاتی ہے جس کے بعد بلاسٹر کا عملہ عمارت کے دورے کر کے جدید آلات کے ذریعےدراڑوں اور عمارت کی تعمیر میں استعمال ہونے والے مٹیریل کا باریک بینی سے جائزہ لیتا ہے۔

جب یہ ٹیم ضرورت کا تمام ڈیٹا اکٹھا کر لیتی ہے تو دھماکے کرنے والے اس ڈیٹا کی بنیاد پر ایکسپلوسیو لگانے کی تیاریاں شروع کردیتے ہیں۔ عمارت کے مٹیریل کی مناسبت سے اور اپنے تجربات کی بنیاد پر وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ انہدام کے لیے کون سا دھماکا خیز مواد استعمال کرنا ہے، انہیں عمارت میں کہاں کہاں نصب کرنا ہے اور اس عمل کا وقت کیا ہونا چاہیے ۔ بعض صورتوں میں دھماکے کرنے والے ڈھانچے کےکمپیوٹر ماڈل تیار کرتے ہیں اور عمارت گرانےکے پورے عمل کی تھری ڈی وڈیوز بناکر مختلف پہلووں سے ان کا جائزہ لیتے ہیں۔

گرانا ہی نہیں بچانا بھی ہے

ماہرین کے نزدیک کوئی عمارت محض گرانا ہی نہیں بلکہ اس کے گرنے سے ارد گرد کی عمارتوں یا آبادی کو ممکنہ تباہی سے بچانا بھی بہت اہم ہوتا ہے۔چناں چہ یہ جائزہ لیا جاتا ہے کہ دھماکےسے عمارت کو کسی مخصوص سمت جیسے پارکنگ لاٹ میں یا دوسرے کھلے علاقے میں گرانا ممکن ہے یا نہیں۔ دھماکا کرنے والے عمارت میں ستونوں کو سہارا دینےکے لیے اسٹیل کیبلز کا استعمال کرتے ہیں تاکہ ڈھانچا گرنے کے ساتھ ہی انہیں ایک خاص طریقے سےمطلوبہ سمت میں کھینچ لیا جائے۔ 

مصروف علاقوں میں جہاں عمارتیں ہی عمارتیں کھڑی ہوںوہاں انجینئرز عمارت کے بنیادی ستونوں پر ایک ساتھ کئی دھماکے کرتے ہیں تاکہ یہ سیدھی زمین پر آگرے۔ یوں سارا ملبہ عمارت کی بنیادپرہی گرتا ہے۔ لیکن اس عمل میں انتہائی مہارت درکار ہوتی ہے اور دنیا کی مٹھی بھر انہدامی کمپنیز ہی اس عمل کے نتائج یقینی بنانے کے قابل سمجھی جاتی ہیں۔

دنیا بھر میں بلند عمارتوں کی بلاسٹنگ یا ڈائنامائٹ پروفنگ صرف گیارہ ملکوں میں ہوتی ہے۔ کسی بھی اونچی عمارت کو گرانے سے قبل اس کے اطراف کا سروے کیا جاتا ہے تاکہ طے کیا جا سکے کہ عمارت کو باحفاظت کس جانب گرانا ہے۔

عمارت کس جانب گرے گی، اس کا فیصلہ ہونےکے بعد عمارت کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے کہ اس میں کہاں کہاں بارودی مواد نصب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مطلوبہ نتیجہ حاصل کیا جا سکے۔ پھرعمارت میں سے تمام نقصان دہ مواد جیسےکہ آگ پکڑنے والی اشیا، شیشہ اور فرنیچر وغیرہ نکالا جاتا ہے۔اس کے بعد وہ دیواریں ہٹائی جاتی ہیں جن پر کوئی لوڈ نہیں ہوتا۔یہ سب کرنے کے بعد عمارت کے ستونوں میں سوراخ کرکے بارودی مواد بھرا جاتا ہے۔

کراچی کے بعض سرکاری حکام کےمطابق پاکستان میں کئی اداروں کے پاس پلوں، ورجن لینڈز اور پہاڑوں پر بارود سے دھماکے کرنے کی صلاحیت ہے، اس لیے وہ اس کام کے لیے بیرونِ ملک کی کمپنی سے رابطہ نہیں کریں گے۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ کسی اونچی عمارت اور کسی سڑک یا پل کو گرانے میں کافی فرق ہوتا ہے۔اس لیےعمارتوں کا بلڈنگ کوڈ کے مطابق تعمیر ہونا ضروری ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ عمارت میں کتنے ستون اور کتنا سریا ہے۔

دراصل اسی بنیاد پر یہ طے کیا جاتا ہے کہ دھماکے کی صورت میں کتنے ملی سیکنڈز میں کتنےدھماکے ہوں گے۔ چناں چہ یہ اہم معلومات نہ ہونے کی وجہ سے نسلہ ٹاور کو بارود کی مدد سے گرانا اطراف کی سڑکوں اور آبادیوں کےلیے بہت خطرناک ہوسکتا ہے۔ اس معاملے میں مشکل یہ ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نےمتعلقہ حکام کو نسلہ ٹاور کی سندِ تکمیل دی ہے اور نہ ہی اس کا بلڈنگ کوڈ جس کے بغیر اسے دھماکے سے منہدم کرنے کامنصوبہ بنانا بہت مشکل کام ہے۔ چناں چہ حکام کے مطابق یہ عین ممکن ہے کہ آخر میں تمام صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹاور کو بارود سے نہیں بلکہ مزدوروں اور ایس بی سی اے کے پاس موجود مشینوں کی مدد سے مسمار کیا جائے۔

لیکن اس عمل میں تین سے چار ہفتوں کا وقت درکار ہوگا۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی یا پاکستان کے کسی اور سرکاری ادارے کے پاس بارودسے اونچی عمارتیں گرانے کی ٹیکنالوجی موجود نہیں۔اگر کسی عمارت کو دھماکےسے گرایا جاتا ہے تو اس کے اطراف کی عمارتوں کی حفاظت بہت ضروری ہوتی ہے۔ اس عمل میں ایک ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے جس سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ گرنے والی عمارت کا دھچکا اطراف کی عمارتوں میں منتقل نہ ہو۔

اس کے علاوہ عمارت کے بنیادی ڈھانچے میں حکمت عملی کے تحت دھماکا خیز چارجز لگائے جاتے ہیں جن کی مدد سے وہ عمارت ایک ماس کی طرح نیچے آتی ہے اور اندر کی طرف گرتی ہے جس سے عمارت کے اطراف میں کم سے کم ملبہ گرتا ہے ۔ اس ضمن میں سب سے اہم کردار بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کاہوسکتا تھا،لیکن وہ تقریباً غیر موثر لگتی ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں بھارت سمیت دنیا بھر میں استعمال ہونے والے ڈیٹونیشن کے جدید طریقے استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ البتہ یہ بھی کہا ہے کہ نسلہ ٹاور کو گرانے کے عمل میں کسی بھی قسم کا نقصان نہ ہو۔یاد رہے کہ بھارت میں کئی مقامی ادارے کنٹرولڈ ایمونیشن بلاسٹ کی تیکنیک استعمال کر رہے ہیں، لیکن وہاں بھی یہ روایت کو ئی زیادہ پرانی نہیں ہے۔