• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی یوں تو سمندر کے کنارے آباد ہے لیکن یہ خود بھی ایک سمندر ہے‘ ڈھائی کروڑ سے زائد انسانوں کا ٹھاٹیں مارتا ہوا سمندر۔ بین الاقوامی شہر کراچی اپنے ماضی اور حال کی بدولت ایک عظیم شہر ہے‘ جہاں زندگی اپنے ہر رُخ پر نظر آتی ہے‘ کراچی کا ماضی اگر اپنے دور میں شاندار‘ پُرکشش اور دلچسپ رہا ہے تو آج کا کراچی جدّت‘ نفاست‘ وسعت اور سطوت کی منہ بولتی تصویر ہے۔یہ اپنی تعمیرات ، اپنی قدیم اور منفرد عمارتوں کے لحاظ سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ 

ان میں ایسی عمارتیں بھی شامل ہیں جہاں ٹاور بنا کر بڑے بڑے گھڑیال نصب کئے گئے۔ قدیم دورسے لے کر اب تک وقت کی اہمیت مسلمہ ہے ۔ ہر دور میں وقت جانچنے کے مختلف انداز رہے، جیسے جیسے زمانہ ترقی کرتا گیا، انداز بدلتے گئے ۔ قدیم دور میں لوگ چاند ، سورج ، ستاروں اورسیّاروں کی مدد سے وقت کا اندازہ لگایا کرتے تھے، جب وقت معلوم کرنے کا کوئی پیمانہ نہیں تھا تو دنیا بھر کے تمام مذاہب کے لوگوں نے وقت کا تعین سورج نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے طے کیا۔ 

وقت کے ساتھ ساتھ انسان نے وقت کے جانچنے کے لئے جدید طریقے اختیار کئے اور پھر ایک وقت آیا کہ وقت کے تعین کے لئے گھڑی ایجاد ہوئی لیکن یہ گھڑیاں اس قدر مہنگی تھیں کہ امراء بھی بمشکل اس تک رسائی حاصل کرپاتےتھے، کیونکہ انگریز کے دور میں وقت کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی تھی اسی لئے انہوں نے شہر بھر میں بننے والی عمارتوں میں گھڑیال نصب کرائے ،تاکہ لوگوں کو ان کی مدد سے وقت معلوم کرنے میں آسانی ہو۔

یہ گھڑیال جہاں انگریزوں کے دور حکومت اور عہد رفتہ کی یاد دلاتے ہیں وہیں اس دور کے فن تعمیر کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ 19 ویں صدی میں کراچی شہر کے مختلف علاقوں میں 13 گھنٹہ گھر تعمیر کئے گئے جو موجود تواب بھی ہیں لیکن ان میں سے بیشتر گھنٹہ گھر خراب ہیں اور صرف عہد رفتہ کی علامت کے طور پر موجود ہیں۔

شہریوں کے پاس اس وقت دستی گھڑیاں یا وال کلاک نہیں ہوتے تھے‘ نہ ہی ریڈیو اور ٹیلی وژن موجود تھا، اس لیے وقت جاننے کا واحد ذریعہ یہ گھنٹہ گھر ہی ہوا کرتے تھے۔ ان سے نکالنے والی مدہم اور سرولی آواز شہر میں دور دور تک سنائی دیتی تھی۔ جسے سن کر لوگ وقت کا تعین کرتے تھے ۔

یہ گھنٹہ گھر انگریزوں کے زمانے میں تعمیر کئے گئے تھے، وقت کے ساتھ ساتھ یہ گھڑیال خراب ہوچکے ہیں لیکن ان عمارتوں پر باقاعدہ موجود ہیں۔ ان کی سوئیاں اب بھی ماضی کا بھرپور پتہ دیتی ہیں۔ یہ گھڑیال ایمپریس مارکیٹ صدر‘ اولڈ کے ایم سی بلڈنگ ایم اے جناح روڈ‘ میری ویدر ‘ پونا بھائی ٹاور رنچھوڑ لائن‘ ایڈل جی ڈنشا ڈسپنسری صدر‘ ہولی ٹرینیٹی چرچ‘ سینٹ جوزف کالج ‘ ہوتی مارکیٹ رنچھوڑ لائن وغیرہ پرنصب ہیں۔

یہ جاذبِ نظر گھنٹہ گھر صرف شہر کی خوبصورتی اور شان و شوکت کا ہی باعث نہیں تھے بلکہ کراچی کا طرۂ امتیاز بھی تھے لیکن آج یہ پُرکشش عمارتیں جن میں یہ گھنٹہ گھر نصب ہیں مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث صرف ہمارا ماضی بن کر رہ گئے ہیں۔ زندہ قومیں اپنے ماضی کو یاد رکھتی ہیں یہی نہیں بلکہ اسے محفوظ بھی بناتی ہیں۔ لندن میں واقع گھڑیال’’ بگ بین‘‘ آج بھی درست حالت میں ہے اور لندن جانے والے سیاحوں کے لئے کشش کا باعث ہے۔ اسی طرح یورپ کے تمام ممالک میں موجود گھنٹہ گھرآج بھی درست وقت بتا رہے ہیں۔ آئیے کراچی میں موجود ان عمارتوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں، جن میں گھڑیال نصب ہیں ۔

ایمپریس مارکیٹ

صدر میں واقع ایمپریس مارکیٹ ایک خوبصورت عمارت ہے، اسے نامور انجینئر مسٹر جیمز اسٹریچن نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس کی تعمیر کا ٹھیکہ تین کنٹریکٹرز کو دیا گیا تھا ،جن کے نام مسٹر جے ایس ایٹفیلڈ‘ مسٹر ولی محمد جیون اور مسٹر ڈلو کیجو تھے۔ مارکیٹ کا سنگ بنیاد اس وقت کے گورنر سرجیمز فرگوسن نے 10نومبر 1884ء کو رکھا۔ یہ مارکیٹ ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں سرخ پتھروں سے تعمیر کی گئی اس عمارت کا کلاک ٹاور 140 فٹ کی بلندی پر واقع ہے جس کے چاروں اطراف گھڑیال نصب ہیں۔یہ کلاک ٹاور اسمتھ اینڈ سنز کمپنی نے بنایا تھا ۔

یہ گھنٹہ 132سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی اپنی خوبصورتی اورپختگی کے اعتبار سے بے مثال ہے۔ یہ گھنٹہ گھر اور مارکیٹ اپنی ابتداء ہی سے کراچی کی شناخت رہی ہے۔ ایمپریس مارکیٹ کی تعمیر پر اس زمانے میں ایک لاکھ پچپن ہزار روپے سے زائد رقم خرچ ہوئی تھی۔ 12مارچ 1889ء کو کمشنر سندھ مسٹر پریچرڈ نے اس کا افتتاح کیاتھا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ افتتاح کے بعد اس مارکیٹ میں کئی برس تک یہاں مقامی لوگوں کا داخلہ ممنوع تھا اور اگر کوئی مقامی شخص اس مارکیٹ میں داخل ہوجاتا تو اسے باقاعدہ سزا دی جاتی تھی۔ مارکیٹ کو باقاعدہ ڈیزائن بنا کر تعمیر کیا گیا تھا اس میں مختلف اشیاء کی 258دکانیں تعمیر کی گئی تھیں۔ عمارت کے اندر 46فٹ چوڑی چار گیلریاں ہیں۔ 

یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد اس عمارت کے سامنے والے حصے میں آزادی کی تحریک چلانے والے متعدد افراد کو پھانسی دی گئی تھی جس کے باعث یہ مقام پھانسی گھاٹ کے طور پر جانا جانے لگا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر 2018ء میں ایمپریس مارکیٹ کو اصل حالت میں بحال کیا گیا اور اس کے اطراف میں موجود تمام تجاوزات کو ختم کرکے اس کے اطراف پارک تعمیر کیا گیا ہے اور مارکیٹ کے اصل نقشے کے مطابق دوبارہ سے عمارت کی بحالی کا کام مکمل کیا گیا ہے جس سے اس عمارت کی خوبصورتی اور دلکشی میں اضافہ ہوا ہے ۔

کے ایم سی بلڈنگ

ایم اے جناح روڈ پر واقع بلدیہ عظمیٰ کراچی کی تاریخی عمارت 1932 ء میں تعمیر کی گئی اس وقت کے گورنر لارڈ سینٹ ہرسٹ اس عمارت کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ ابتدائی کاموں کی نگرانی کراچی میونسپلٹی کے چیف انجینئر میا شاملی نے کی۔ یہ عمارت 31دسمبر 1930کو پایہ تکمیل کو پہنچی ۔ اس کا افتتاح7جنوری 1932ء میں کراچی کے شہریوں نے مل کر کیا۔ 

ایم اے جناح روڈ پر واقع اولڈ کے ایم سی بلڈنگ کا گھنٹہ گھر برطانوی طرز تعمیر کا ایک حسین شاہکار ہے۔ اس ٹاور کا افتتاح’’ سرجیمز اسٹریچن‘‘ کے ہاتھوں ہوا بعد میں اس کا نام شہنشاہ جارج پنجم (King James V)کے نام پر رکھا گیا۔ ٹاور 105فٹ بلند ہے جس میں خوبصورت گھڑیال اپنی مسحور کن آواز والی گھنٹیوں کے ساتھ نصب ہے۔

دوسری منزل پر واقع چار منزلہ کلاک ٹاور کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ سوئیڈش الیکٹریکل کلاک کمپنی بمبئی نے یہ کلاک تیار کرکے اس عمارت میں نصب کیا تھا۔ کلاک ٹاور کے لئے ایک چکور کمرا ہے جس کی چوڑائی اور لمبائی 18 فٹ 6 انچ ہے جو کہ گھنٹہ گھر کا گرائونڈ فلور ہے، چھت کی اونچائی 24 فٹ 8 انچ ہے جس کے چاروں سمت میں دروازے ہیں ، اس گرائونڈ فلور کے وسعت میں لکڑی کا ایک سرکل بنا ہوا ہے جو کہ بعد میں بنایا گیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اگر انتہائی وزنی لوہے کی پلیٹیں جو اس گھڑیال کو چلاتی ہیں گر جائیں تو عمارت کی چھت کو نقصان نہ پہنچے۔ 

گرائونڈ فلور سے پہلی منزل پر جانے کے لئے ایک سیڑھی کمرے کی دیوار کے ساتھ اوپر جاتی ہے ، تقریباً17 سیڑھیاں اوپر کی جانب عبور کرنے کے بعد ایک مزید چھوٹا کمرے ہے جس کی لمبائی 4 فٹ 4 انچ اور چوڑائی 2 فٹ 3 انچ ہے۔اس کے بعد پھر 8 عدد سیڑھیاں چڑھنے کے بعد ایک لمبا دوسرا تختہ دیوار کے ساتھ لگا ہوا ہے جس کی لمبائی 12 فٹ ایک انچ اور چوڑائی 2 فٹ ایک انچ ہے۔ پھر 13 سیڑھیاں ہیں جو پہلی منزل پر لے آتی ہے یعنی 38سیڑھیاں چڑھنے کے بعد پہلی منزل آتی ہے اور دائرے کی شکل میں گھماتی ہوئی اوپر پہنچاتی ہے۔

اس گھڑیال کا ڈایہ 10فٹ ہے۔ اس کی مشینری چار منزلوں پر مشتمل ہے۔ یہ گھڑیال کشش ثقل نظام کے تحت کام کررہا ہے۔ اس میں وقت بتانے والے گھنٹوں کی گونج کئی کلو میٹر تک سنی جاسکتی ہے۔

گھنٹہ گھر کی گیلریاں جو کہ جنوب اور مغرب کی طرف واقع ہیں اس سے کلفٹن اور کیماڑی کا نظارہ دیکھا جاسکتا ہے۔کے ایم سی بلڈنگ کے ٹاور پر نصب گھڑیال کے اصل پرزے میں خرابی ہونے اور پرزے دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اسے مسلسل درست رکھنے میں خاصی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس کے باوجود اس گھڑیال کی درستگی کا عمل جاری رہتا ہے۔ دنیا کے مختلف ملکوں کے سفیر اور دیگر مہمانان جب کے ایم سی بلڈنگ میں میئر کراچی سے ملاقات کے لئے آتے ہیں تو اس گھنٹہ گھر کو دیکھنے کے لئے لازمی طور پر چھت پر جاتے اور انتہائی انہماک سے مینول طریقے سے چلنے والے اس گھنٹہ گھر کو دیکھتے ہیں۔

میری ویدر ٹاور

یہ ایم اے جناح روڈ اور آئی آئی چندریگر روڈ کے سنگم پر واقع ہے۔ اس کا ڈیزائن انجینئر جیمز اسٹریچن نے تیار کیا ۔ یہ ٹاور سرولیم میری ویدر کی یاد میں 1884ء میں تعمیر کیا گیا۔ اس کی بلندی 102فٹ ہے، جس میں چار جانب دیکھا جانے والا گھڑیال نصب ہے۔ اس کا قطر سات فٹ ہے۔ 70فٹ کی بلندی پر نصب ہے۔ اس میں ایک بڑی اور سات چھوٹی گھنٹیاں نصب ہیں جو بالترتیب گھنٹہ اور منٹ بتاتی ہیں۔ 

اس زمانے میں اس کی تعمیر پر 37ہزار 137روپے کے اخراجات آئے تھے۔ اس کی تاریخ 135 سال سے بھی زائدعرصے پر محیط ہے۔ 1992ء میں بلدیہ عظمیٰ کراچی نے اس ٹاور کی مرمت اور تزئین نو کا کام انجام دیا تھا۔ لوہے کی نئی گرلیں لگائی گئی تھیں ‘رنگ و روغن کیا گیا تھااور ٹاور کے ارد گرد ایک چھوٹا سا پارک بھی تعمیر کیا گیا تھا جہاں درخت لگائے گئے تھے، جبکہ ٹاور میں نصب گھڑی کی مرمت بھی کی گئی تھی۔

گھڑیال کی ساخت اور اندرونی نظام گوکہ خاصہ پرانا ہے لیکن بلدیہ عظمیٰ کراچی کے انجینئروں نے اس کی مرمت کا کام ممکن بنایا تھا۔ 1992ء میں گھڑیال کی مرمت پر ایک لاکھ پانچ ہزار روپے خرچ ہوئے تھے۔ اس وقت کے میئر نے نوتزئین شدہ میری ویدر ٹاور کا ایک رنگا رنگ تقریب میں باقاعدہ افتتاح کیا تھا۔ 2015ء میں ایک بار پھر اس ٹاور کی تزئین و آرائش کی گئی ہے، جسے اکتوبر 2015ء تک مکمل کیا گیا۔ اس کلاک کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا تھا جس کی نجی بینک دیکھ بھال کر رہا تھا لیکن ایک بار پھر میری ویدر ٹاور کا کلاک خراب ہوچکا ہے،جومرمت اور دیکھ بھال کا منتظر ہے۔

ایڈل جی ڈنشا ڈسپنسری کلاک ٹاور صدر

یہ کلاک ٹاور اطالوی فن تعمیر کا ایک دلکش نمونہ ہے لیکن دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث اس کا گھڑیال نہیں رہا۔ اس عمارت کا افتتاح 1882ء میں ایک خیراتی ڈسپنسری کی حیثیت سے ایڈل جی ڈنشا (Edulgee Dinshaw)کے ہاتھوں ہوا۔ اس وقت عمارت کی تعمیر پر بارہ ہزار روپے خرچ ہوئے۔ کُل رقم کا نصف جناب ایڈل جی ڈنشا نے ادا کیا تھا۔ وہ فلاح و بہبود کے کام بھی انجام دیا کرتے تھے اُن کی خدمات کے اعتراف میں اس ڈسپنسری کا نام اُن کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔

جعفر فدّو ڈسپنسری

یہ ڈسپنسری ٹاور کے قریب آغا خان جماعت خانہ کے مدمقابل اور مچھی میانی مارکیٹ کے قریب نواب مہتاب خان جی روڈ پر واقع ہے۔ یہ ایک دلکش ٹاور ہے جسے فدّو خاندان نے 1906ء میں بنوایا۔ اس ٹاور میں بھی گھڑیال نصب ہے اب اس ٹاور کے ساتھ میمن برادری نے ایک جدید اسپتال تعمیر کر دیا ہے لیکن ٹاور کی حیثیت کو برقرار رکھا گیا ہے۔ 1995ء میں اسپتال کی تعمیر کے وقت اس گھڑیال کو درست کیا گیا اور ٹاور کی بھی تزئین و آرائش کی گئی تھی ۔

پونا بھائی ممئیا کلاک ٹاور

یہ کلاک ٹاور (Poonabhai Mamaiya Clock Tower) 1899 ء میں تعمیر کیا گیا ، یہ ٹاور رنچھوڑ لائن کے علاقے میں ستارہ گوشت مارکیٹ سے ملحق واقع ہے۔ پونا بھائی ٹاور کو سفید اور نیلے رنگ کے ٹائل سے مزین کیا گیا ہے۔ اس علاقے میں راجستھان سے ہجرت کر کے آنے والے سلاوٹ برادری کے افراد زیادہ تر رہائش پذیر ہیں۔ 

پونا بھائی ٹاور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار ہے۔ 15فٹ بلندی پر نصب گھڑیال پچھلے دو سالوں سے بند ہے۔ اس ٹاور کو مینانگ (menang)خاندان کے پونا بھائی ممئیا نے تعمیر کروایا تھا۔

ہولی ٹرینیٹی چرچ

شہر کے اولین گرجا گھروں میں شمار ہونے والا ہولی ٹرینیٹی چرچ 1855 ء میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کی عمارت کو خوبصورت اور دلکش بنانے کے لئے خصوصی طور پر ایک گھنٹہ گھر بھی تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ چرچ فن تعمیر کی دلکش عکاسی کرتا ہے۔ پندرہ ایکڑ اراضی پر واقع ہیں۔ اسے کیپٹن جان ہل(Captain John Hill)نے ڈیزائن کیا ۔ تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ یہ ٹاور ایک زمانے میں لائٹ ٹاور کی حیثیت سے کراچی کی بندرگاہ پر لنگر اندا زہونے والے جہازوں کی رہنمائی بھی کرتا رہاہے۔

ڈینسو ہال

1886ء میں ایم اے جناح روڈ پر واقع ڈینسو ہال کا گھنٹہ گھر تعمیر کیا گیا تھا۔ عمارت کا نقشہ بھی جیمز اسٹریچن نے تیار کیا تھا ۔ عمارت کے اوپر نصب گھڑیال کو صرف ایم اے جناح روڈ سے ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ 2010ء میں ہیریٹیج فائونڈیشن نے ’’کے الیکٹرک‘‘ کے اشتراک سے اس عمارت اور کلاک کو صحیح کرنے کے لئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے تھے، گرچہ عمارت خاصی حد تک بہتر کردی گئی ہے لیکن کلاک تاحال مرمت نہیں کیا جاسکا۔

لی مارکیٹ

لی مارکیٹ کی عمارت پر بھی ایک کلاک نصب ہے یہ عمارت 1927ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ اسے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے انجینئر میشم لی کے نام سے منسوب کیا گیا تھا ، بعد میں یہ لی مارکیٹ کے نام سے مشہور ہوئی۔ مارکیٹ کے اطراف کے لوگوں نے 1976ء تک گھنٹہ گھر کی آواز سنی اور پھر یہ کی آواز خاموش ہوگئی ۔ لی مارکیٹ اب ایک انتہائی مصروف مقام ہے جہاں مختلفاشیاء کا کاروبار ہوتا ہے۔ کھجور مارکیٹ، آنکھوں کا تاریخی اسپتال اسپنسر آئی اسپتال ، ٹیمبر مارکیٹ بھی اس عمارت کے قریب ہی واقع ہیں۔

کیماڑی بلڈنگ ٹاور

کیماڑی سے منوڑہ جانے کے لئے جو عمارت بنی ہوئی ہے اس پر بھی ایک گھڑیال نصب ہے جو تاریخی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس ٹاور کے اطراف گھڑیال نصب ہیں، سمندر سے بھی گھڑیال کو دیکھا جاسکتا ہے ۔ ملک کے مختلف حصوں سے جو لوگ کراچی آتے ہیں اور سیر کی غرض سے منوڑہ جاتے ہیں انہیں یہ تاریخی گھڑیال کیماڑی پہنچنے پر خوش آمدید کہتا ہے۔

لکشمی بلڈنگ

ایم اے جناح روڈ پر واقع لکشمی بلڈنگ کے ٹاور پر بھی کلاک نصب ہے ، یہ عمارت 1924 ء میں تعمیر کی گئی ۔ 1924ء میں اس عمارت کو کراچی کی سب سے بلند عمارت ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ لکشمی بلڈنگ کے ٹاور کو نیویارک اور شکاگو کی بلند و بالا عمارت کی طرز پر بنایا گیا تھا۔ احمد رشدی کے گائے ہوئے مقبول نغمے بندرروڈ سے کیماڑی میری چلی رے گھوڑا گاڑی بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر میں بھی لکشمی بلڈنگ کا تذکرہ ہے۔ یہ عمارت ایک زمانے میں خاصی شہرت رکھتی تھی اور دوسرے شہروں سے کراچی آنے والے لوگ اس بلند و بالا عمارت کو دیکھنے جایا کرتے تھے۔ بعدازاں کراچی میں دیگر بلند عمارتیں تعمیر ہونے کے باعث اس کی بلندی کم ہوگئی ۔

شہر میں واقع تمام گھنٹہ گھر تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ گھنٹہ گھر اور عمارتیں شہر کی پہچان ہیں۔ ان کی مناسب دیکھ بھال اور ان پر توجہ انتہائی ضروری ہے، ورنہ یہ تاریخی ورثہ ضائع ہوجائے گا جو یقینا شہر کے لئے ایک المیہ ہوگا۔کراچی میں گاہے بہ گاہے اب بھی مختلف ٹاور بنا کر گھڑیال نصب کرنے کا رواج ہے۔ گزشتہ 20 سالوں میں تین مقامات پر باقاعدہ ٹاور بنا کر گھڑی نصب کی گئی، ان میں میٹرک بورڈ آفس کے قریب اے او کلینک نے سینٹرل آئی لینڈ میں ایک ٹاور بنا کر گھڑی نصب کی، تاکہ شہری آتے جاتے وقت دیکھ سکیں۔ 

14 اگست 2020 ء کو پولو گرائونڈ چوک پر مقامی بینک کے تعاون سے ٹاور بنا کر گھڑی نصب کی گئی، جس کا باقاعدہ افتتاح اس کے وقت ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل عمر احمد بخاری نے کیا۔ اسی طرح اگست 2021ء میں’’ ڈیفنس فیزI ‘‘کے چورنگی پر بھی ایک خوبصورت کلاک ٹاور بنایا گیا ہے ، رات کے وقت اس ٹاور پر روشنی کا انتظام بھی کیا گیا ہے،تاکہ شہریوں کو وقت دیکھنے میں آسانی ہو۔ نارتھ ناظم آباد فائیو اسٹار چورنگی پر واقع عمارت کے اوپری حصے میں بھی ایک گھڑیال نصب کیا گیا ہے جو دور سے ہی شہریوں کو نظر آتا ہے۔