• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کوے نے کہا :’’کوشش کرنے سے کچھ بھی ہو سکتا ہے، تم ابھی یہیں رُکو،ٍ اپنی سامان لانے کی ٹوکری لے کے آتا ہوں ۔۔۔‘‘

اتنا کہہ کر وہ پھر سے اُڑ گیا۔چند لمحوں بعد آیا تو اس کے پنجوں میں ایک بڑی سی ٹوکری تھی ۔میں سمجھ گیا وہ اسی ٹوکری میں اپنے گھر کے لیے سامان لینے نکلا تھا ۔

کوے نے کہا:’’ دھیان سے سنو بوڑھے بھالو ،تم اس ٹوکری میں بیٹھ جاؤ ۔۔۔میں اس کو لے کر اڑتے ہوئے نیچے جاؤں گا ،اور تم ٹوکری میں سے نکل کر تیزی سے بھاگ لینا، اس سے پہلے کہ مگر مچھ پانی میں سے واپس آئے ۔۔۔میں دیکھ رہا تھا کہ تم نے ا س کے منہ میں دانتوں اور مسوڑھوں کے درد کی دوا ڈا ل دی ہے۔ اس کا منہ جل گیا ہو گا ۔۔۔تم نے ٹھیک کیا اس کے ساتھ ۔۔۔ ایسے ظالم مگر مچھوں کے ساتھ ایسا ہی کرنا چاہیے ۔۔۔چلو جلدی کرو ،میری ٹوکری میں بیٹھ جاؤ ۔۔۔‘‘

میں جلدی سے کوے کی ٹوکری میں بیٹھ گیا۔

کوے نے ٹوکری کے ہینڈلوں کو اپنی چونچ میں مضبوطی سے پکڑا اور مجھے اٹھا کر اڑتے ہوئے نیچے آگیا۔

اس طرح ایک رحم دل کوے نے مجھے اونچے درخت سے اتارنے میں اہم کردار ادا کیا ۔

میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ کوئی کوا میرے کام آئے گا،مجھے مشکل سے بچائے گا،اونچے درخت سے اترنے میں میری اس طرح مدد کرے گا ۔وہ مجھے بہ حفاظت نیچے لے آیا تھا۔نیچے آتے ہی میں اس کی ٹوکری سے نکل کر باہر آگیا۔ کوا اس وقت تک میرے ساتھ ہی نیچے کھڑا رہا جب تک کہ میں نے اپنی چھڑی نہ ڈھونڈ لی ۔چھڑی ڈھونڈ کر ،سامان سنبھال کر جب میں وہاں سے چلنے کے لیے تیار ہو اتونیک ،رحم دل کوا کچھ دیر تک جنگل میں میرے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔اس سے پہلے کہ مگر مچھ پانی میں سے واپس آتا ہم باتیں کرتے ہوئے ندی کے کنارے سے دور نکل گئے ۔کوا بھی میرے ساتھ ساتھ چل رہا تھا ۔

اس نے ایک خطرناک مگر مچھ کے منہ کا نوالہ چھین لیا تھا۔وہ چاہتا تھا کہ میں کسی محفوظ مقام تک پہنچ جاؤں تاکہ وہ سکون سے وہاں سے روانہ ہو ۔

کچھ دور چلنے کے بعد میں سستانے کے لیے ایک بڑے پتھر پہ بیٹھ گیا۔کوا ابھی تک میرے ساتھ تھا۔اس نے مجھ سے پوچھا:

’’ بھائی بھالو اپنا نام بتائیں۔۔۔؟‘‘

میں نے سکون کا سانس لیتے ہوئے کہا:

’’ میرا نام تو کچھ اور ہے، مگر سب مجھے خالو بھالو کہتے ہیں ۔۔۔‘‘

’’ خالو بھالو ۔۔۔؟‘‘

’’ ہاں ۔۔۔خالو بھالو ۔۔۔‘‘

’’ لیکن آپ یہاں قریب کے تو نہیں لگتے،کبھی دیکھا نہیں یہاں آپ کو ۔۔۔کہاں سے آرہے ہیں ۔۔۔کہاں جا رہے ہیں ۔۔۔کائیں کائیں کائیں ۔۔۔‘‘

میں نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے جواب دیا:’’ بھائی کوے،یوں سمجھو، میں اپنا نصیب تلاش کرنے نکلا ہوں، ڈاکٹر چوہا نے کہا ہے کہ میرا گٹھیا کا مرض اب قسمت سے ہی ٹھیک ہو سکتا ہے، مجھے ایک طویل سفر کرنا ہے،کوئی چمتکار تلاش کرنا ہے جس سے میں اپنے اس دائمی مرض سے نجات حاصل کرسکوں،ابھی مجھے سفر شروع کیے زیادہ وقت نہیں گزرا،مگر بہت کچھ دیکھ چکا ہوں میں، بہت عجیب واقعات پیش آچکے ہیں میرے ساتھ ۔۔۔‘‘

کوے نے نرم دلی سے کہا:’’ بہت اچھی بات ہے ۔میری دُعا ہے کہ کوئی چمتکار آپ کو مل جائے ۔ خوش قسمتی سے آپ کو اپنے مرض سے نجات مل جائے ۔یہ بتائیں رات کہاں بسر کریں گے،کہاں آرام کریں گے،کوئی جگہ ہے آپ کے پاس جہاں آپ رات سکون سے گزارپائیں ۔۔۔کائیں کائیں کائیں ۔۔۔؟‘‘

میں نے انکار میں سر ہلادیا۔

اب تک جس قسم کے حالات سے میں گزرا تھا۔اس بارے میں تو سوچنے کا موقع ہی نہیں مل سکا تھا ۔اب رحم دل کوے نے استفسار کیا تو میں سوائے انکار میں گردن ہلانے کے کچھ اور نہ کر سکا ۔

کوے نے تسلی دیتے ہوئے کہا:’’ پریشان ہو نے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ویسے تو میں آپ کو اپنے گھونسلے میں بھی مہمان بنا سکتا تھا،لیکن میرا گھونسلہ بہت اونچے درخت پہ ہے،وہاں تک پہنچنا آپ کے لیے بہت مشکل ہو گا،ہاں البتہ جس درخت پہ میرا گھر ہے اس درخت کے نیچے ایک بڑی سی کھوہ ہے،آپ اس کھوہ میں آرام سے رات بسر کر سکتے ہیں،جب تک چاہیں وہاں رہ جائیں ۔۔۔کائیں کائیں کائیں ۔۔۔‘‘

کھو ہ کا سنتے ہی میرے جسم میں ایک سرد سی لہر دوڑ گئی۔میںنے جلدی سے پوچھا:’’ کھوہ ۔۔۔جیسی ریچھ کی کھوہ ہوتی ہے ۔۔۔؟‘‘

’’ ریچھ کی کھوہ نہیں ہوتی ۔۔۔ریچھ کا بھٹ ہو تا ہے ۔۔۔لیکن آپ فکر نہ کریں خالو بھالو ۔۔۔وہ کھوہ کسی ریچھ کے ہٹ سے چھوٹی نہیں ہے ۔۔۔آپ سکون سے وہاں جائیں ۔۔۔کائیں کائیں کائیں ۔۔۔‘‘

میں نے کسی خدشے کے تحت پوچھا:’’ اچھا ۔۔۔اس میں کوئی ریچھ تو نہیں رہتانا ۔۔۔؟‘‘

کوے نے انکار کے انداز میں اپنی چونچ ہلاتے ہوئے کہا:’’ نہیں نہیں خالوبھالو،وہاں کوئی ریچھ نہیں ہے، بہت محفوظ جگہ ہے،آپ سکون سے رہ سکتے ہیں اس میں ۔میرے ساتھ چلیں اور وہاں سکون سے سوجائیں ۔۔۔کائیں کائیں کائیں ۔۔۔‘‘

کوا مجھے اپنے ساتھ لے گیا۔اس کا گھونسلہ ندی سے کچھ فاصلے پر تھا۔

اس نے مجھے درخت کے ساتھ وہ کھو دکھائی جو اس نے میرے لیے منتخب کی تھی ۔واقعی اچھی اور محفوظ جگہ تھی ۔

میں نے وہ رات اس کھوہ میں سکون سے سوتے ہوئے گزاری ۔وہاں نرم پتوں کا بستر تھا جس پہ لیٹتے ہی گہری نیند آگئی تھی،پھر صبح ہی کو میری آنکھ کھلی ۔بیدار ہوا تو میرا دوست کوا میرے لیے ناشتہ لے آیا۔ہم نے ایک ساتھ ناشتہ کیا، اس کے بعد میں چمتکار کی تلاش میں ایک بار پھر نکل پڑا ۔

میرا سفر ایک بار پھر جنگل کے وسط میں شروع ہو گیا تھا۔میں بہت زیادہ دور نہیں گیا تھا کہ جنگل بے حد گھنا ہونے لگا۔جنگل کا یہ حصہ قدرے تاریک بھی تھا۔بہت کم روشنی نیچے تک پہنچ رہی تھی ۔اچانک مجھے درختوں کی چھال سے بنا ہوا ایک گھر دکھائی دیا۔

میں دھیرے دھیرے چلتے ہوئے اس گھر کے قریب پہنچا تو وہاں ایک تختے پر لکھا ہوا تھا :

’’ اگر بہت زیادہ حیران ہو نا چاہتے ہو تو دروازہ کھولو اور اندر آجاؤ ۔۔۔‘‘

میں چونک کر رک گیا۔حیران ہونے کا مطلب میری سمجھ میں نہیں آیا ۔ سوچنے لگا کہیں یہی تو وہ جگہ نہیں جہاں مجھے کوئی چمتکار مل سکتا ہے، اور میں حیرت انگیز طور پر اپنے گٹھیا کے مرض سے چھٹکارا پا سکتا ہوں۔۔۔‘‘

یہ خیال آتے ہی میرا دل خوش ہو گیا۔میں تیزی سے آگے بڑھا اور ابھی دروازہ کھولا ہی تھا کہ مجھے کسی کی آواز سنائی دی۔کسی نے چلاکر کہا تھا :

’’خالو بھالو ۔۔۔اندر مت جاؤ ۔۔۔اندر نہ جاؤ خالو بھالو۔۔۔‘‘

میں وہیں رک گیا ۔حیرانی سے پلٹ کر دیکھا تو چونک گیا ۔وہاں کچھ فاصلے پر گلہری کا بیٹا ’’جوجو گلہرا‘‘ موجود تھا، اسی نے مجھے چلا کر خبر دار کیا تھا۔ میں سمجھ گیا کہ اس گھر میں میرے لیے کوئی خطرہ ہے۔گلہری کا بیٹا جوجو دور دور جنگلوں میں دوڑتا پھرتا تھا۔ضرور وہ اس گھر کے خطرے سے آگا ہ تھا۔ میں نے پلٹ کر بھاگنے کی کوشش کی ،مگر افسوس ۔اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔

میں بھاگا تو ضرور مگر دروازے سے دور نہ جا سکا۔

کھلے دروازے میں سے ایک بھیانک اور بڑا سا پنجہ پلک جھپکتے ہی باہر آیا اور مجھے پکڑ لیا۔ساتھ ہی ایک غراتی ہوئی۔چیختی ہوئی آواز سنائی دی :’’ اب نہیں بھاگ سکتے،میں نے پکڑ لیا ہے تمہیں، میری گرفت سے نہیں نکل سکتے،چلو اب اندر آجا ؤ،شاباش ۔۔۔‘‘

اگلے ہی لمحے مجھے گھر کے اندر کھینچ لیا گیا۔

زور دار آواز میں دروازہ ایک جھٹکے سے بند ہو گیا۔

میں گھر کے اندر تھا اور باہر گلہری کا بیٹا ،جوجو گلہرا کھڑا رو رہا تھا۔

اب کیا ہوگا؟ انتظار کریں اگلے ہفتے تک۔