• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’آٹزم‘ بچوں کی ایک پریشان کن ذہنی کیفیت کا نام ہے۔ یہ ذہنی ناہمواری کی وہ کیفیت ہے جو ایک تخمینے کے مطابق ہر 10ہزار میں سے 15 بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ بچپن میں ہونے والا آٹزم تین ذہنی روّیوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اس کے تحت سماجی رابطے قائم کرنے، زبان سیکھنے اور خود سے کھیل کھیلنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ آٹزم ایک اسپیکٹرم سینڈروم (Spectrum Syndrome) ہے، جس سے یہ مراد لی جاسکتی ہے کہ ضروری نہیں کہ اس میں مبتلا دو بچے یکساں کیفیت ظاہر کریں بلکہ آٹزم کی شدت کی مختلف رینج ہوتی ہیں یا یہ ایک کیفیت کے بجائے مختلف کیفیات کا مجموعہ ہوتا ہے اور اس کی شدت ہر بچے میں مختلف روّیے کی صورت ظاہر ہوسکتی ہے۔ 

لہٰذا آٹزم کی تشخیص والے دو بچے انتہائی مختلف کیفیات کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ آٹزم موجودہ زمانہ میں زیرِبحث ایک اہم موضوع ہے، جس کی نشاندہی سب سے پہلے ڈاکٹر لوکیز نے 1943ء میں کی تھی۔

ہوسکتا ہے کہ ذاتی زندگی کے تجربات میں آپ نے بھی کچھ ایسے بچوں کودیکھا ہو کہ جن کا روّیہ آپ کو ذرا مختلف لگا ہو، مثلاً آپ اس سے بات کررہے ہوں اور وہ بظاہر آپ کی طرف دیکھ رہا ہو مگر اس کی آنکھوں میں خالی پن ہو۔ دراصل وہ آپ کو دیکھ نہیں رہا ہوتا، اس کے گرد اپنی دنیا کا ایک دائرہ ہوتا ہے، آپ چاہے اس کے قریب بھی ہوں مگر آسانی سے اس کی دنیا میں داخل نہیں ہوسکتے۔ آٹزم کے ساتھ بچے کی پرورش بہت ساری خوشیوں اور دلچسپیوں کے ساتھ ہوسکتی ہے ، لیکن اس میں بہت سارے چیلنجز بھی ہیں۔ بہت سے والدین کے لیے ان میں سب سے بڑا چیلنج اپنے بچے کے ساتھ بات چیت کرنا سیکھنا ہے۔

اسپیچ لینگویج پتھالوجسٹ سوسن برکووٹز کہتی ہیں، ’’آٹزم میں مبتلا 25سے 40فیصد بچوں میں غیر روایتی بات ہوتی ہے اور وہ بھی اس پر منحصر ہے کہ آپ بچے کی بات کس قدر سنتے یا سمجھتے ہیں‘‘۔ وہ بتاتی ہیں، آٹزم زیادہ تر زبان کی خرابی ہوتی ہے اور متاثرہ بچوں کو یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ اپنی بات کیسے کہی اور سمجھائی جائے۔ بہت سے بچے کچھ زبانی مہارت رکھتے ہیں، لیکن ان کی گفتگو کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہ مہارت کافی نہیں ہوتی۔ والدین ، خاص طور پر مائیں، اگر وہ بنیادی نگہداشت کرنے والی ہیں، تو ان کے لیے یہ مشکل حوصلہ شکنی اور مایوسی کا باعث ہوسکتی ہے۔

نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ آٹزم سے متاثرہ چھوٹے بچوں کی زبان اور مواصلات کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں ایک مؤثر طریقہ معاون ثابت ہوسکتا ہے،جسے Pivotal Response Treatmentیا مختصراًPRTکہتے ہیں۔ یہ تھراپی کھیل پر مبنی ہے، جس میں بچے کی دلچسپی بڑھانے کے لیے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ سیکھنے کے دوران بچے کی حوصلہ افزائی ہوتی رہے۔ اس سے یہ امکان بڑھتا رہتا ہے کہ بچہ علاج سے ہٹ کر بات چیت کے لیے اپنی صلاحیتیں بے ساختہ استعمال کرنے لگے۔ PRT میں بچے سےبات کرنے کیلئے اس کی اپنی ترغیب پر انحصار کرنا ہوتا ہے کہ وہ کیا چاہتاہے۔

مثال کے طور پر ، اگر لگتا ہے کہ بچہ زمین پر کسی کھلونے میں دلچسپی ظاہر کررہا ہے تو والدین یا تھراپسٹ اس کھلونے کا نام استعمال کرکے بچے کو نام دہرانے کی ترغیب دیں گے۔ جب بچہ ایسا کرتا ہے تو، اس کے بدلے اس کو کھلونا کھیلنے کو دے دیا جاتاہے۔

ایک ایسا بچہ جو تربوز سے محبت کرتا ہے ،اگر اسے تربوز کی پیشکش کی جائے تو وہ اپنی کوشش اور مہارت کو فطری طور پرزیادہ شدت سے سامنے لائے گا، لیکن اگر آپ اسے انگور پیش کریںگے تو اس کیلئے یہ ترغیبی نہیں ہوگا۔اسی لیے بچے کی حوصلہ افزائی اور ترغیب کیلئے اسے وہ چیزیں دی جائیں یا ایسی باتیں کی جائیں ،جن میں وہ دلچسپی رکھتاہے ۔ اگر یہ بات آٹزم والے بچوں کے والدین کو سمجھ میں آجائے تو وہ اپنے بچے کی گفتگو کی نشوونما کو بہتر بنانے میں مدد کرنے کیلئے بہت کچھ کرسکتے ہیں۔

اس مطالعے کے مقاصد حاصل کرنےکے لیے شرکاء نے پہلے 12ہفتوں تک 10گھنٹے ہفتہ وار تھراپی کی۔ والدین کو ہر ہفتے ایک گھنٹہ کی تربیت ملی کہ گھر میں تھراپی کو کس طرح استعمال کیا جاسکتاہے۔ اگلے12ہفتوں کے دوران ، بچوں کو ہفتہ وار پانچ گھنٹے کی تھراپی کروائی گئی۔

ماہرین کے مطابق ، بچوں کو گفتگو سکھانے والی اس قسم کی تھراپی بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ جب بالغ افراد تھراپی کے اہداف مقرر کرتے ہوئے بچے کو کھیل کھیل میں ہدایات دیتے ہیں تو بچہ مطالبات سے بچنے کے لیے مزاحمت کرسکتا ہے یا اختلافی رویے کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔ ماہرین وضاحت کرتے ہیں کہ تھراپی میں بچے کی دلچسپی بڑھانے کے لیے اس بات کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ سیکھنے کے دوران بچے کی مسلسل حوصلہ افزائی ہوتی رہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ جب بچہ اپنی پسند کی چیزوں کے بارے میں بات چیت کرنا سیکھتا ہے تو ان مہارتوں کا علاج کے سیاق و سباق سے ہٹ کر بے ساختہ استعمال کرنے کا امکان ہوتا ہے۔ امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹریکس (اے اے پی) کی ترجمان اور نیورو ڈویلپمنٹل پیڈیاٹریشن ڈاکٹر لیزا شیلمن کہتی ہیں ،’’ والدین اور آٹزم والےبچے کے مابین باہمی تبادلے کا فقدان تعلقات پر خاص اثر ڈال سکتا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب بچے کی بات چیت کرنے کی صلاحیت انتہائی محدودہو‘‘۔

اس کے علاوہ ایک اور نئی تحقیق آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر (ASD) بچوں کی زبان کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد دینے کے لیے بہترین ثابت ہوسکتی ہے۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں نفسیات اور طرز عمل سائنس کے کلینکل ایسوسی ایٹ پروفیسر گریس گینگوکس کی سربراہی میں ہونے والے اس مطالعے میں2سے 5سال کی عمر کے 48بچوں کو شامل کیا گیا ، ان سبھی میں آٹزم کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ زبان کے استعمال میں تاخیر کا شکار تھے۔

ان بچوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک کو PRT کےتحت رکھا گیا جبکہ دوسرے گروہ کو مطالعے کے آغاز سے قبل والے علاج پر ہی رکھا گیا۔ مطالعہ کے اختتام تک ، PRT گروپ میں شامل بچے مطالعے کےدوسرے بچوں سے زیادہ بول رہے تھے۔ وہ جو الفاظ استعمال کر رہے تھے، دوسروں کو بھی سمجھ میں آرہے تھے۔