• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آسکر ایوارڈز،’انٹرنیشنل فیچر فلم‘ کیٹیگری کیلئے مشرق وسطیٰ سے بھیجی گئیں فلمیں

لاس اینجلس (مانیٹرنگ ڈیسک)آسکرز یا اکیڈمی ایوارڈز کی94ویں تقریب 27مارچ 2022کو ہو گی، جس کی ’انٹرنیشنل فیچر فلم‘ کیٹیگری کے لیے 93 فلموں کے نام جمع کروائے گئے ہیں۔ ان میں سے 15 فائنلسٹ کے ناموں کا رواں برس 21 دسمبر کو اعلان کیا جائے گا،جبکہ نامزد ہونے والی پانچ فلموں کے ناموں کا اعلان 8 فروری 2022 کو ہو گا۔ مشرق وسطیٰ کی جمع کروائی جانے والی فلموں میں مراکش کی فلم کاسابلانکا بیٹز فلم ہدایت کار کے اپنے بچپن کے بارے میں ہے۔فلم ’دا سٹرینجر‘فلسطینی ہدایتکار امیر فاخر ایلڈن کی پہلی فلم ہے جو ایک غیر لائسنس شدہ ڈاکٹر کی کہانی ہے جو شام میں جنگ کے دوران ایک زخمی آدمی سے ملتا ہے۔ ’ہیلیوپولس‘ الجزائری ڈرامہ فلم 8 مئی 1945 کے حقیقی واقعات پر مبنی ہے، جب فرانیسی نوآبادیاتی فورسز نے الجزائر کے شہر گیلما میں ہزاروں شہریوں پر حملہ کیا تھا۔تیونس کے فلم ساز عبدالحامد باؤچنک کی فلم’ گولڈن بٹرفلائی‘ معیز نامی ایک پولیس والے کی کہانی ہے جو ایک لڑکے سے ملتا ہے، جس کے ساتھ وہ ایک سفر پر نکلتا ہے۔ یہ سفر کچھ حد تک حقیقی اور کچھ تصوراتی ہے۔عراقی ہدایت کار حیدر راشد کی فلم ’یورپا‘میں مقامی فوجی ترک بلغاریائی سرحد پر تارکین وطن پر بے رحمی سے حملہ کر رہے ہیں۔ یہ دو برس میں عراق کی طرف سے آسکرز کے لیے بھیجی جانے والی پہلی فلم ہے۔ منیا اکل کی پہلی فلم ’کوسٹا براوا، لبنان‘ مستقبل قریب کے لبنان میں موسمیاتی بحران کے دنوں کی عکاسی کر رہی ہے۔اصغر فرہادی کی فلم ’اے ہیرو‘ شامل ہے۔

دل لگی سے مزید