• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مرضی کے کھلاڑی ملے کھل کر فیصلے کئے، بابر ورلڈ کپ کے فاتحانہ اختتام کیلئے پرعزم

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شاندار آغاز کے بعد اب اس کا فاتحانہ اختتام کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کے خلاف سیمی فائنل میں جیت کے تسلسل کو برقرار رکھیں گے ٹورنامنٹ میں اچھاآغاز ہوا ، تمام میچ جیتے، اختتام بھی اچھے نوٹ پر کرنا چاہتا ہوں، سب کھلاڑیوں نے بڑی اچھی کارکردگی دکھائی ہے، ورلڈکپ میں میں نے ٹیم انتظامیہ سے جو کھلاڑی مانگے تھے وہ ملے جس کی وجہ سے کھل کر فیصلے کیے، اس ٹیم کی اچھی بات یہ ہے کہ ہر میچ میں نیا کھلاڑی مین آف دی میچ ہوتا ہے، بحیثیت کپتان یہ میرے لیے اچھی بات ہے کہ سب اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ موجودہ ٹیم کے 8 سے 10 کھلاڑی وہی ہیں جو چیمپئنز ٹرافی اسکواڈ کا حصہ تھے۔ ٹورنامنٹ میں جتنے بھی میچ ہوئے سب کھلاڑیوں نے اپنا سو فیصد دیا ہے۔ کارکردگی میں مستقل مزاجی آئی ہے اس کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ کپتانی کی ذمہ داری لی ، سب نے اعتماد دیا، اس وجہ سے فیصلے کرنے میں آسانی ہوئی، کپتانی سیکھ رہا ہوں اور یہ عمل جاری رہے گا۔ منگل کو دبئی سے ورچوئل پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ بحیثیت کپتان حسن علی کو باہر نہیں کرسکتا، حسن کو ایسے وقت پر کم بیک کرنے کی ضرورت ہے اور وہ ضرور کم بیک کرے گا ۔ پاور پلے میں کبھی کنڈیشن تو کبھی حکمت عملی کے ساتھ تیز رنز نہیں بنتے، اچھی بات ہے اگر ابتدائی بیٹرز جلد آؤٹ ہوجائیں تو مڈل آرڈر اسکور کررہا ہے۔ جیت کے باوجود معمولی خامیاں موجود ہیں۔ کبھی بیٹنگ کبھی بولنگ تو کبھی فیلڈنگ میں کمزوریاں دکھائی دیں، اچھی بات ہے کہ ان کمزوریوں کو دور کررہے ہیں آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ تینوں شعبوں میں سو فیصد کاکردگی دکھائی جائے۔ کچھ نہ کچھ کمزوریوں رہتی ہیں ۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے آغاز سے ٹیم نے اچھا کھیلا ہے، محنت کا نتیجہ مل رہا ہے۔ دبئی میں پاور پلے کے اوورز میں 35 سے40 رنزبنتے ہیں، اس دوران کوشش رہی کہ کوئی وکٹ نہ گرے تاکہ بڑے اسکور تک جاسکیں۔ فخر زمان کی کارکردگی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر بابراعظم نے کہا کہ کسی بھی میچ میں 11کے11 لڑکے پرفارم نہیں کرسکتے، فخر زمان ایسا کھلاڑی ہے جو میچ ختم کرسکتا ہے، اور کرے گا۔ وہ بڑے میچ کا کھلاڑی ہے۔