• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری، روڈ پر تعمیرات ہوگئیں، کارروائی کیوں نہیں کی، ہائی الرٹ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس ظفر احمد راجپوت اور جسٹس محمد فیصل کمال عالم پر مشتمل بینچ نے انڈا موڑ نارتھ کراچی روڈ پر غیر قانونی تعمیرات نہ گرانے پر سینئر ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے، درخواست کی سماعت پر درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ قبضہ مافیا نے روڈ پر 90 سے زائد مکانات بنادیئے ہیں، غیر قانونی تعمیرا ت نہ گرانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا ، جسٹس ظفر احمد راجپوت نے ریمارکس میں کہاکہ روڈ پر تعمیرات ہوگئیں ، آپ نے کارروائی کیوں نہیں کی؟ کے ایم سی کے وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ روڈ کے ایم سی کا ہے مگر تعمیرات کے ڈی اے اور سندھ کچی آبادی کے بھی دائرہ اختیار میں آتا ہے، اگر عدالت جوائنٹ آپریشن کا حکم دے تو مشترکہ کارروائی ہوگی، عدالت نے ریمارکس میں کہاکہ آپ دوسرے اداروں پر ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں؟ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے ریمارکس میں کہاکہ قانون کیوں بنا ہے؟ ادارے اور دفاتر کیوں بنائے ہیں؟ کیا غیر قانونی تعمیرات کیخلاف کارروائی کیلئے عدالتی حکم کی ضرورت ہے؟ ۔کے ایم سی کے وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیاکہ ہم آپریشن کریں گے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تعاون کی ہدایت کی جائے، عدالت نے حکام کو رپورٹ سمیت 16 نومبر کو پیش ہونے کا حکم دیدیا ہے۔