• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈس ایبلٹی بینیفٹس دینے سے انکار، انتہائی بیماری کے بینیفٹس ایوارڈز کو چیلنج کرنے والے 100 افراد چل بسے

لندن (پی اے) انتہائی بیماری کے بینیفٹس ایوارڈز کو چیلنج کرنے والے سو افراد چل بسے۔ تقریباً سو افراد کو انتہائی بیماری کے فاسٹ ٹریکڈ ڈس ایبلٹی بینیفٹس سے انکارکردیا گیا تھا اور وہ فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے چل بسے۔ اس وقت اس صورت میں مریض زیادہ جلد بینیفٹس تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں، اگر ان کے ڈاکٹرز یہ کہیں کہ وہ6ماہ یا کم مدت زندہ رہیں گے۔ جولائی میں حکومت نے اس مدت کو12ماہ تک توسیع دینے کا وعدہ کیا تھا۔ ناقدین نے اسے کافی قرار نہیں دیا تھا۔ ڈیپارٹمنٹ فار ورکس اینڈ پنشنز نے کہا ہے کہ ہماری ترجیح لوگوں کے کلیمز سے جلد اور دردمندی سے نمٹنا ہے۔ اینڈ آف لائف چیریٹی میری کیوزی نے کہا ہے کہ اسے ڈیپارٹمنٹ کی صورت حال کو تسلیم کرنے میں اہلیت کے بارے میں خدشات ہیں، جب کلیمز داخل کرنے والا زندگی کے اختتام پر پہنچ رہا ہو اور اسے سپورٹ کی شدید ضرورت ہو۔ چیریٹی کے ڈائریکٹر آف پالیسی اینڈ ریسرچ ڈاکٹر سام روٹسٹن نے کہا ہے کہ اگر لوگ اپنی اپیلوں پر فیصلے سے قبل مر جائیں تو اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ وہ طویل یا انتہائی بیماری سے دوچار ہوں۔ ان میں سے بہت سارے لوگوں کو فاسٹ ٹریکڈ رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ اس وقت اونچی شرح پر مریض فاسٹ ٹریکڈ بینیفٹس تک رسائی اسپیشل رولز فار ٹرمنل النس کے تحت درخواست دے کر حاصل کرسکتے ہیں، انہیں اپنے ڈاکٹر کے دستخط شدہ فارم داخل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں کہا گیا ہو کہ وہ ممکنہ طور پر6ماہ کے اندر چل بسیں گے۔ ڈیپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے درخواست دی ان میں اکثریت نے ممکنہ اعلیٰ ترین ایوارڈ حاصل کیا اور انہیں کلیم داخل کرنے کے تین دن کے اندر ادائیگی کی گئی۔ تاہم چیرٹیز نے کہا ہے کہ نظام بگڑ چکا ہے۔ دی موٹر نیورون ڈزیز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ اس بیماری میں مبتلا فرد کی صحت کے بگاڑ کے بارے میں پیش گوئی نہیں کی جاسکتی، جس کا مطلب یہ ہے کہ نیورو لوجسٹوں کے لیے یہ بتانا مشکل ہے کہ زندگی کب ختم ہوجائے گی۔ ایسوسی ایشن کی ہیڈ آف پالیسی اینڈ کمپنیز سوسی رابن نے کہا ہے کہ اس صورت حال میں اسپیشل رولز کے تحت لوگوں کے بینیفٹس تک رسائی میں مشکل ہے۔ کلینیکل لیڈ فار پلٹسٹس اور اینڈ آف لائف کیئر فار دی رائل کالج آف جی پیز ڈاکٹر کیتھرائن سینڈرز نے کہا کہ ڈاکٹر اب بھی اس بارے میں درست طور پر معلوم کرنے میں بے یقینی کا شکار ہیں کہ کوئی شخص کتنا عرصہ زندہ رہے گا۔ متاثرہ خاندانوں اور چیرٹیز کا کہنا ہے کہ موجودہ عمل پیچیدہ اور دبائو ڈالنے والا ہے اور یہ واضح نہیں کہ اصلاحات کب کی جائیں گی۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مزید آگے جائے اور انتہائی بیماری کے بینیفٹس پر موجود لوگوں کے ہر تین سال پر دوبارہ اندازہ لگانے کی شرط ختم کرے۔

یورپ سے سے مزید