• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عتبہ حامد

فیضان بہت لاپروا لڑکا تھا۔ وہ نویں جماعت میں پڑھتا تھا، وہ جہاں بیٹھتا وہیں اپنی چیزیں چھوڑ کے اْٹھ جاتا ، بعد میں اس کی امی اس کی چیزیں سنبھال کے رکھتی تھیں اور اسے سمجھاتیں۔ بابا کی ڈانٹ بھی سنتا رہتا تھا۔ چونکہ اسے ابھی تک کوئی نقصان نہیں ہوا تھا ،اس لیے اسے اپنی اس لاپروائی کی عادت کا احساس نہیں تھا۔

نویں کے امتحان سے ایک دن پہلے اُس نے اپنے والد سے کہا، ’’بابا مجھے اچھی طرح یاد ہے دو دن پہلے میں نے اپنا ایڈ مٹ کارڈ یہیں ٹیبل پر رکھا تھا، کل رات تک یہیں تھا‘‘،اس نے جھنجھلا کر ٹیبل پہ مکا مارا۔’ اس کے بابا نے غصے سے اسے دیکھا۔

’’بابا میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں۔ کل صبح پیپر ہے ایڈ مٹ کارڈکے بغیر مجھے امتحانی ہال میں داخل ہی نہیں ہونے دیا جائے گا ، میں سارا گھر دیکھ چکا ہوں لیکن کہیں نہیں مل رہا‘‘، وہ پریشانی سے روپڑا۔ فیضان اور اس کے والد گھر میں اکیلے تھے۔ اس کی امی کسی عزیز کی عیادت کے لیے دوسرے شہر گئی ہوئی تھیں۔ ’’امی آپ کہاں ہیں؟ آکے میری مدد کریں ورنہ میں کل کیا کروں گا‘‘۔وہ ماں کو یاد کر کے رو پڑا جو اُس کی چیزیں سنبھال کر رکھتی تھیں۔

’’کتنی دفعہ سمجھایا تھا کہ اپنی چیزیں سنبھال کے رکھا کرو لیکن نہیں، وہ فیضان ہی کیا جو ماں باپ کی کوئی نصیحت سنے‘‘۔بابا نے غصے سے کہا۔

ایڈمڈ کارڈ گم ہوجانے پر پریشان تو وہ بھی ہوگئے تھے لیکن بیٹے کی لاپروائی کی عادت پر انہیں غصہ بھی بہت آرہا تھا۔ ’’سارا گھر چیک کرلیا ہے، ڈسٹ بن چیک کرلیا ہے یا نہیں؟ تمہاری امی گھر پہ ہوتی ہیں تو وہ تمہاری ادھر اْدھر بکھری ساری چیزیں سنبھال کے رکھ دیتی ہیں۔ کیا پتا ان کی غیرموجودگی میں ماسی نے تمہاررا کارڈ کو فالتو کاغذ سمجھ کر ڈسٹ بن میں پھینک دیا ہو‘‘؟۔ باپ کی بات سن کر وہ صحن کے کونے میں رکھے ڈسٹ بن کی طرف بھاگا۔ کچرے سے بھرے ڈسٹ بن کو دیکھ کر وہ جھجکا، مسکین صورت بنا کر باپ کی طرف دیکھا۔

’’ جو بھی کرنا خود کرنا ‘‘، باپ کے صاف جواب پر ہچکچاتے ہوئے ڈسٹ بن میں ہاتھ ڈالا تو صبح کی استعمال شدہ چائے کی پتی نے اس کے صاف ہاتھوں کا استقبال کیا۔ کل کے کھائے کیلوں کے چھلکے جو وہ صحن کی ٹیبل پہ ہی چھوڑ کے اْٹھ گیا تھا ان چھلکوں اور دوسرے کچرے نے اس کے ہاتھوں کو خراب کر دیابلاآخرکارڈ اس کے ہاتھ لگ گیا۔ مٹی اور دوسرے کچرے سے خراب ہوگیا تھا، اسے کام والی پر بہت غصہ آرہا تھا۔

تم اپنی لاپروائی سے سبق ‘سیکھو، باپ نے فضان کوسرزنش کی۔ ماسی کو کیا پتاکہ ادھر اْدھر پڑی یہ چیزیں ہمارے لیے کتنی اہم ہیں۔ یہ تمھاراا فرض ہے کہ اپنی چیزوں کی حفاظت کرو، اور بیٹا جی آپ یہ شکر کریں کہ آج کچرا اْٹھانے والا نہیں آیا ہے ورنہ آپ کا یہ کارڈ تو گیا تھا، پھر آرام سے بیٹھ کر اپنی اس لاپروائی کی عادت کا رونا روتے‘‘ ۔ابو کی بات سن کر فیضان کا سر ندامت سے جْھک گیا۔

’’ابھی بھی وقت ہے بیٹا، اپنی اس عادت پر کنٹرول کرلو کہ کہیں کل کو اس سے بھی بڑا کوئی کارنامہ نہ سرانجام دینا پڑے۔ انہوں نے ڈسٹ بن اورکچرے میں خراب ہوئے اس کے ہاتھوں اورایڈمٹ کارڈ کی طرف اشارہ کیا۔اپنی لاپروائی کی وجہ سے ڈسٹ بن کی تلاشی کا تجربہ ہی اس کے لیے کافی تھا، اپنے قیمتی کارڈ کو گیلے کپڑے سے صاف کرتے ہوئے اس نے اپنی اس لاپروائی کی عادت سے توبہ کی اور اپنی چیزوں کو خود ہی سنبھال کر رکھنے کا عہدکیا۔