• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نور مقدم قتل کیس، ظاہرجعفر نے مجھ پر حملہ اور فائر کی کوشش کی، ملازم تھراپی ورکس

نور مقدم قتل کیس میں تھراپی ورکس کے زخمی ملازم امجد نے بتایا کہ ملزم ظاہر جعفر نے 9 ایم ایم پسٹل سے فائر کیا لیکن گولی نہیں چلی، تفتیشی افسر نے ہمیں گواہ کے بجائے ملزمان بنا کر ملزم کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی، میرے خون آلود کپڑے اور میڈیکل سرٹیفکیٹ تک نہ لیا۔

اسلام آباد کی سیشن عدالت میں نورمقدم قتل کیس میں تھراپی ورکس کے زخمی ملازم امجد نے انسپکٹر عبدالستار اور ملزم ظاہر جعفر کے خلاف استغاثہ دائر کردیا، استغاثہ وکیل شہزاد قریشی کے ذریعے تھانہ کوہسار کے علاقہ مجسٹریٹ کے پاس دائر کیا گیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ شعیب اختر نے درخواست ایڈیشنل سیشن جج عطاء ربانی کو بھیج دی ہے، جج عطا ربانی 13 نومبر کو استغاثے کی درخواست پر سماعت کریں گے۔

مدعی استغاثہ امجد نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ 20 جولائی کی شام ساڑھے 7 بجے مکان نمبر 60 گلی نمبر 7 ٹیم کے ہمراہ پہنچے، میڈیکل انٹروینشن کے لیے ظاہر جعفر کے گھر پہنچے تو وہ اوپر کمرے میں تھا، چوکیدار افتخار نے بتایا کہ ملزم ظاہر ذاکر جعفر کے پاس کوئی اسلحہ نہیں ہے۔

تھراپی ورکس کےزخمی ملازم امجد نے بتایا کہ 15 سے 20 منٹ تک ظاہر جعفر نیچے نہ آیا تو سیڑھی لگا کر کمرے میں داخل ہوا، ایسے میں ملزم نے مجھ پر حملہ کر دیا، ظاہر جعفر نے 9 ایم ایم پسٹل سے فائر کیا لیکن گولی نہیں چلی۔

مدعی استغاثہ کے مطابق تھراپی ورکس کے دیگر ملازمین مجھے اسپتال لے کر پہنچے، نور مقدم کی لاش کو مجھ سمیت دیگر ملازمین نے بچشم خود دیکھا۔

امجد نے کہا کہ تفتیشی افسر نے ہمیں گواہ کے بجائے ملزمان بنا کر ملزم کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی، میرے خون آلود کپڑے اور میڈیکل سرٹیفکیٹ تک نہ لیا۔

واضح رہے کہ کیس کی 10 نومبر کو ہوئی سماعت میں استغاثہ کے کل 18 میں سے 9 گواہان کے بیانات قلمبند کیے جبکہ گواہ محمد عمران پر وکلاء نے جرح مکمل کی، ملزم ظاہر جعفر نے عدالت میں زور دار آواز میں جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے سن رہے ہیں، میرا راضی نامہ کروا دیں۔

کیس کی 9 نومبر کو ہوئی سماعت میں اسلام آباد پولیس نے واقعے کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کی ٹرانسکرپٹ جمع کروائی تھی جس میں واقعے کا تحریری منظر کشی موجود تھی۔

قومی خبریں سے مزید