• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سگریٹ کا ایک کَش عُمر بھر کا روگ بن جاتا ہے

نارکوٹکس کنٹرول ایڈوائزری کمیٹی، پنجاب کے چیف کوآرڈی نیٹر، فوّاد رسول بھلر گزشتہ ڈیڑھ سال سے اِس عُہدے پر اپنی ذمّے داریاں نبھا رہے ہیں۔ ان کی تعیّناتی، نارکوٹکس کنٹرول بورڈ راول پنڈی نے اُس وقت کی، جب 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد کئی محکمے، بشمول انسدادِ منشّیات، صوبوں کو سُپرد کیے گئے۔ کے پی کے میں انسدادِ منشّیات کا محکمہ 2013 ء سے کام کر رہا ہے، تاہم پنجاب میں ابھی یہ محکمہ تشکیل کے مراحل میں ہے۔

فوّاد رسول آگہی سیمینارز کے انعقاد، سروے رپورٹس کی تیاری، والدین اور تعلیمی اداروں کے سربراہان سے مشاورت اور نشے کے عادی افراد سے ملاقاتوں کے ذریعے اِس وبا کے خلاف سرگرمِ عمل ہیں۔گزشتہ دنوں اُن سے ایک خصوصی ملاقات ہوئی، جس میں اُنہوں نے اپنے تجربات و مشاہدات کی بنیاد پر کہا کہ’’پاکستان میں منشّیات کی صُورتِ حال اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور افسوس ناک ہے، جتنا کہ ہم سمجھتے ہیں‘‘۔ فوّاد رسول بھلر سے ہونے والی بات چیت جنگ، سنڈے میگزین کے قارئین کی نذر ہے۔

س :پاکستان میں منشّیات کے استعمال کی کیا صُورتِ حال ہے؟

ج : مجھے چیف کوآرڈی نیٹر کی حیثیت سے پنجاب کے 20 سے زاید سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کا تعاون حاصل ہے۔ اس کے علاوہ مختلف سروے رپورٹس کی تیاری میں کئی این جی اوز اور سوشل ورکرز کی مدد بھی حاصل کرتے ہیں۔ ہم نے ابتدا میں لاہور کے 10کالجز اور نیم سرکاری یونی ورسٹیز کا سروے کیا، تو معلوم ہوا کہ مجموعی طور پر 10میں سے ایک طالب علم(لڑکا یا لڑکی) نشے کی عادت میں مبتلا ہے۔ لاہور کے ایک پوش علاقے کی یونی ورسٹی میں 20فی صد طلبہ نشے کے عادی پائے گئے۔ 

اِسی طرح خواتین کی ایک نیم سرکاری یونی ورسٹی میں 10فی صد لڑکیاں باقاعدہ نشہ کرتی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لڑکیاں چرس، ہیروئن اور آئس کا نشہ کرتی ہیں، اُن میں سے90 فی صد پہلے صرف سادہ سگریٹ پیتی تھیں، پھر کسی لڑکی نے اُنہیں چرس سے بَھرا سگریٹ پلایا، تو وہ اُس کی اسیر ہو گئیں۔ 80 فی صد لڑکیوں نے ہماری خواتین ورکرز کو بتایا کہ اُنہوں نے سگریٹ نوشی اور پھر چرس کے سگریٹ صرف ایڈونچر، تجسّس اور تجربے کے لیے پینے شروع کیے تھے، جو بعدازاں اُن کی مجبوری بن گئے۔ 

نشہ کرنے والے لڑکوں اور لڑکیوں کی 80 فی صد تعداد کا تعلق پوش اور خوش حال گھرانوں سے تھا اور اُن میں سے اکثر کا کہنا تھا کہ اُن کے والدین کو اُن کی اس عادت کا علم ہے، لیکن وہ بدنامی کے خوف سے اُنھیں کسی اسپتال میں داخل کرواتے ہیں اور نہ ہی عزیزو اقارب کو پتا چلنے دیتے ہیں۔ 

اِسی طرح لڑکوں نے بھی کہا کہ اُنہوں نے صرف ایڈونچر، تجسّس، تجربے اور امتحان کے دنوں میں سکون کے لیے چرس کے سگریٹ پینے شروع کیے، جو پھر اُن کے گلے کا طوق بن گئے۔ اُن میں ایسے طلبہ بھی شامل تھے، جنہوں نے امتحانات کے دباؤ، ناکامی کے خوف اور پڑھائی کی مشکلات سے پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ کو دُور کرنے کے لیے پہلے سگریٹ، پھر چرس اور بعد میں ہیروئن پینا شروع کر دی۔

س : اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس معاملے میں معاشرے کا بھی اہم کردار ہے، کیوں کہ یہ کام ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی ہوتا ہے؟

ج : سوسائٹی کا بھی اہم کردار ہے، لیکن ہمیں والدین کی کوتاہیاں بھی دیکھنے کو ملیں۔ جب ہم نے ایک کالج کے ایک امیر لڑکے سے پوچھا کہ وہ نشہ کیوں کرتا ہے؟ تو اُس نے کہا کہ وہ کیوں نہ کرے، اُس کے گھر تو بار کُھلا ہے، جہاں ہر ہفتے باقاعدہ پارٹیز ہوتی ہیں۔ ایک لڑکی نے بتایا کہ اُس کے یہاں نشہ آور محلول کا استعمال معیوب نہیں، اسے نئے فیشن اور جدید طرزِ زندگی کا حصّہ سمجھا جاتا ہے۔

س : لوگ، خاص طور پر نوجوان نشہ کیوں کرتے ہیں؟

ج : صُورتِ حال کی سنگینی کا اندازہ لگا لیں، تو پھر وجوہ کا ذکر بھی مناسب رہے گا کہ ان کا تعلق صرف لاہور نہیں، پورے مُلک سے ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ایک ادارے نے چند برس قبل ایک رپورٹ پیش کی، جس میں پاکستان میں نشے کے عادی افراد کی تعداد تقریباً70 لاکھ بتائی گئی، جن میں سے 40 لاکھ نشے کی لت میں بُری طرح گرفتار تھے، یعنی وہ نشے کے بغیر رہ ہی نہیں سکتے تھے۔ تشویش ناک بات یہ کہ نشے کے عادی ان افراد کی واضح اکثریت18 سے 45 سال کی عُمر کے افراد کی تھی اور آج بھی ہے۔ 

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان میں ہر سال نشے کے عادی افراد میں40 ہزار کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ پاکستان کو دنیا کے اُن ممالک میں شامل کیا گیا، جہاں نشہ کرنے والوں کی تعداد خطرناک حد تک زیادہ ہے۔مجھے یاد ہے کہ دسمبر 2020ء میں وزیرِ اعظم، عمران خان نارکوٹکس کنٹرول بورڈ کے راول پنڈی آفس آئے، تو متعلقہ حکّام نے اُنہیں تعلیمی اداروں میں نشے کے بڑھتے رحجان سے آگاہ کیا اور بتایا کہ مُلک میں 60لاکھ سے زاید افراد کسی نہ کسی قسم کے نشے کا شکار ہیں، جن میں زیادہ تعداد نوجوانوں، خاص طور پر طلباء و طالبات کی ہے۔ 

عمران خان نے اہم وزارتوں اور تعلیمی اداروں کے سربراہان پر مشتمل ایک خصوصی کاؤنسل بنا کر اِس مسئلے پر قابو پانے کی ہدایات جاری کیں۔ قبل ازیں، صدرِ مملکت، عارف علوی بھی تعلیمی اداروں کے سربراہان اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کو اِس معاملے پر گائیڈ لائنز بنانے کی ہدایات دے چُکے تھے۔ اِس سلسلے میں حکومت نے نارکوٹکس کنٹرول بورڈ کے زیرِ نگرانی عوامی سطح پر مقرّر کیے گئے کوآرڈی نیٹرز کو بھی اپنی آگاہی مہم تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ ان گائیڈ لائنز اور تجاویز کی ایک اہم بات تعلیمی اداروں میں نشے میں مبتلا طلبہ کی نشان دہی اور کالجز اور یونی ورسٹیز میں داخلے سے پہلے طلبہ کا لازمی اسکریننگ ٹیسٹ لازمی تھی۔ 

اِس سے قبل نومبر 2018ء میں جب اسلام آباد میں قائدِ اعظم یونی ورسٹی کے دو طلبہ کو تین کلو گرام چرس اور حشیش رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا، تو یونی ورسٹی حکّام کو احساس ہوا کہ معاملات بہت خراب ہو چُکے ہیں۔ معلوم ہوا کہ ان طلبہ کو نائیجریا کے دو باشندے، جو کہ یونی ورسٹی کے نواح میں رہتے تھے، ایک عرصے سے چرس اور ہیروئن فراہم کر رہے تھے۔ ان لوگوں سے 80لاکھ روپے مالیت کی منشّیات برآمد کی گئیں۔ لاہور میں ہمارے سروے کے دَوران پتا چلا کہ یہاں مقامی افراد، پولیس اور بعض افغان شہریوں کے تعاون سے ہاسٹلز کے چوکیداروں، گرلز ہاسٹلز کی خادمائوں کے ذریعے منشّیات سپلائی کرتے ہیں۔ 

ہم نشے میں مبتلا یونی ورسٹی کے جن لڑکوں، لڑکیوں سے ملے، اُن میں سے کسی نے بھی یہ نہیں بتایا کہ وہ منشّیات کہاں سے حاصل کرتے ہیں، البتہ یہ معلوم ہوا کہ یہ اشیاء اُنھیں گھر کی دہلیز پر مل جاتی ہیں اور منشّیات کا حصول کوئی مشکل کام نہیں۔ اس سے ہمیں چند برس قبل لاہور پولیس کے اہل کاروں اور افسران کے بارے میں ایک خفیہ رپورٹ میں کیے گئے انکشافات صداقت پر مبنی محسوس ہوئے، جن میں بتایا گیا تھا کہ لاہور کے بیش تر تھانوں کے اہل کاروں کی ملی بھگت سے طلبہ اور عام لوگوں کو منشّیات فراہم کی جاتی ہے اور یہ سلسلہ جنرل ضیاء الحق کے دور سے جاری ہے، جب افغانستان سے آنے والے ہیروئن کے سیلاب نے پاکستان کے ہزاروں گھرانوں، نوجوانوں اور بے روزگاروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

س : وجوہ کا تذکرہ درمیان میں رہ گیا؟

ج : دیکھیں! ہمارے ہاں نشہ دو انتہائوں میں ہوتا ہے۔ ایک بہت غریب لوگ کرتے ہیں اور دوسرا امیر طبقہ۔ سفید پوش طبقے نے پھر بھی حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا بھرم رکھا ہوا ہے۔ غریب افراد اپنی بے روزگاری، مالی پریشانیوں، منہگائی اور محرومیوں کے مداوے کے لیے سستے نشوں جیسے بھنگ، چرس، افیون، غیر معیاری ہیروئن کے انجیکشنز، کھانسی کے سیرپ، پین کلرز، اسپرٹ، خواب آور ادویہ اور مقامی طور پر تیار ہونے والی دیسی اور گھٹیا شراب وغیرہ سے اپنا غم غلط کرتے ہیں، جب کہ دوسری طرف، پوش سوسائٹیز میں رہنے والے امیر لوگ اور نوجوان اعلیٰ کوالٹی کی ہیروئن، چرس، مارفین، کوکین، آئس، الکوحل اور نشے کے دیگر جدید ترین ذرایع اپناتے ہیں۔ 

لاہور کے باسیوں کو ڈیڑھ دو برس پہلے کا وہ واقعہ یاد ہوگا، جب ایک خوف ناک ڈرگ استعمال کرنے کے بعد انسان پر قتل کرنے کا جنون سوار ہو جاتا تھا۔ اُس واقعے میں ایک نوجوان نے پارٹی کے بعد تین افراد کو قتل کر دیا تھا۔ ہمارے بعض ذرائع نے بتایا کہ لاہور کے پوش علاقوں میں ہونے والی پارٹیز میں مغرب سے آنے والے جدید نشے آزمائے جاتے ہیں۔ میرے نزدیک، طلبہ میں نشے کی بنیادی وجہ اُن کی بُری صحبت ہے۔کوئی لڑکا یا لڑکی، اپنے دوستوں کو سگریٹ یا چرس کا مفت کش لگوا ہی کر اُسے اس کا عادی بناتے ہیں۔

نشے کی دوسری وجہ امتحانات، پڑھائی کا دباؤ اور ناکامی کا خوف نظر آئی۔ 40فی صد لڑکے اس دباؤ کا شکار ہو کر اپنی اینگزائٹی دور کرنے کے لیے عام سگریٹ اور پھر چرس پینا شروع کر دیتے ہیں۔ تیسری بڑی وجہ والدین کی غفلت ہے، جو اپنے بچّوں کی صحبت، اُن کے بدلتے مزاج، عادات اور اخراجات پر نظر نہیں رکھتے۔ اُنہیں پتا اُس وقت چلتا ہے، جب باپ کو تھانے سے فون آتا ہے کہ اُن کا بیٹا جوا کھیلتے یا منشّیات استعمال کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ 

دراصل، اونچے طبقے کے والدین کو، نناوے کے ہیر پھیر اور کاروباری جھمیلوں ہی سے فرصت نہیں ملتی کہ بیٹے، بیٹی کی حرکات و سکنات اور پڑھائی کے نتائج پر توجّہ دے سکیں۔ جب کہ غریب والدین کو خوف ناک منہگائی اور بے روزگاری نے روزی روٹی کے چکر میں اِس قدر بے حال کر دیا ہے کہ وہ بچّوں ہی سے بیگانہ ہو گئے۔ غریب نوجوان بے روزگار ہو، تو اپنا وقت گزارنے اور غم غلط کرنے کے لیے پہلے سگریٹ پیتا ہے اور پھر سرور کی خاطر چرس اور ہیروئن میں پناہ لیتا ہے،یہاں تک کہ گن پوائنٹ پر لُوٹ مار بھی کرنے لگتا ہے۔

س: اِس چیلنج سے نمٹنا کس قدر مشکل ہے؟

ج: پاکستان منشّیات کے جس مسئلے سے دوچار ہے، اِس کی جڑیں جنرل ضیاء الحق کے زمانے کی افغان وار اور اُس کے بعد کے حالات میں پیوست ہیں۔ 15،20 سال قبل پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ ہیروئن استعمال کرنے والے مُمالک شمار ہوتا تھا اور افغانستان میں پیدا ہونے والی منشّیات کا 90فی صد پاکستان ہی کے ذریعے دنیا تک پہنچتا تھا۔ ہیروئن کے حوالے سے تو ہمارا مُلک’’گولڈن کریسنٹ‘‘ کے نام سے مشہور تھا، جہاں منشّیات کا سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر تک کاروبار ہوتا تھا۔ 

بدقسمتی سے بعد میں بھی حالات بہتر نہ ہوئے۔ اُس زمانے کے نشے کے عادی 40لاکھ افراد کی تعداد آج 60، 70لاکھ تک پہنچ چُکی ہے۔ یہ زہر ہمارے معاشرے میں کس حد تک سرایت کر چُکا ہے، اِس کا اندازہ ہمیں مختلف لوگوں سے مل کر ہوا، جنہوں نے انکشاف کیا کہ آج بھی پنجاب اور دوسرے صوبوں کے گلی محلوں میں چرس، افیون اور ہیروئن کی پُڑیاں ایک باقاعدہ نیٹ ورک کے تحت تقسیم کی جاتی ہیں۔ یہ سارا کام پولیس اور ڈرگ لارڈز کی ملی بھگت سے ہوتا ہے۔ سروے کے دَوران یہ انکشاف ہمارے لیے حیران کُن تھا کہ منشّیات کے دھندے میں ملوّث بعض لوگ مختلف امیدواروں کی انتخابی مہم پر پیسا لگاتے ہیں اور پھر مشکل وقت آنے پر اُن کی مدد حاصل کرتے ہیں۔

ہم نے سروے کے دَوران ایک ایسے گول گپّے والے کا پتا چلایا، جو کھٹّے میٹھے پانی میں منشّیات مِلا کر بچّوں اور نوجوانوں کو اس کا عادی بناتا تھا۔ بعد میں چھاپے کے دَوران اُس کے اڈّے سے منشّیات کی بڑی مقدار برآمد ہوئی۔ لاہور میں آج بھی ایسے کباب اور کھانے سرعام بِک رہے ہیں، جن کے بارے میں مشہور ہے کہ اُنہیں چرس کا تڑکہ لگایا جاتا ہے اور لوگ اس مزے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ 

بہرحال، اِس مسئلے پر قابو پانے کے لیے میری تجویز ہے کہ

(1) پاکستان میں منشّیات کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور قانون میں ترمیم کر کے منشّیات کے اسمگلرز کو سرِعام، عبرت ناک سزائیں دی جائیں، جیسا کہ دیگر اسلامی ممالک میں ہوتا ہے۔

(2) منشّیات کی اسمگلنگ کا سدّباب کر کے اس کی دست یابی ناممکن بنائی جائے۔

 (3) اِس مکروہ دھندے میں ملوّث اہل کاروں کا محکمۂ پولیس سے مکمل صفایا کیا جائے۔

(4) نشے میں مبتلا افراد کے علاج کے لیے سرکاری سرپرستی میں علاج گاہیں قائم کر کے نجی علاج گاہوں کی خصوصی نگرانی کی جائے، جہاں اکثر نشے کے مریضوں اور اُن کے لواحقین، خاص طور پر خواتین کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔ایسی تمام علاج گاہوں کا آڈٹ ہونا چاہیے۔

(5) کالجز اور یونی ورسٹیز میں داخلے کو طلبہ کے منشّیات فِری اسکریننگ ٹیسٹ سے مشروط قرار دیا جائے۔ لاہور کی جی سی یونی ورسٹی کو ایک این جی او کے تعاون سے جانچ پڑتال کے بعد پاکستان کی پہلی ڈرگ فِری یونی ورسٹی کا اسٹیٹس دیا گیا ہے، یہی کام لاہور کی دوسری یونی ورسٹیز میں کر رہے ہیں۔ 

(6) انسدادِ منشّیات کے سرکاری اداروں کا بنیادی کام تو مُلک میں منشّیات کا داخلہ روکنا ہے۔تاہم، اُنھیں عوام میں منشّیات کے خلاف آگہی اور شعور اُجاگر کرنے کے لیے این جی اوز، سوشل ورکرز اور مذہبی قائدین کی خدمات بھی حاصل کرنی چاہئیں۔ اِس ضمن میں آئمۂ مساجد اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

(7) حکومتی سطح پر بے روزگاری کے خاتمے، تعلیمی اداروں میں امتخانات کا دبائو کم کرنے اور نوجوانوں کو صحت مند تفریحات فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ وہ اپنی توانائیاں صحت بخش مشاغل میں استعمال کر سکیں۔

سنڈے میگزین سے مزید