• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

فٹبال ہاؤس سیل، صوبائی حکومت سے قانونی جنگ کریں گے، فیڈریشن

حکومت پنجا ب کی جانب سے لیز کی فیس جمع نہ کرانےپر لاہور میں قائم فیفا فٹ بال ہائوس کو تالے ڈال کر سیل کردیاگیا ۔ پاکستان فٹ بال فیڈریشن کےسربراہ اشفاق شاہ اور ان کے ساتھیوں نے ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے کئے جانے والے اقدام پرلیز ڈپارٹمنٹ سے معلومات حاصل کیں اور انہیں لیز کے حوالے سے فیس بھرنے کا خط بھی دیا لیکن ابھی تک یہ معاملہ حل نہیں ہوسکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستا ن فٹ بال فیڈریشن نےحکومت پنجاب کو باضابطہ تحریری طور پر بھی آگاہ کردیا ہے۔ 

فٹ با ل ہاؤس سیل کئے جانے پر پی ایف ایف کے صدر اشفاق حسین کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب نے ہمیں اعتماد میں لئےبغیر یکطرفہ کارروائی کی اور تین سال سے فیس نہ بھرنے کا عذر پیش کیا ہے، دو سال تک دفتراین سی کے زیراستعمال تھا ہمیں لیز کے بارے میں پتہ نہیں تھا اور ویسے بھی کوئی کارروائی کرنے سے پہلےملکی ادارےخط جاری کرتے ہیں اس کے بعد دی گئی مدت پوری ہونے پر کارروائی کرنے کا حق رکھتے ہیں لیکن انہوں نے بغیر بتائے اور اطلاع دیئے دفتر کو سیل کرنے کی کارروائی کی جو غیرقانونی ہے ،ہم پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے جائز اور قانونی عہدیدار ہیں اور ملک کی اعلی عدالت کے فیصلے کے مطابق ہمارے عہدوں کی مدت 2022ء تک ہے ۔ 

ہم نے نارملائزیشن کمیٹی کو دو سال تک کام کرنے دیا،جب دیکھا کہ نارملائزیشن کمیٹی صرف اور صرف وقت ضائع کررہی تو ہم نے فٹ بال ہائوس کا قبضہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیااور فیفا اور اے ایف سی سے درخواست کی کہ وہ پاکستان فٹ بال کا مسئلہ حل کرنے کیلئے ہم سے بات کرے۔ مارچ 2021ء کو فٹ بال ہائوس سے فیفا نارملائزیشن کمیٹی کو بے دخل کرنے والے اشفاق شاہ نے اس وقت بھی فیفا فٹ بال ہائوس پر قبضے کے اپنے موقف پرڈٹے ہوئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ کانگریس اور ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلے کے تحت ہی فٹ بال ہاؤس میں آئے تھے۔ 

 پاکستان فٹ بال کا مکمل کنٹرول ہمارے پاس ہے ، ہم نے کئی نیشنل ایونٹس کرائے اور فٹ بال کے کھیل کو باقاعدگی سے چلا رہے ہیں۔ این سی آج تک الیکشن کا کوئی روڈ میپ نہیں دے سکی۔ اشفاق شاہ سپریم کورٹ کے حکم پر پی ایف ایف کا صدر بنا ہےاور فٹ بال ہائوس پر ہمارا قبضہ ہمارا حق ہے۔ اگر حکومت پنجاب فٹ بال ہائوس کو سیل کرکے پارٹی بننا چاہتی ہے تو ہم قانونی جنگ کیلئے تیار ہیں ، پاکستانی فٹ بال کو صحیح طریقے سے چلانا ہے تو نارملائزیشن کمیٹی کو ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنا چاہئے ۔ 

دوسری جانب فیفانارملائزیشن کمیٹی فٹ بال ہائوس کو سیل کئے جانے پراس توقع کا اظہار کررہی ہے کہ لاہور فٹ بال ہائوس کا قبضہ اشفاق شاہ گروپ سے چھڑانے کے بعد ہمارے حوالے کردیا جائے گا۔ فٹ بال ہائوس کو سیل کئے جانے اور وہاں سے قابضین کو فارغ کئے جانے کے بعد سے اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ حکومتی مثبت پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ غیرقانونی قبضہ اور اس سے پیدا ہونے والےپاکستان فٹ بال پر منفی اثرات جلد ختم ہوجائیں گے ۔

پاکستان کی فٹ بال کمیونٹی اور فٹ بالرز اس غیرقانونی قبضے کی وجہ سے گزشتہ سات ماہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ نارملائزیشن کمیٹی یہ توقع بھی رکھتی ہے کہ جلدکمیٹی کی شفارش پر پاکستان پر عائد عالمی پابندیاں اٹھانے کا عمل شروع ہوگا اور پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے انتخابات ممکن ہوسکیں گے۔ 

نشترپارک اسپورٹس کمپلیکس میں 11 کنال 7 مرلہ اراضی 2004 ءمیں حکومت پنجاب نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کو لیز پر دی تھی۔ بظاہر حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ پی ایف ایف کے موجودہ عہدیداروں نے شرائط کی خلاف ورزی کی جس پر لیز ختم کرتے ہوئے فٹبال ہیڈ کوارٹرز فیفا ہاؤس اور اراضی کا قبضہ حاصل کیا گیا۔ آئندہ چند روز میں پاکستان فٹبال کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید