• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کئی سالوں کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ہار کر بھی جیت گئی ہے۔قوم کو ایک بار پھر کرکٹ نے متحد کردیا ہے۔ کرکٹ ٹیم بابر اعظم کی قیادت میں اپنے سامنے آنے والی ہر ٹیم کو شکست دے رہی تھی۔مجھے یاد نہیں پڑ رہا کہ کسی آئی سی سی ٹورنامنٹ میں پاکستان ٹیم کے تمام کے تمام گروپ میچ جیتے ہوں۔

بابر اعظم اور محمد رضوان نے ٹیم کا سافٹ ویئر تبدیل کردیا۔سیمی فائنل میں پہنچنے کے بعد لگ رہا تھا کہ اس نا قابل تسخیر ٹیم کو قابو کرنا اب آسان نہیں ہوگا۔ شائقین کو تفریح فراہم کرنے والی پاکستانی ٹیم سیمی فائنل پانچ وکٹ سے ہار کر ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی لیکن لگاتار پانچ میچ جیتنے کے دوران پاکستان نے شاندار کارکردگی دکھائی۔ شائد ٹورنامنٹ سے پہلے اس کارکردگی کی کسی کو توقع نہ تھی بھارت کو دس وکٹ کی شکست سے دوچار کرنے کے بعد پاکستان نیوزی لینڈ اور افغانستان کو پانچ پانچ وکٹ سے شکست دے گی۔

نمیبیا اور اسکاٹ لینڈ کو ہراکر اس ٹیم نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔پاکستان نے ایک نوجوان ٹیم اور نوآموز کپتان بابر اعظم کے ساتھ زبردست کرکٹ کھیل کر ان چار بہترین میں جگہ بنائی جہاں وہ واحد ایشین ٹیم تھی۔ بابر اعظم کے لئے یہ ٹورنامنٹ خاصا سبق آموز رہے گا اور گیارہ ماہ بعد آسٹریلوی سرزمین پہ جب وہ ٹائٹل کی دوڑ میں اتریں گے تو یہ تجربہ بہت کام آئے گا۔حسن علی کا پورا ٹورنامنٹ خراب گیا انہوں نے44رنز دیئے اور اہم وقت پر کیچ چھوڑ کر میچ کو آسٹریلیا کے حق میں کردیا۔

یہ کہانی بھی شائد شائقین کو مدتوں ایک دلیر کھلاڑی کی یاد دلائے گی۔پاکستانی اننگز میں محمد رضوان نے جس طرح بیٹنگ کی اس سے کہیں ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ رضوان دو راتیں دبئی کے اسپتال میں گذار کر میچ کھیلنے آئے۔ آئی سی یو سے آنے والا شخص تو کئی دن چلنے کے قابل نہیں ہوتا لیکن محمد رضوان کی بہادری اور ہمت کو جتنی داد دی جائے وہ کم ہے۔

محمد رضوان کی طبیعیت گلے میں انفیکشن کی وجہ سے خراب تھی لہذا انھیں نو نومبر کی صبح سے دس نومبر کی شام تک آئی سی یو میں رہنا پڑا اور جب ڈاکٹرز نے انھیں فٹ قرار دیا تو پھر انھیں اسپتال سے ٹیم ہوٹل جانے کی اجازت ملی۔ اس دوران ان کا کوویڈ ٹیسٹ بھی لیا گیا، جس کا نتیجہ منفی آیا آسٹریلیا میچ میں انہوں نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے 52 گیندوں پر چار چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے67 رنز ا سکور کیے اور جب پاکستانی ٹیم کی فیلڈنگ آئی تو وہ مکمل طور پر مستعد اور متحرک دکھائی دیے۔

ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ میں پاکستان پہلا میچ ہارنے کے ساتھ ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی۔سیمی فائنل ہارنے کے بعد پاکستانی کھلاڑی روتے ہوئے گراونٖڈ سے باہر آئے اور ڈریسنگ روم میں بھی سوگ کا ماحول تھا۔ ماضی میں اکثر پاکستان جب بھی کوئی ایسا بڑا میچ ہارا ہے تو کسی نہ کسی کھلاڑی پر انگلیاں ضرور اٹھائی گئیں، ہر شکست سے سازشی مفروضے تلاش کئے گئے لیکن اس بار ہار کر بھی شائقین اپنی ٹیم سے خوش ہیں۔

ہارنے کے بعدکپتان بابر اعظم نے کہا کہ سارے مثبت بات کریں، کوئی منفی بات نہیں۔ ہار گئے ہیں، ہاں ہار گئے ہیں، کوئی مسئلہ نہیں لیکن سیکھیں گے اس سے۔ آگے جو کرکٹ ہے اس میں ہم یہ چیزیں نہیں دہرائیں گے۔ انھوں نے ٹیم کے درمیان پیدا ہونے والی کیمسٹری کی، جس کا ذکر اس ٹورنامنٹ میں اکثر کمنٹیٹر، شائقین اور تجزیہ کاروں سے سننے کو ملا ہے، تعریف کرتے ہوئے تاکید کی کہ اسے ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔’یہ چیز ٹوٹے نہ۔ وقت لگتا ہے بھائیوں، یہ جوڑ جو ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے۔ 

ایک ہار سے کوئی بھی نکلے نہ اس میں سے۔ میں سب کو بیک کرتا ہوں، بطور کپتان مجھے جس طرح آپ لوگوں نے رسپانس دیا ہر میچ میں ہر بندے نے ذمہ داری لی ہے اور یہی چاہیے ، ہمت کرو، کہتے ہیں ہمت ہمارے ہاتھ میں ہے اور وہ ہم کریں گے۔ نتیجہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ۔ جیسے جیسے آپ ہمت کرتے رہیں گے نتائج ہمارے ہاتھ میں آتے رہیں گے۔کوئی نہ گرے۔ مجھے پتہ ہے سب کو دکھ ہے لیکن یہ تھوڑی دیر تک۔ 

سوچو ہم کہاں غلط تھے اور کہاں ہم اچھا کر سکتے تھے۔ کوئی گرا نظر نہ آئے، ایک دوسری کو اٹھاؤ۔ ہارنے کے بعد ایک نوجوان کپتان سےاس تقریر شائد کسی کو توقع نہیں تھی لیکن بابر اعظم نے ثابت کر دیا کہ وہ بڑا کھلاڑی تو ہے اس میں لیڈرشپ کی بھی کوالٹی ہے سب سے بڑھ کر وہ بڑا انسان ہے۔بابر اعظم اور محمد رضوان نے ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ میں جو کر دکھایا واقعی وہ سب کے لئے مثال ہے اور ایسی ہی اچھی مثالوں سے ٹیمیں بنتی ہیں۔واقعی ایسے کھلاڑی پاکستان کے حقیقی اور مثالی ہیں اور ان کی کارکردگی اور رویے سے پاکستان ٹیم مزید اوپر جائے گی، پاکستان زندہ باد

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید