• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’غزل ‘‘شاعری کی تمام اصناف میں سب سے زیادہ مقبول و معروف صنف ہے۔ پاک وہند کے بیش تر گلوکاروں نے اس صنف کو اپنی گائیکی کی کلید بنایا اور فن کی دُنیا میں شہرت جاوداں حاصل ہے۔ پاکستان میں مہدی حسن خان نے اسی صنف کی گائیکی سے وہ شہرت حاصل کی، جس کی دُنیا بھر میں نظیر نہیں ملتی، پڑوسی ملک بھارت کے ہرغزل گائیک نے مہدی حسن کے طرز گائیکی کو اپنا کر گائیکی کی دُنیا میں اپنا مقام بنایا۔ پاکستان میں غلام علی ،اقبال بانو، اور فریدہ خانم بھی غزل گائیکی کے حوالے سے غیر معمولی شہرت کے حامل ٹھہرے۔ 

پاکستانی فلمی موسیقی کا دامن غزل کے حُسن و نغمگی سے کبھی خالی نہیں رہا۔ ہمارے شعراء نے فلمی موسیقی کو اپنی شاہ کار غزلیات سے آراستہ کیا۔ ہدایت کار منشی دل کی نغمہ بار فلم ’’عشق لیلیٰ ‘‘یُوں تو بہترین نغمات کا گلدستہ تھی، لیکن خاص طور پر اقبال بانو کی گائیکی سے آراستہ ’’قتیل شفائی کی غزل‘‘ پریشان رات ساری ہے ،ستارو تم تو سو جائو ‘‘ سکوت مرگ طاری ہے، ستارو تم تو سو جائو، پُر اثر و اعلیٰ شاعری، پُرسوز گائیکی کے سبب اس فلم کے دیگر گیتوں میں ممتاز ہے۔ 

یہی قسمت ہماری ہے ،ستارو تم تو سو جائو ‘‘ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے … ابھی کچھ بے قراری ہے، ستارو تم تو سو جائو ‘‘ جیسے دل گرفتہ اشعار نے اس غزل کو ایک یادگار پُرسوز فلمی المیہ سونگ کا روپ دیا۔ قتیل شفائی کی شاہ کارغزل حسن طارق کی ابتدائی فلم ’’نیند‘‘ کا حصہ بنی۔ رشید عطرے کی مرتب کردہ خُوب صورت دُھن پر اس غزل کو دل کش آہنگ دیا تھا ملکہ ترنم نورجہاں نے اور فلم میں اس کی پیکچرائزیشن بھی نورجہاں پر ہی ہوئی تھی۔ فلم نیند کی یہ غزل اس قدر مقبول ہوئی کہ پڑوسی ملک کے فلم میکرز نے قتیل شفائی سے رابطہ کرکے فلم ’’پھر تیری کہانی یاد آئی ‘‘کے لیے اس کے حقوق حاصل کیے اور کمار سانو سے گوا کر اسے بالی وڈ فلم کا حصہ بنایا گیا۔

اداکار سنتوش کمار کی زیر ہدایت بننے والی واحد فلم ’’شام ڈھلے ‘‘ کے لیے نامور شاعر صُوفی غلام مصطفیٰ تبسم کی غزل ’’سو بار چمن مہکا ،سو بار بہار آئی، دنیا کی وہی رونق ،دل کی وہی تنہائی ‘‘ کو موسیقار رشید عطرے نے نامور گلوکارہ نسیم بیگم کی آواز میں ریکارڈ کر کے اسے فلم میں شامل کیا۔ صُوفی تبسم نے جس قدر اعلیٰ اشعار اس غزل کے لیے تخلیق کیے،اتنی ہی معیاری دُھن سے رشیدعطرے نے اسے آراستہ کیا۔ اور نسیم بیگم کی پُرسوز اور پختہ کار گائیکی نے اس کلام کو امر غزل کا روپ دیا۔

دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے، آغاز بھی رسوائی ،انجام بھی رسوائی

یہ شان دار غزل فلم ’’شام ڈھلے ‘‘ کا سب سے مضبوط اور یادگار حوالہ ہے۔ ہدایت کار خلیل قیصر کی شاہ کار تصویر ’’شہید ‘‘ یُوں تو ہر حوالے ہر اعتبار، سے ایک ناقابل فراموش اور پاکستانی سینما کی قابل فخر تخلیق تھی۔ اس کے بہترین حوالوں میں منیر نیازی کی غزل بھی ایک اہم ترین حوالہ ٹھہری، جس کے بول تھے ’’اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو ‘‘

اشک رواں کی لہر ہے اور ہم ہیں دوستو‘‘۔ اس غزل کے موسیقار بھی رشید عطرے ہی تھے، اور گائیکہ بھی نسیم بیگم تھیں۔

شام الم ڈھلی تو چلی درد کی ہوا

راتوں کا پچھلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو

فلم میں اس یادگار غزل کی پیکچرائزیشن گریٹ فن کارہ مسرت نذیر پر ہوئی تھی۔

یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد

تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو

جب ’’شہید ‘‘ کے خوب صورت نغمات کا کہیں ذکر ہوتا ہے، تو اس غزل کا بالخصوص چرچا ہوتا ہے۔ فلم ’’ شہید ‘‘1962کی ریلیز تھی۔

1964میں خلیل قیصر کی زیر ہدایت بننے والی فلم ’’فرنگی‘‘ سام راج کے خلاف نعرہ بغاوت بلند کرنے والے غیور پٹھان ’’اکبر خان ‘‘کی جدوجہد آزادی پر مبنی یادگار فلم ’’فرنگی‘‘ میں شہنشاہ غزل ،مہدی حسن نے ممتاز دانش ور و شاعر فیض احمد فیض کی غزل، ’’ گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے

چلے بھی آئو کہ گلشن کا کاروبار چلے‘‘

گو کہ اس غزل کے اشعار سادہ اور آسان اردو میں نہ تھے، لیکن خُوب صورت دُھن ،پُر تاثیر گائیکی نے وہ جادو جگایا کہ چار سو اس غزل نے نغمگی بکھیر دی، ہرعام و خاص اس غزل کا شائق اور گرویدہ بنا۔ درحقیقت یہی وہ غزل تھی، جس کی عالمگیر مقبولیت نے فلموں میں غزل کی شمولیت کو ناگزیر کر دیا۔ سید فضل احمد کریم فضلی ایک بیوروکریٹ تھے، لیکن جب وہ فلم سازی کے میدان میں آئے، تو بہ طور ڈائریکٹر انہوں نے ’’چراغ چلتا رہا‘‘ اور ’’ایسا بھی ہوتا ہے‘‘ جیسی جداگانہ طرز کی فلمیں بنائیں۔ اچھے ڈائریکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک بہترین شاعر بھی تھے۔ 

’’ایسا بھی ہوتا ہے‘‘ کے لیے ان کی تخلیق کردہ غزل ’’ہو تمنا اور کیا جان تمنا آپ ہیں‘‘ ان کے بہترین ادبی شعور و ذوق کی غماز ہے۔ غزل میڈیم نور جہاں کے خُوب صورت ترنم سے آراستہ ہوئی اور مایۂ ناز موسیقار نثار بزمی نے اس کی موسیقی مرتب کی۔ فلم میں یہ غزل زیبا بیگم پر پکچرائز ہوئی تھی۔ اپنی شاعری، گائیکی اور موسیقی کے اعتبار سے یہ غزل آج کے سامع کو بھی بھر پور انداز میں متاثر کرتی ہے۔

آغا حشر کاشمیری جنہیں برصغیر کا شیکسپیئر کہا جاتا ہے، حسن طارق کی یاد گار فلم ’’کنیز‘‘ کے لیے ان کی غزل ’’غیر کی باتوں کا آخر اعتبار آہی گیا‘‘ خلیل احمد کی بنائی ہوئی طرز پر نسیم بیگم نے گائی، جس نے فلمی شائقین میں بے حد پزیرائی ملی۔ ہدایت کار اقبال شہزاد کی معاشرتی تصویر ’’بدنام‘‘ کے لیے سرور احمد کی تحریر کردہ غزل ’’بڑے بے مروت ہیں یہ حُسن والے، کہیں دل لگانے کی کوشش نہ کرنا‘‘ جسے گایا تھا ثریا ملتانیکر نے اور اس کی دھن بنائی تھی، دیبو پھٹہ جارجی نے۔ فلم میں یہ غزل مجرا گیت کی صورت نبیلہ اور زمرد پر پکچرائزڈ تھی۔

اپنے وقت میں اس غزل کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ اس کے گرامو فون ریکارڈز ہزاروں نہیں، بلکہ لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوئے، گو اس غزل سے قبل گلوکارہ ثریا ملتانیکر فلم ’’گل بکائولی‘‘ میں فن گائیکی کا مظاہرہ کر چکی تھی، لیکن ’’بدنام‘‘ کی غزل نے انہیں غیر معمولی شہرت اور شناخت دی۔ فلم بدنام 1966کی ملک گیر کام یابی میں جہاں منٹو کی جاندار کہانی ریاض شاہد کے روح کو جھنجھوڑ دینے والےمکالمات، علائوالدین اور نبیلہ کی کردار نگاری کا بڑا حصہ تھا، وہیں اس غزل نے بھی ’’بدنام‘‘ کی مقبولیت اور کام یابی میں نمایاں کردار ادا کیا۔

آخری مغل تاجداد بہادر شاہ ظفر بہترین حسین لطیف اور ادبی ذوق کے حامل شہنشاہ تھے، جن کی عمدہ شاعری متعدد پاکستانی فلموں میں بھی استفادہ کیا گیا۔ ہدایت کار ایس ایم یوسف کی سوشل ڈرامائی فلم ’’شریکِ حیات‘‘ میں بہارد شاہ ظفر کی غزل ’’ بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی، جیسی اب ہے تیری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی‘‘ اے حمید کی مرتب کردہ دُھن میں اس غزل کی ایک بڑی خاص بات یہ بھی تھی کہ اسے مہدی حسن نے نہ صرف آہنگ دیا، بلکہ پردہ سیمیں پر اس غزل کو انہوں نے خود ہی بہ طور سنگرفارمنس بھی دی۔ ہدایت کار ایس سلیمان کی گھریلو نغمہ بار یاد گار فلم ’’محبت‘‘ کے لیے پہلی بار لیجنڈری شاعر ’’احمد فراز‘‘ کی غزل ’’رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ۔ آ پھر سے مجھے چھوڑ کر جانے کے لیے آ‘‘ غزل کی دُھن کمپوز کی موسیقار نثار بزمی نے اور اسے میٹھے سروں سے آراستہ کیا مہدی حسن نے۔ پردہ سمیں پر اس غزل پر پرفارمنس دی گریٹ اداکار محمد علی نے۔ اس غزل کی بے پناہ مقبولیت کا نتیجہ یہ نکلا کہ دیگر فلم میکرز نے بھی احمد فراز کی غزلیات سے اپنی فلموں کی موسیقی کو آراستہ کیا، مثلاً ہدایت کار وزیر علی کی معصوم کے لیے ان کی غزل یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے۔

ہدایت کار فرید احمد کی (انگارے) کے لیے ’’اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں‘‘ ہدایت کار ریاض ملک کی (خاندان) کے لیے’’ تم بھی خفا ہو لوگ بھی برہم ہیں دوستو‘‘ اور (جنت کی تلاش) کے لیے ہدایتکار حسن عسکری نے احمد فراز کی مشہور عالم غزل ’’سُنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں‘‘ کو منتخب کیا۔ 

علاوہ ازیں جن شعراء کی غزلوں کو فلم کی وساطت سے بے پناہ شہرت اور مقبولیت ملی، ان میں ریاض شاید کی غزل ’’کل تک جو کہتے تھے اپنا آج وہی بیگانے ہیں‘‘ گلوکارہ نور جہاں، فلم بندی نِشو پر، موسیقار رشید عطرے فلم ’’بہشت‘‘ ابن صفی کی غزل ’’راہ طلب میں کون کسی کا اپنے بھی بیگانے ہیں‘‘ گلوکار حبیب ولی محمد موسیقار لال محمد اقبال، فلم بندی رحمٰن پر اور فلم ’’دھماکا‘‘ ۔ منیر نیازی کی غزل ’’زندہ ہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا‘‘۔ گلوکارہ ناہید اختر، موسیقار ایم اشرف، فلم بندی دیبا پر۔ 

فلم ’’خریدار‘‘ اور تسلیم فاضلی کی تحریر کردہ غزل ’’ہماری سانسوں میں آج تک وہ حنا کی خوشبو مہک رہی ہے‘‘ بہ طور خاص قابل ذکر ہیں۔ تاہم ریوانیوی آف سینما کے تحت بنائی جانے والی فلموں میں جس طرح معیاری شاعری اور میلوڈی کو زیادہ اہمیت نہیں دی جا رہی۔ بالکل اسی تسلسل میں (غزل) کو تو قطعاً مسخر ممنوعہ خیال کر کے بھلا دیا گیا ہے۔ جو کسی المیے سے کم نہیں۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید