• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لحنِ تجلیات سُن، شورشِ ممکنات میں

قامتِ کاف و نون دیکھ، آئینۂ صفات میں

کس کی یہ کائنات ہے کون ہے اِس کا مدّعی

کِس کو ثبات چاہئے نرغۂ بے ثبات میں

نقشِ گہہِ وجود میں رنگ ہی رنگ بے دریغ

جَلوہ رخی ہے رخ بہ رخ جشنِ تغیرات میں

ذہن رسانہ جاسکا حدِ معینات تک

کُن کی روِش نہ رُک سکی راہِ مُعینات میں

حمد کے یہ اشعار نصیر ترابی کے مجموعے ’لاریب‘ سے لیے گئے ہیں۔ یہ ایک غیر معمولی مجموعہ ہے۔ قامتِ کاف و نون دیکھ آئینۂ صفات میں یعنی کُن کی حدود متعین کرنا ناممکن ہے لیکن اسی ایک کُن کو پوری حمد میں سمیٹا گیا ہے۔ ابتدا سے نصیر ترابی نے جو لفظیات اس مجموعے میں استعمال کی ہیں، مثلاً ٹائٹل پر ’عقیدہ نوائی‘ لکھ کر واضح کر دیا ہے کہ یہ کتاب ’لاریب‘اس شاعری پر مشتمل ہے جو ان کی عقیدت اور عقیدے کا اظہار ہے۔

قاری کوپہلی ہی حمد سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ کتاب ایک بہت دقیق مطالعے کی متقاضی ہے، پھر اس میں استعمال بحریں، موضوعات، حمد، نعت، منقبت اور سلام میں وہ وقارِ لفظی ہے جولہجے میں شائستگی کے لیے ضروری ہے۔

نصیر ترابی کی فارسی اور اردو زبانوں پر دست رس ، حافظے میں محفوظ دونوں زبانوں کے وہ اشعار جنہیں انھوں نے ’آوازِ ہمیشگاں‘ قرار دیا ہے اور ’لاریب‘ کے اختتام پر اسی عنوان سے منتخب اشعار کو پڑھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شعر فہمی، لفظیات اور جمالیات کی جس سطح پر وہ شاعری کو دیکھتے اور پرکھتے تھے وہ کتنے مطالعے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ 

صرف و نحو پر ان کی دست رس انہیں لسانیات کی طرف بھی لے گئی غزلوں میں ان کے اظہار کا سلیقہ، انتخابِ لفظی اور تراکیب کی انفرادیت بھی دیکھیے۔ لسانیات کا ماہر تخلیقی ذہن رکھتا ہو تو یہ صلاحیت اس کے فن میں پوری آب و تاب دکھاتی ہے۔ میں ان کی غزلوں سے ایسے اشعار کی متعدد مثالیں پیش کر سکتی ہوں مگر چند اشعار پر اکتفا کر رہی ہوں ’عکس فریادی‘ کی پہلی غزل ہی دیکھئے ؎

دیا سا دل کے خرابے میں جل رہا ہے میاں

دیے کے گِرد کوئی عکس چل رہا ہے میاں

یہ روح رقصِ چراغاں ہے اپنے حلقے میں

یہ جسم سایہ ہے اور سایہ ڈھل رہا ہے میاں

یہ آنکھ پردہ ہے اک گردشِ تخیّر کا

یہ دل نہیں ہے بگولا اُچھل رہا ہے میاں

ایک مسلسل کیفیت کی شدت کو متحرک پیش کرنا، قاری کو اس کے آہنگ اور کیفیت کے گردش میں محصور و مسحور کر دینا ۔ زبان و بیان پر دسترس اور شاعرانہ فنکاری کمال ہے۔ نصیر ترابی نے اپنے لیے مشکل راستہ چنا تھا مگر یہ وہ راستہ تھا جس پرہم عصروں نے ان کی گردِ راہ سے بھی استفادہ کیا؎

تجھے کیا خبر میرے بے خبر میرا سلسلہ کوئی اور ہے

جو مجھی کو مجھ سے بہم کرے وہ گریز پا کوئی اور ہے

مرے موسموں کے بھی طور تھے مرے برگ و بار ہی اور تھے

مگر اب روش ہے الگ کوئی مگر اب ہوا کوئی اور ہے

یہی شہر، شہر قرار ہے تو دِل شکستہ کی خیر ہو

مری آس ہے کسی اور سے مجھے پوچھتا کوئی اور ہے

نصیر ترابی فارسی اور اردو غزل کی کلاسیکی روایات کی پاس داری کے ساتھ اپنے کلام میں عہدِ حاضر سے متصل رہتے ہیں۔ ان کی اکثر غزلیں، غزلِ مسلسل ہیں خصوصاً ان کی یہ طویل معرکہ آرا غزل دیکھئے جو ایک ہی کیفیت اور موضوع کو برتتے ہوئے ہر شعر میں نئی لفظیات اور نئی جمالیات پیش کرتی ہے ؎

پہلا سا حال پہلی سی وحشت نہیں رہی

شاید کہ تیرے ہجر کی عادت نہیں رہی

شہروں میں ایک شہر مرے رَت جگوں کا شہر

کوچے تو کیا دِلوں ہی میں وسعت نہیں رہی

لوگوں میں میرے لوگ وہ دل داریوں کے لوگ

بچھڑے تو دور دور رقابت نہیں رہی

شاموں میں ایک شام وہ آوارگی کی شام

اب نیم وا دریچوں کی حسرت نہیں رہی

راتوں میں ایک رات مرے گھر کی چاند رات

آنگن کو چاندنی کی ضرورت نہیں رہی

اب میں اس نصیر ترابی کا ذکر ضروری سمجھتی ہوں جس نے ہمارے عہد میں وہ کام کیا جو ماضی میں اساتذہ شعرا کرتے رہے ہیں یعنی شاعری کے ساتھ وہ ضروری تربیت و تدریس جو نئی نسل کو قواعد اور تیکنیک سے بہرہ مند کر سکے۔انہوں نے’ شعریات‘ ایک کتاب پوری تحقیق اور اعتماد کے ساتھ لکھی، اس کو لکھنے کی وجہ بھی بتا دی جس سے اختلاف ممکن ہی نہیں۔ اس کتاب کے پیش لفظ میں وہ لکھتے ہیں ؛

’’اردو محض بولی ٹھولی نہیں بلکہ مختلف تہذیبوں کی ایک لسانی جامعہ ہے۔ اس جامعہ کی سندِ عظما کو ادب کہتے ہیں۔ ادب کے ملحقات سے وابستگی کو گذشتہ سے پیوستہ رکھنے اور موجود سے ناموجودگی کی طرف امانتاً ارسال کرنے کی ایک واثق ضرورت ہے۔ یہ ضرورت اپنی تکمیل کے لیے گاہ بہ گاہ کسی توفیق کو پکارتی رہتی ہے۔ ‘‘

آگے ان کے دو جملے ہمیں ایک لمحۂ فکریہ کی دعوت دے رہے ہیں اور اس شکرگزاری کی طرف بھی مائل کر رہے ہیں جو اس تصنیف پر نصیر ترابی کو ادا کیا جانا چاہئے تھا۔ وہ لکھتے ہیں ؛

’’یہ کاوش دراصل شعر یہ اور نثریہ مصنوعات سے کوئی مکتوبی رشتہ بحال رکھنے کی تمنا ہے۔ اس تمنا کے دَر پردہ شاید ہماری گم کردہ ادبی تہذیب کے اعادے کی ایک دیرینہ حسرت بھی سانس لے رہی ہے۔ شعریات کی بابت صرف سماعی انحصار کرنا گویا کسی انتشار کے ہاتھوں اغوا ہو جانا ہے‘‘

نصیر ترابی نے اپنے عہد کے علمی و ثقافتی تقاضوں کو محسوس کرتے ہوئے جو اپنا حصہ زبان کی ترقی و ترویج میں پیش کیاہے وہ ان کی عمر بھر کی ایسی کاوش ہے جو نئی نسل تک پہنچنی چاہیے۔ خصوصاً ان کی 2019میں شائع ہونے والی پوری تحقیق کے ساتھ مرتب کردہ کتاب ’’لغت العوام‘‘ لسانیات کے باب میں درس گاہوں میں موجود ہونی چاہئے۔ اس کتاب کا دیباچہ بھی فکر و عمل کی وہ ترغیب ہے جو آگے مطالعے کی راہیں دکھا رہا ہے۔وہ لکھتے ہیں ؛

’’عوامی الفاظ کا برتائو ایک کرشماتی خصلت کا حامل ہوتا ہے۔ گویا عوامی الفاظ مفہوم کی ذور رسی میں سہلِ ممتنع جیسی حسن کاری کا تناسب رکھتے ہیں ۔ لہجے کے اتار چڑھائو سے ایک ہی عوامی لفظ کہیں طنز بھی ہو سکتا ہے تو کہیں مزاح بھی۔ عوامی الفاظ کی زیادہ تر کھپت غیر رسمی بول چال کے علاوہ ڈراموں اور فلموں کے مکالمات میں ہوا کرتی ہے۔ مزید براں طنز و مزاح کی صنف میں یہ الفاظ خاصے کارگر ہوتے ہیں۔ صحافتی تحریروں میں بھی عوامی الفاظ کی بدرجہا پذیرائی ہوتی رہتی ہے۔ ‘‘

اگرچہ اس کتاب کا نام ’لغت العوام‘ ہے مگر اسے ترتیب دیتے ہوئے بھی نصیر ترابی نے خواص کا خیال رکھا ہے اوراشعار سے سند پیش کی ہے ۔گویا بقول میرؔ ؎

شعر میرے ہیں گو خواص پسند

پر مجھے گفتگو عوام سے ہے

اس میں کوئی شک نہیں کہ نصیر ترابی ہمارے عہد کی ایک ایسی خوش نصیب شخصیت تھے جنھیں علم و ادب میراث میں ملی تھی، پھر ان کا ذہنِ رسا ہمیشہ سنجیدہ مطالعہ اور تحقیق و تخلیق کی طرف مائل رہا ۔ ان کی اچانک رحلت سے ایک بہت بڑا نقصان ہمارے ادب کو پہنچا ہے۔