• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم پاکستان اوورسیز کو مایوس نہ کریں، چوہدری قمراقبال

اوسلو (ناصراکبر) چیئرمین پاکستان یونین ناروے کے چیئرمین چوہدری قمر اقبال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ وزیراعظم عمران خان سمندر پر پاکستانیوں کومایوس نہ کریں بلکہ ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت میں نمایاں شراکت داری کے باوجود سمندرپار پاکستانی ملک میں استحصال کا شکار ہیں،سمندرپار پاکستانیوں کی خدمات کے معترف وزیر اعظم انہیں قبضہ مافیا اور بھتہ مافیا سے نجات دلوائیں سٹیزن پورٹل کی افادیت سرکاری محکموں کی عدم دلچسپی اور لاپروائی سے شدید متاثر ہو رہی ہے۔پنجاب اوور سیز شکایات سیل میں 9000 درخواستیں زیر التوا پڑی ہیں۔ انہوں نےکہا کہ سمندر پار پاکستانی ملکی معیشت کے نمایاں شراکت دار ہیں جو نامساعد حالات میں شبانہ روز محنت سے قیمتی زرمبادلہ حاصل کر کے اپنے وطن پاکستان بھیجتے ہیں جو بیمار ملکی معیشت کیلئے تازہ خون کی طرح ہے ۔چوہدری قمر اقبال نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کو یاد دلایا کہ آپ متعدد بار سمندر پار پاکستانیوں کی خدمات کا اعتراف کر چکے ہیں، ہم آپ کے بارے میں یہی حسن ظن رکھتے ہیں کہ آپ کے دل میں سمندر پار پاکستانیوں کے لیے نرم گوشہ موجود ہے اور آپ ان کے مسائل حل کرنا چاہتےہیں ، ہم توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ نااہل، سست اور کرپٹ سرکاری اہلکار آپ کی کوششوں کو بے ثمر بنا رہے ہیں، سٹیزن پورٹل کو کاغذی کارروائی تک محدود کر دیا گیا ہے جہاں شکایت کنندہ کو بھگاکر میدان سے باہر کر دیا جاتا ہے، پولیس اور ریونیو کے محکمہ جات کے اہلکار وں نے اسےغیر مؤثر بنا دیا یہاں شکایت کنندہ کو ہی ملزم بنا دیا جاتا ہے،پاکستان یونین ناروے کے چیئرمین نے مزیدکہاکہ سابق حکمرانوں نے اوورسیز کمیشن پنجاب قائم کیا تھا وہ بھی با اثر اور سیاسی پشت پناہی کی حامل قبضہ مافیا کے سامنے بے بسی کی تصویر بن چکا، چوہدری قمر اقبال نے کہا کہ قبضہ مافیا کو موثر قانون سازی اور قانون کی عمل داری سے لگام ڈالنے کی ضرورت ہے جو ریونیو ڈپارٹمنٹ کی کالی بھیڑوں کی مدد سے جعلی دستاویزات تیار کرکے سمندرپار پاکستانیوں کی جائیدادوں کو ہڑپ کر رہے ہیں، سمندرپار پاکستانی مختصر مدت کیلئے وطن واپس آتے ہیں تو انہیں جھوٹے مقدمات میں الجھا کر ان کی واپسی کا راستہ روکا جاتا ہے جس سے سمندر پار پاکستانیوں کی ملازمتیں اور کاروبار متاثر ہوتے ہیں اور وہ مقامی سیاست اور جھگڑوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں،وہ بچنے کیلئے پولیس اور ریونیو کے بھتہ مافیاز ان سے بھتہ اوررشوت وصول کرتے ہیں ۔ تحصیل کھاریاں ضلع گجرات کے دیہات کی اکثریت یورپ و امریکہ میں ہے جن کی قیمتی جائیدادوں پر قبضے ہو چکے ہیں ، ملزمان ضمانت پر جیلوں سے باہر آ چکے ہیں جب کہ مقدمات اتنی طوالت اختیار کر چکے ہیں کے فیصلوں کیلیے عمر خضر اور قارون کا خزانہ درکار ہے ،متاثرہ سمندر پار پاکستانی مرحومین کی بیوائیں اور اولادیں ہیں جو پاکستان کے نظام عدل سے سر ٹکرا کر مایوسی سے ناکام واپس لوٹ جاتے ہیں، یہ ہمارا المیہ ہےکہ ہمیں اپنے ہی گھر میں تحفظ حاصل نہیں پاکستان یونین ناروے کے چیئرمین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نظام عدل کو مضبوط بنانے کے لیے قوانین کو موثر اور اس کی عمل داری کو یقینی بنایا جائے، ملک سے قبضہ مافیا اورکرپشن و بھتہ مافیا کو سختی سے کچلا جائے۔ 
یورپ سے سے مزید