• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ، پارکس اور میدانوں سے تجاوزات ختم اور 4 جھیلیں بحال کرنے کا حکم

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) سپریم کورٹ نے ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کو تمام پارکس اور کھیل کے میدانوں سے تمام تجاوزات ختم کر کے اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم دیدیا۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے جھیل پارک کے اطراف کتنا خوبصورت ایریا تھا غیر ملکی آکر یہاں رہتے تھے، کیا حال کردیا۔

جسٹس اعجاز نے کہا کہ کراچی کیلئے قانون سازی ہونا ضروری ہے اگر ایسا نہ ہوا تو کوئی بھی پارک بیچ کر نکل جائیگا۔ عدالت نے پی ای سی ایچ ایس میں چار جھیلیں بحال کرنے اور کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس کشمیر روڈ سے ملبا اٹھانے کا حکم دیدیا۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ کے روبرو رفاہی پلاٹوں اور پارکوں پر قبضے کا کیس کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب صدیقی عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے مرتضیٰ وہاب صاحب کراچی میں چار جھیلیں ہوا کرتی تھیں۔ یہ سب قدرتی جھیلیں تھیں۔

مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ جھیل پارک میں ایک جگہ فٹ بال گراؤنڈ بنایا گیا ہے۔ جھیل پارک کے ایک حصے میں پلانٹیشن کی گئی۔

امبر علی بھائی نے بتایا کہ جھیل ختم کر دی گئی فیروز آباد، طارق روڑ کی اطراف جھیلوں پر ہاؤسنگ اسکیم بنا دی گئی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ان جھیلوں کا پانی کہاں گیا؟ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ پانی کا لیول ختم ہونے سے جھیلیں ختم ہوئیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے پھر زمین تو محفوظ ہونی چاہیے تھی۔

عدالت میں ایک شخص اپنی نشست سے کھڑا ہوا اور بتایا کہ جھیل پارک کے اطراف ساری دکانیں بنا دیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے میونسپل کمشنر صاحب آپ آجائیں۔ بتائیں یہ کیا ہو رہا ہے؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے جھیل پارک کے اطراف کتنا خوبصورت ایریا تھا یہاں غیر ملکی آکر یہاں رہتے تھے، کیا حال کردیا۔

مرتضیٰ وہاب صاحب کراچی کی جھیلوں کو کیسے بحال کرینگے۔ مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ کسی ماہر سے خدمات لے کر ہی بتا سکوں گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ایک جھیل پر تو فاؤنڈیشن اسکول بنا ہوا ہے۔

میونسپل کمشنر نے بتایا کہ تین روز قبل ہی چارج لیا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہاں سے چارج لیا آپ نے؟ پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی والے کہاں ہیں؟ پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی سے آج بھی کوئی پیش نہیں ہوا۔

مرتضی وہاب نے کہا کہ کلب اینڈ پارک، جھیل کا نہیں، پی ای سی ایچ ایس کا ہوگا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے پونی جھیل کا نام اس لیے تھا کہ بچوں کو ڈرایا جا سکے۔ تاکہ بچے جھیل کے اندر نہ جائیں۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ دو ہزار تین میں 25 شاہراؤں کو کمرشل کیا گیا۔ پھر مصطفی کمال نے کمرشلائزیشن کی۔

عدالت میں گئے تو عدالت نے ان فیصلوں کو برقرار رکھا۔ اس وقت کے فیصلے تھے جن کا سارا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے مطلب سٹی پلاننگ میں سارا بیڑا غرق ہوا۔ امبر علی بھائی نے کہا کہ نعمت اللہ خان کا خیال تھا کہ ریونیو بڑھایا جائے۔

پھر ایم کیو ایم نے تو مال بنانا شروع کر دیا آہستہ آہستہ جو سڑکیں کمرشل نہیں تھی وہ بھی کر دی گئیں۔ کراچی چاک، ان شاہراہوں کو کمرشلایزشن کرنے سے ہوا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے شاہراہِ فیصل پر بھی پورے بنگلے تھے۔

اہم خبریں سے مزید