• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لائسنس روکنے کاالزام، فرانسیسی ماہی گیروں نے برطانیہ کے خلاف ملک گیر احتجاج کی منصوبہ بندی شروع کر دی

راچڈیل (ہارون مرزا)فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی دھمکی کے بعد فرانسیسی ماہی گیروں نے بھی برطانیہ کے خلاف ملک گیر احتجاج کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ شمارلی فرانس فشریز کمیٹی کے چیئرمین اولیور لیپرٹری نے دھمکی دی ہے کہ وہ برطانیہ کے خلاف اپنے مطالبات کی منظوری کیخلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کریں گے۔شمالی فرانس فشریز کمیٹی کے چیئرمین نے یہ دھمکی فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ بات چیت میں حوصلہ افزائی کے بعد دی ہے۔ اس سے قبل فرانسیسی صدر نے ماہی گیروں کو لائسنس جاری نہ کرنے پر برطانیہ کے خلاف براہ راست راست اقدامات کی دھمکی دی تھی۔ اولیور لیپرٹری نے دھمکی دی ہے کہ ٹریڈ یونینز اور کپتان آئندہ چند یوم کے دوران سخت ایکشن لیں گے جس سے برطانوی معیشت کو نقصان پہنچے گا جب تک ماہی گیری کے معاملے پر ڈائوننگ سٹریٹ کیساتھ باضابطہ کوئی معاہدہ نہ ہو رد عمل جاری رہے گا اور ہم مسلسل برطانوی مفادات میں خلل ڈالیں گے۔انہوں نے کہا کہ سمندر میں ماہی گیری ہمارا حق ہے جس کے لیے ہمیں لائسنس جاری کیے جائیں۔ فرانسیسی صدر کیلیس کی بندرگاہ اور چینل ٹنل کو روکنے کی دھمکیاںدے چکے ہیں۔ شمالی فرانس فشریز کمیٹی کے چیئرمین مسٹر لیپریٹری نے برطانیہ کو آنکھیں دکھانے سے قبل فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا ۔فرانسیسی صدر میکرون کو اپریل میں دوبارہ انتخابات کا سامنا ہے اور ان پر صدارتی ووٹنگ سے قبل ماہی گیری کے لائسنس فراہم کرانے کے لیے سخت دبائو ہے برطانیہ پر فرانسیسی ماہی گیروں کے 150 لائسنس روک کر بریگزٹ معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائدہے جس میں برطانیہ کی طرف سے متنازع تعداد ہے۔ فرانسیسی یورپ کے وزیر کلیمنٹ بیون نے گزشتہ روز کہا ہےکہ یورپی کمیشن کی طرف سے اس تنازعے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا پیرس چاہتا ہے کہ اسے کرسمس تک حل کیا جائے اگر تنازع حل نہ ہوا تو فرانس برطانیہ کیخلاف اکیلے ہی جدوجہد کیلئے پرعزم ہے اور وہ ممکنہ اقدامات میں سخت چیکنگ اور فرانسیسی بندرگاہوں پر برطانوی ٹرالروں کے کیچز کے اترنے پر پابندی جیسی کارروائیوں کو عملی جامہ پہنا سکتا ہے ہمارے پاس میز پر تمام اختیارات موجود ہیں ہم اسے یورپی یونین کی سطح پر رکھنے کو ترجیح دیں گے لیکن اگر یورپی یونین کی سطح پر کچھ نہیں ہوا تو فرانسیسی خود اقدامات کریں گے۔

یورپ سے سے مزید