• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پورے حیدرآباد میں تجاوزات، آدھے کراچی پر قبضہ ہوا ہے، سپریم کورٹ


کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ پورے حیدرآباد میں تجاوزات ہیں، آدھے کراچی پر قبضہ ہواہے، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی سرزنش کرتے ہوئے کہا ہمارے ساتھ کھیل مت کھیلیں آدھے سے زیادہ سندھ کی سرکاری اراضی قبضے میں ہے وہ نظر نہیں آتی،ملیر چلے جائیں ، گلستان جوہر ، یونیورسٹی روڈ سب دیکھ لیں ،پندرہ اور بیس منزلہ عمارتیں کیا قانونی ہیں؟

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں لارجر بنچ نے سرکاری زمینوں کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائز کرنے سے متعلق کیس میں سینئر ممبر کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے قبضے ختم کرانے کا حکم دیدیا۔

عدالت نے سینئر ممبر کو عدالتی حکم پر مکمل عمل درآمد کر کے ایک ماہ میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سے استفسار کیا کتنی سرکاری زمین واگزار کرائی؟ تسلی بخش جواب نہ دینے پر چیف جسٹس گلزار احمد نے سینئر ممبر کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہمارے ساتھ کھیل مت کھیلیں آدھے سے زیادہ سندھ کی سرکاری زمینیں قبضے میں ہیں وہ نظر نہیں آتیں؟ کونے کونے کی تصویریں لگا کر ہمیں بیوقوف بنانے کی کوشش کرتے ہو؟ منشی ہو؟ بابو ہو؟ کلرک ہو؟ کیا ہو تم؟ سینئر ممبر بنو۔ کمیٹی کی کہانیاں ہمیں مت سناؤ جاکر قبضہ ختم کراؤ۔ اینٹی انکروچمنٹ عدالتیں بھی کچھ نہیں کررہیں سکھر جیسے شہر میں صرف ایک کیس ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے حیدرآباد میں کوئی تجاوزات نہیں؟ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے پورے حیدر آباد میں تجاوزات ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر اور بے نظیر آباد میں کوئی کیس نہیں جبکہ پورے کراچی پر قبضہ ہے اور صرف نو کیسز ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا سب اچھا ہے سب اچھا ہے۔ اے جی صاحب یہ افسران کیا کررہے ہیں، صرف اپنے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں۔ کس کی خدمت کررہے ہیں یہ لوگ؟ کون سے وہ سائے ہیں جس کیلئے کام کرتے ہیں یہ؟ کہیں اور جاتے ہیں فوری عمل درآمد ہوتا ہے یہ لوگ قبضہ کراتے ہیں بھتہ لیتے ہیں، جو فیلڈ میں کام کرنے والے ہوتے ہیں وہ الگ ہوتے ہیں سینئر ممبر کا تمغہ لگالیا ہے سینئر ممبر والا کام کرنا ہے یا نہیں؟

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ آپ ریاست کے ملازم ہیں کسی کے ذاتی ملازم نہیں آپ کمپلین کیوں نہیں بھیجتے؟ کیا مفادات ہیں آپ کے؟ آپ مافیا کے ساتھ ملے ہوئے ہیں؟ ان کا تحفظ کررہے ہیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ آدھے کراچی پر قبضہ ہوا ہے، ملیر چلے جائیں، گلستان جوہر، یونیورسٹی روڈ سب دیکھ لیں، یہ جو پندرہ اور بیس بیس منزلہ عمارتیں بن گئیں کیا قانونی ہیں؟

آپ کو نظر نہیں آتا سب غیر قانونی ہے سب ریونیو کی ملی بھگت سے بنی ہیں سب جعلی کاغذات پر بنائی گئی ہیں، ملیر ندی اور کورنگی برج کے پاس دیکھیں، سینئر ممبر بورڈ آف ریوینیو نے بتایا کورنگی میں کارروائی شروع کررہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے اب تو وہاں ریٹ بڑھ گئے ہوں گے آپ کے اب تو آپ انہیں کہیں گے سپریم کورٹ کا حکم ہے گرانے کا۔

زیادہ ریٹ ہوں گے، آپ باہر نکلتے ہیں یا دفتر میں بیٹھ کر گدی گرم کرتے رہتے ہیں ؟ سینئر ممبر کا کنڈکٹ قابل افسوس ہے اے جی صاحب۔ جسٹس قاضی محمد امین نے ریمارکس دیئے جب یہ عدالتی حکم پر عمل نہیں کررہا تو یہ کیا کرے گا ؟ سینئر ممبر نے کہا کہ میں کوشش کروں گا پورا کام کروں گا

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے آپ کو کیا چیز روکتی ہے ، رکاوٹ کیا ہے ؟ کوشش کرنے کا مطلب یہ ہے کہ رکاوٹیں ہیں مسئلہ کیا ہے ہمیں بتائیں ، چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی کے گرد و نواح میں جائیں دیکھیں سب غیر قانونی تعمیرات ہورہی ہیں ، جائیں جو نام نہاد موٹر وے بنایا ہے وہاں سب قبضہ ہے ، ملیر اور کورنگی میں کیا لوگوں نے خرید کر بنایا ہے ؟

ایئرپورٹ کے ساتھ یہ زمینیں نظر نہیں آتیں غیرقانونی ہیں؟ سینئر ممبر بورڈ نے کہا کہ نوٹس لیتے ہیں کام کرتے ہیں چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نوٹس لیتے ہیں اور حکم دیتے ہیں آپ کو نظر نہیں آتا ، کوئی مجبوری نہیں تو کام کیوں نہیں کررہے ؟

آپ دن میں دس چٹھیاں ( خطوط) لکھیں اس سے فرق نہیں پڑے گا ، آپ کا کام عملی طور پر نظر آنا چاہئے آپ عمل درآمد کریں ورنہ آپ پر توہین عدالت کا کیس چلے گا اور جیل جائیں گے ، ہمیں پانچ منٹ لگیں گے آرڈر کرنے میں، آپ کو شہریوں کی خدمت کیلئے بٹھایا گیا ہے

ماسٹرز کیلئے نہیں ، یہ عہدہ آپ کو اللہ نے دیا ہے کسی اور نے نہیں اگر آپ نے خریدا ہے تو الگ بات ہے عدالت نے سرکاری زمینوں سے قبضہ ختم کرنے سے متعلق سینئر ممبر کی رپورٹ مسترد کردی۔

عدالت نے سینئر ممبر کو عدالتی حکم پر مکمل عمل درآمد کرانے اور سرکاری زمینوں سے قبضہ ختم کرانے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ نے سینئر ممبر کو ایک ماہ میں جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

اہم خبریں سے مزید