• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کےمعاشی امور علماکے سپرد کیے جائیں،عبدالاعلیٰ درانی

بریڈفورڈ(پ ر)مہنگائی کابڑاسبب وہ غیر ملکی قرضے ہیں جن کی وجہ سے ملک کے اکثر اثاثے گروی رکھے جاچکے ہیں ۔ وزیراعظم کوششوں کے باوجود ان سے چھٹکاراحاصل نہیں کرسکے ،اس مسئلہ کا ایک ہی حل ہے کہ وزارت خزانہ اور معاشی اسکیموں سے آئی ایم ایف کے ملازموں کو الگ کیاجائے اور یہ منصب علمائے دین کے حوالے کیاجائے ،ان دیسی انگریزوں نے ملک کی لٹیا ڈبودلی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار اسلامی اسکالر حافظ عبدالاعلی درانی سیکرٹری نشر واشاعت مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ نے اپنے بیان میں کیا۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو اس کے مطابق ماحول بھی بنائیں ، ملک میں نظام زکوٰۃ نافذ کریں سب کچھ درست ہوجائے گا،انہوں نے کہاصرف باتوں اورتقریروں سے ملک کی معاشی حالت سدھر نہیں سکتی، آج حالت یہ ہے کہ پاکستان دنیا کا سب سے زیادہ قرضے لینے والا ملک بن چکاہے ،انہوں نے کہاعالمی بینک قرضہ طے کرتے وقت ہمیشہ پانچ چیزوں کا مطالبہ کرتاہے کہ بجلی اور گیس مہنگی کی جائے ، محصولات میں اضافے کیلئے مزید ٹیکس لگائے جائیں ،بیمار صنعتوں اور غیرضروری سرکاری اداروں کی نجکاری کی جائے ،زرعی شعبے کی سبسڈی بند کی جائے ،کرنسی ایکسچینج اسٹیٹ بینک کی بجائے اوپن مارکیٹ کیلئے چھوڑ دیا جائے اورجواب میں حکومت صرف پہلے مطالبے کوہی مانتی ہے اور ہر چوتھے دن گیس ،بجلی کی قیمتیں بڑھاتی ہے جوغریب عوام کوبرداشت کرنا پڑتاہے ، اشرافیہ اس بحران سے لاتعلق ہے ، تیسرے مطالبے کی طرف دھیان نہیں دیتی، اس کے علاوہ غیرضروری اداروں ، تنخواہوں اور پنشن کے نظام پر بھی نظرثانی کی سخت ضرورت ہے اور ان سب سے زیادہ کرپشن ختم کرنے کیلئے چین کی طرح سخت سزائیں مقررکی جائیں محض چور ڈاکوکاشور مچانا قطعاًحل نہیں ہے چند چور ہی ملک سے باہر ہیں باقی تو سب ملک ہی میں دندناتے پھررہے ہیں بلکہ حکومت اور سیاست کے کل پرزے بنے ہوئے ہیں، ان سے ریکوری کیوں نہیں کی جارہی ،مولاناعبدالاعلیٰ نے کہااگرکرپشن کی سزائیں چین کی طرح اور نظام زکوٰۃنافذ کردیاجائے توملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتاہے۔ مولاناعبدالاعلیٰ نے کہا اگرعمران خان بھی ناکام ہو گئے تو آئندہ کئی دہائیوں تک یہ ملک سدھر نہیں سکتا، نہ عوام کسی پر اعتماد کریں گے ،حل صرف یہی ہے کہ اس نظریاتی ملک کو اسلامی بنیادوں پر استوار کیاجائے ورنہ ہماری اگلی نسلیں بھی دلدل سے نہیں نکل سکتیں۔
یورپ سے سے مزید