• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نصرت سحر عباسی

گو کہ سندھ اسمبلی، حزبِ اختلاف کے ارکان سے بَھری ہوئی ہے، مگر اِس ایوان کی ایک رُکن ایسی ہیں، جو اپنی ذات میں’’ پوری اپوزیشن‘‘ ہیں۔ نڈر، بےباک اور دبنگ خاتون رکن، نصرت سحر عباسی گزشتہ 13برسوں سے برسرِاقتدار جماعت، پیپلز پارٹی کے اعصاب پر سوار ہیں۔ فنکشنل لیگ سے تعلق رکھنے والی نصرت سحر پہلی بار 2008ء میں مخصوص نشست پر سندھ اسمبلی کا حصّہ بنیں، اِس دوران اُنھوں نے نہ صرف ایوان میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا، بلکہ صوبائی سیاست میں بھی بہت متحرّک رہیں۔ یہی وجہ تھی کہ اُن کی جماعت نے 2013ء اور پھر 2018ء میں بھی اُنھیں ایوان میں بھیجنا ضروری سمجھا۔

29 جنوری 1969ء کو روہڑی سیمنٹ فیکٹری کی ایک کالونی میں’’ سیال‘‘ خاندان میں پیدا ہوئیں، عباسی کا لفظ شادی کے بعد نام کا حصّہ بنا کہ شوہر عباسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔نصرت سحر انجنیئر بننا چاہتی تھیں، لیکن والد کی اچانک وفات کی وجہ سے بہن، بھائیوں کی ذمّے داری اُن کے کندھوں پر آگئی۔ یوں تعلیم کے ساتھ تین، تین نوکریاں بھی کرنی پڑیں۔ 

انجنیئرنگ کی بجائے وکالت کی طرف آئیں اور ایل ایل بی کے بعد خیرپور میں پریکٹس شروع کردی۔ وہاں اُن کا اپنا چیمبر تھا، بہت سے کرمنل اور فیملی کیسز لڑے اور جیتے بھی۔ وکالت کا یہ سلسلہ تقریباً 9 برس جاری رہا۔ بعدازاں، سُسر کی خواہش پر سیاست میں قدم رکھا۔سُسر، اللہ بخش عباسی، صدر ضیاء الحق کی مجلسِ شوریٰ کا حصّہ رہے۔ اُنھوں نے ہی نصرت سحر کو پیر صاحب پگارا( مرحوم) سے متعارف کروایا۔ کافی عرصے تک پارٹی میں بہ طورِ کارکن کام کرتی رہیں، پھر ضلعی صدر منتخب ہوئیں، بعدازاں پارٹی نے سندھ اسمبلی کا رُکن بنوایا۔

متوسّط اور ورکر کلاس سے تعلق رکھنے والی خاتون کا یوں اسمبلی پہنچنا اور وہ بھی ایک ایسے علاقے سے، جہاں سیاست پر وڈیروں اور جاگیرداروں ہی کا حق سمجھا جاتا ہو، یقیناً کسی سیاسی عجوبے سے کم نہیں۔اِس کے ساتھ یہ بات بھی کم اہم نہیں کہ فعال سیاست کے باوجود اُن کا دامن کسی طرح کے اسکینڈلز سے داغ دار نہیں ہوا۔روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں شایع ہونے والے ایک انٹرویو میں اُنھوں نے خواتین کے سیاسی کردار سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’’ ہماری خواتین 21 ویں صدی میں بھی سیاست کا حصّہ بنتے ہوئے ڈرتی ہیں۔ 

اِس خوف کا سبب یہ ہے کہ ہمارے ہاں ابھی تک یہ بات ذہنوں میں بیٹھی ہوئی ہے کہ سیاسی خواتین ’’ ٹھیک‘‘ نہیں ہوتیں، حالاں کہ اچھے، بُرے لوگ تو ہر جگہ ہوتے ہیں۔ نیز، سیاسی پارٹیوں میں بھی خواتین کے لیے طرح طرح کے مسائل پیدا کیے جاتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ اب خواتین میں شعور بڑھ رہا ہے اور وہ کسی کی گھٹیا خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بننے کی بجائے، اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے منفی سلوک کے خلاف آواز اُٹھا رہی ہیں۔ اگرچہ صورتِ حال آئیڈیل نہیں، مگر خواتین، خاص طور پر پڑھی لکھی خواتین کو سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصّہ لینا چاہیے تاکہ حقوق کے تحفّظ کے ساتھ، خواتین سے جُڑی منفی باتوں کا بھی تدارک ہو سکے۔

یہ شوہر کے اعتماد اور تعاون ہی کا نتیجہ ہے کہ اتنی فعال سیاست کر رہی ہوں۔ خواتین کو ہمیشہ مشورہ دیتی ہوں کہ اگر والد، بھائی یا شوہر کا اعتماد حاصل نہ ہو، تو وہ کسی ایسی سرگرمی کا حصّہ نہ بنیں، جس کے لیے اُنھیں گھر سے باہر وقت گزارنا پڑے، ورنہ گھریلو زندگی میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘اپنی سیاسی وابستگی اور مزاج میں تلخی سے متعلق اُن کا کہنا ہے،’’ شاید اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ سُسر کا پیر صاحب پگارا سے بہت گہرا تعلق تھا، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی ایک مدّت سے سندھ پر حکومت کرتی چلی آ رہی ہے، مگر اس کے باوجود، صوبے کے عوام، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات تک سے محروم ہیں۔ 

سو، میرے لیے ممکن نہیں تھا کہ اس طرح کی پارٹی کا حصّہ بنوں۔ مَیں روز مرّہ زندگی کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہوں، پھر یہ کہ وکالت کے دَوران بھی عوام، خاص طور پر خواتین پر ہونے والے مظالم دیکھ کر میرے اندر اس نظام اور اسے سپورٹ کرنے والوں کے خلاف ایک طرح کی تلخی سی پیدا ہو گئی۔ جب خیرپور میں وکالت کیا کرتی تھی، تو ایک روز شوہر نے اپنی بیوی کو محض اس لیے بَھری عدالت میں قتل کردیا کہ اُس نے خلع کے لیے درخواست کیوں دائر کی تھی، حالاں کہ اُس خاتون کے حالات ایسے تھے کہ وہ خلع لینے میں حق بجانب تھی۔ جب وزراء اسمبلی میں کھڑے ہوکر’’ سب ٹھیک ہے‘‘ کا وِرد کرتے ہیں، تو مجھ سے یہ جھوٹ برداشت نہیں ہوتا اور پھر اُن کو آئینہ دِکھا دیتی ہوں، تو اُنھیں بُرا لگتا ہے۔‘‘

طیش میں آکر ڈپٹی اسپیکر کو جوتا دِکھاتے ہوئے
طیش میں آکر ڈپٹی اسپیکر کو جوتا دِکھاتے ہوئے

نصرت سحر عباسی کی سندھ اسمبلی میں موجودگی اُن کی جماعت اور اپوزیشن کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں کہ وہ اپنی تندو تیز تقاریر اور صوبے کی حکم ران جماعت پر بے لاگ تنقید کرنے کے معاملے میں کسی سمجھوتے کی قائل نہیں۔ اسمبلی اجلاسوں میں نوک جھونک تو چلتی رہتی ہے، لیکن اُن کی تقاریر سے کئی بار ایسے تنازعات بھی سامنے آئے، جن کی گونج کئی روز تک قومی سطح پر بھی سُنی گئی۔ 

یہ جنوری 2017ء کی بات ہے۔ نصرت سحر نے وزیر ورکس اینڈ سروسز، امداد پتافی سے ایک سوال پوچھا، مگر وہ تسلّی بخش جواب نہیں دے پا رہے تھے، دوسری طرف، وہ اپنے جواب پر اصرار کر رہی تھیں۔وزیر نے اُن کی طرف دیکھا اور کہا،’’ ڈراما کوئین ، بیٹھ جائیں،چیمبر میں آؤ، وہاں جواب دوں گا۔‘‘اُنھوں نے اسپیکر، شہلا رضا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا،’’میڈم! اِس کو صرف اخبار میں آنا ہے تاکہ اس کا فوٹو شائع ہو۔ یہ اسمبلی کی ڈراما کوئن ہے، اس کو ہر صُورت ٹی وی پر آنا ہے۔‘‘یقیناً یہ ایک انتہائی توہین آمیز بات تھی، جس پر خاتون رُکن کا مشتعل ہونا ایک فطری امر تھا، سو اُنھوں نے اس پر اپنے مزاج کے مطابق احتجاج کیا۔نصرت سحر عباسی نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا،’’ آپ بھی ایک خاتون ہیں، وہ مسلسل بدتمیزی کرتا رہا، مگر آپ نے کچھ نہیں کہا۔

چیمبر میں آپ اپنی ماؤں، بہنوں کو بلائیں۔‘‘اسپیکر نے اجلاس ملتوی کرنے میں عافیت سمجھی۔تاہم، جب دوسرے روز دوبارہ اجلاس ہوا، تو نصرت سحر پیٹرول سے بَھری بوتل ساتھ لے گئیں اور کہا،’’ اگر اُن سے معافی نہ مانگی گئی، تو وہ ایوان میں خود کو آگ لگا لیں گی۔‘‘ خاتون رکن کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کے خلاف فنکشنل لیگ اور دیگر کی جانب سے سندھ کے کئی شہروں میں مظاہرے بھی ہوئے اور بلاول بھٹّو نے بھی اپنی پارٹی کے وزیر کی اس حرکت کا سخت نوٹس لیا، جس پر صوبائی وزیر، اجلاس کے دَوران نصرت سحر عباسی کی نشست پر گئے اور سندھ کی روایت کے مطابق اجرک اوڑھا کر اُن سے معافی مانگی۔اُنھوں نے اِس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے کہا،’’3 روز قبل جو واقعہ رونما ہوا، اس پر نصرت سحر اور پورے ایوان سے معذرت کرتا ہوں، نصرت سحر میری بہنوں کی طرح ہیں۔‘‘ 

جواباً نصرت سحر نے کہا کہ ’’میرے ساتھ جو کچھ ہوا، اس پر مَیں اور میرے اہلِ خانہ بہت زیادہ دُکھی اور غم زدہ تھے، امداد پتافی کو کبھی معاف نہ کرتی، لیکن سندھ کی روایات کے مطابق میرے سَر پر اجرک رکھی گئی، اِس لیے اُنہیں دل سے معاف کرتی ہوں۔‘‘اِسی طرح کا ایک اور واقعہ مئی 2018ء میں پیش آیا۔سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ممتاز جاکھرانی بجٹ پر بحث کر رہے تھے اور اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ بھی جاری تھا، اِس دوران اُنہوں نے نصرت سحر عباسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا،’’ یہ ایوان میں بہت شور شرابا کرتی ہیں، لیکن یہ نہیں بتاتیں کہ اُنہوں نے پیپلزپارٹی سے کتنے فوائد سمیٹے ہیں۔‘‘ 

ممتاز جاکھرانی نے الزام لگایا کہ نصرت سحر نے گیان چند سے باردانے کی بوریاں لی ہیں۔‘‘یہ سُنتے ہی نصرت سحر طیش میں آگئیں، ڈپٹی اسپیکر، شہلا رضا نے ٹوکا، تو اُنھوں نے پاؤں اوپر کرکے اُنھیں اپنا جوتا دِکھاتے ہوئے کہا،’’ صرف جوتا دِکھا ہی نہیں رہی، مار بھی سکتی ہوں۔‘‘ اِس پر شہلا رضا نے ترکی بہ ترکی جواب دیا،’’ مجھے جوتا مارا، تو اُس دن تمھارے سَر پر بال نہیں بچیں گے۔‘‘ نصرت سحر نے کہا،’’ہاں ہاں دیکھیں گے۔جتنے بال آپ کے سر پر بچے ہیں، اِتنے میرے سَر پر بھی بچ جائیں گے۔‘‘ قصّہ مختصر، ڈپٹی اسپیکر، شہلا رضا نے سارجنٹ بلوا کر انھیں ایوان سے نکلوا دیا۔

نصرت سحر عبّاسی اب بھی سندھ اسمبلی کی رُکن ہیں اور ایوان میں تقاریر کرتی نظر آتی ہیں، جب کہ مختلف پروگرامز میں بھی شریک ہوتی ہیں، مگر رواں برس اگست سے اُن کی سیاسی سرگرمیاں کافی محدود ہو چُکی ہیں اور اس کا سبب اُن کی شخصیت میں آنے والا انقلاب ہے۔وہ جولائی میں کورونا وبا کی لپیٹ میں آئیں، جس کے سبب اُنھیں اسپتال منتقل کرنا پڑا، پھر 16اگست کو اُنھوں نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں اُنھوں نے خود کو پوری طرح برقعے میں لپیٹ رکھا تھا۔ اس ویڈیو میں اُن کا کہنا تھا کہ’’ اللہ پاک نے مجھے ہدایت دی ہے۔

کئی لوگ اچانک اسلام قبول کر لیتے ہیں، مجھے بھی اِسی طرح ہدایت ملی ہے۔ مَیں پردے میں رہتے ہوئے حق اور سچ کے لیے اسمبلی میں اپنی آواز بلند کرتی رہوں گی۔میری آواز ہی میری پہچان ہے، لہٰذا لوگ اب مجھے میری آواز ہی سے اسمبلی میں پہچانیں گے۔ میرے لیے پردے کا فیصلہ مشکل تھا، لیکن جب انسان کی نیّت صاف ہو، تو اللہ مشکل آسان کردیتا ہے۔‘‘جیو نیوز سے گفتگو میں اُنھوں نے اپنے اِس فیصلے کی مزید تفصیل بیان کی کہ’’ مَیں، شوہر اور تینوں بچّے ڈیلٹا وائرس کا شکار ہوئے ،تو مَیں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا۔

پھر یہ کہ شوہر بھی اکثر دھیمے انداز میں کہتے رہتے تھے کہ’’ مجھے شرعی پردہ پسند ہے، اگر تم اسے اپنالو، تو مجھے خوشی ہوگی۔‘‘ بیٹا بھی یہی کہتا، تو مَیں اُسے ڈانٹ ڈپٹ کر چُپ کروا دیا کرتی، مگر اب مَیں نے باقاعدہ حجاب کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور4 اگست کو پہلی بار مختلف مقامات پر پردے کے ساتھ گئی۔ لوگ کہتے ہیں کہ مَیں نے یہ رُوپ شہرت کے لیے اختیار کیا ہے، تو کیا اِس سے پہلے لوگ مجھےنہیں جانتے تھے؟ 

پارٹی قیادت نے میرے فیصلے کو سراہا ہے اور لوگ بھی بہت احترام سے پیش آتے ہیں، البتہ یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ مَیں اپنی بیٹیوں کو بھی پردے کی ترغیب دے رہی ہوں، لیکن زبردستی نہیں کرسکتی، اِس لیے اگر کبھی کوئی مجھے بیٹیوں کے ساتھ دیکھے، تو خدا کے لیے ہوٹنگ نہ کرے کہ’’ خود تو پردے میں ہے اور بیٹیاں ویسے ہی جا رہی ہیں۔‘‘

بہر کیف، دیکھنا یہ ہے کہ اب نصرت سحر عباسی اِس نئے انداز میں کس طرح عوام کی ترجمانی کا فریضہ سَرانجام دیتی ہیں اور کیا اُن کا روایتی دبنگ انداز برقرار رہے گا؟ (جاری ہے)

سنڈے میگزین سے مزید