• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر علامہ محمداقبالؒ نے مشرق اور مغرب کو اپنی شاعری سے متاثر کیا، مقررین

اسٹاک ہوم (زبیر حسین) اقبال اکیڈمی اسکینڈے نیویا نے اسٹاک ہوم کے علاقے شستا میں اقبالؒ کے حوالے سے تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب کی صدارت سفیر پاکستان ڈاکٹر ظہور احمد نے کی، تقریب کے مہمانانِ خصوصی سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ہینسز ویرنر ویسلر، گلوبل مینجمنٹ کنسلٹنٹ اور پاک فاریسٹ تنظیم کی سربراہ اینیلی پرشون بیک، ایرانی کلچرل اتاشی کے قونصلر سید ضیا ہاشمی تھے، تقریب کا آغاز حافظ علی قدیر نے تلاوتِ قرآن ِپاک اور کاشف فرخ نے رسول اکرمﷺ کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت پیش کر کے کیا۔ اقبال اکیڈمی اسکینڈے نیویا کے چیئرمین ڈاکٹر عارف محمودکسانہ اوراسٹیج سیکرٹری عمران کھوکھر نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور اقبال اکیڈمی اسکینڈے نیویا کا دوبارہ احیا اور اقبال اکیڈمی لاہور کے ساتھ اشتراک کے حوالے سے آگاہی فراہم کی۔نوشین شاہد گجر اور دین سیال چوہدری نے علامہ اقبال کی زندگی اور افکار کے حوالے سے اظہار خیالات کیا ۔جمیل احسن نے منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ ادارہ منہاج القرآن اسٹاک ہوم کے ڈائریکٹر ظفر عباس طاہر نے علامہ اقبال کی حیات کے اہم پہلوؤں کا ذکر کیا۔اینیلی پرشون بیک کا کہنا تھا کہ پاکستان سے میرا تعارف علامہ اقبال کے حوالے سے ہوا اور ان کتاب اسرار خودی سے میں بہت متاثر ہوئی۔ پروفیسر ڈاکٹر ہینسز ویرنر ویسلر نے علامہ اقبال کی شاعری اور ان کے کام پر تفصیلی مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے مشرق اور مغرب دونوں کو متاثر کیا، وہ اردو کے مقبول ترین شاعر ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند ہے کہ پاکستان میں اقبالیات کی تعلیم و تدریس پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ڈاکٹر سید ضیا ہاشمی نے ایران میں فکر اقبال کے فروغ کے حوالے سے کہا کہ اہل ایران علامہ اقبال کو ایرانی سمجھتے ہیں۔ ایران کے عظیم اسکالر ڈاکٹر علی شریعتی، سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی اور دیگر اہل علم نے فکر اقبال سے رہنمائی لی ہے۔ علامہ ذاکر حسین نے فکر اقبال کے فروغ اور دیگر علمی، ادبی اور سماجی خدمات پر عارف کسانہ اور ان کے اہل خانہ کی کوششوں کو سراہا۔اقبال اکیڈمی لاہور کی جانب سے چوہدری فہیم ارشد نے پیغام بھیجا جس میں فکر اقبال کے حوالے سے اہم نکات کو اجاگر کیا گیا۔ سفیر پاکستان ڈاکٹر ظہور احمد نے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ علامہ اقبال کی شاعری اور فکر کو سویڈش زبان میں ترجمہ کیا جائے۔تقریب میں پاکستانی کمیونٹی شخصیات شہزاد انصاری، شہاب قادری، سعید شیخ، جمشید گل، زبیر حسین، علی قدیر ، چوہدری ظفر اقبال سمیت خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اقبال اکیڈمی کی کاوشوں کے حوالے سے اپنے مثبت خیالات کا اظہار کیا۔تقریب کے اختتام پر نقاش پاکستان چوہدری رحمت علی، فیض احمد فیض اور بابا گرونانک کو ان کے یوم ولادت اور برسی کے موقع پر خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر نذیر احمد، سائیں رحمت علی اور دیگر مرحومین کے لئے علامہ ذاکر حسین نے دعائے مغفرت کروائی۔ 
یورپ سے سے مزید