• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ڈیٹ لائن لندن…آصف ڈار
ایسا لگتا ہے کہ کورونا وائرس کی گزشتہ لہروں سے ڈری ہوئی برطانوی حکومت اب وائرس کی نئی قسم اومی کرون کی ملک میں آمد اور اس کے تیزی کے ساتھ پھیلتے ہوئے خدشات کے باوجود کسی بھی قسم کا لاک ڈائون لگانے کے حق میں نہیں ہے، اس کی دوسری وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک بڑی وجہ ملک کی اقتصادی صورت حال بھی ہے، گزشتہ تقریباً دو برس کے دوران حکومت کو ملک کی معیشت چلانے کے لیے بھاری قرضے لینے پڑے، ڈیڑھ برس سے زیادہ عرصے تک اسے فرلو اسکیم کے ذریعے اربوں پونڈ خرچ کرنے پڑے تاکہ ملازمین کی نوکریوں کو بچایا جاسکے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے مالکان نے فرلو کے ثمرات تو اٹھائے لیکن اس کے ختم ہوتے ہی اپنے کاروبار بھی بند کردئیے اور بڑی تعداد میں لوگ اس سے بیروزگار بھی ہوئے، اب اگر نئی قسم کے وائرس کے آنے کے بعد حکومت کو لاک ڈائون لگانا پڑ جاتا ہے تو اس سے معیشت کو مزید نقصان ہوگا، وہ کاروبار جو لاک ڈائون ختم ہونے کے بعد رینگتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں ان کو ایک بار پھر نقصان ہوگا، اس میں ہوٹلز، ریستوران اور ائر لائنز کے کاروبار سرفہرست ہیں،حکومت گزشتہ لاک ڈائون اٹھانے کے بعد یہ وعدہ کرچکی ہے کہ اب دوبارہ ایسا نہیں ہوگا کیونکہ اسے یقین تھا کہ ویکسین کی دونوں ڈوز اور بوسٹر جاب لینے کے بعد برطانیہ میں بڑی تعداد میں اموات کا خدشہ ختم ہوجائے گا، تاہم اس کے باوجود برطانیہ میں اب بھی 125 کے قریب روزانہ کورونا سے اموات ہورہی ہیں، سات ہزار سے زیادہ کورونا مریض ہسپتالوں میں داخل ہیں جب کہ 40ہزار کے قریب کورونا کیسز روزانہ سامنے آرہے ہیں، اگرچہ حکومت ان اعداد و شمار پر نظر رکھے ہوئے ہے مگر اس نے ویکسین کے باعث لوگوں کی قوت مدافعت بڑھانے اور ملک کی معیشت کو دوبارہ پٹڑی پر چڑھانے کے لیے خاموشی اختیار کر رکھی تھی، میڈیا نے بھی اس معاملے پر آنکھیں موند لی تھیں، برا ہو سائوتھ افریقہ سے آنے والے وائرس کا کہ جس نے دنیا بھر میں ایک مرتبہ پھر کورونا کی ہیڈ لائنز بنا دیں، بڑی اموات سے سہمے ہوئے یورپی ممالک اور امریکہ نے اس حوالے سے فوری اقدامات کیے جب کہ عالمی ادارہ صحت نے بھی بروقت اس نئی قسم کو خطرناک قرار دے کر برطانوی حکومت کو خواب غفلت سے جگایا اور وزیراعظم بورس جانسن کو اپنے صحت کے مشیروں کو ڈائون اسٹریٹ میں بلاکر پریس کانفرنس کرنا پڑی، تینوں کی باڈی لینگویج یہ بتا رہی تھی کہ ملک دوبارہ لاک ڈائون کا متحمل نہیں ہوسکتا، اس لیے جیسے چل رہا ہے ویسے چلتا رہنا چاہیے تاہم حکومت کے لیے عالمی ادارہ صحت کی وارننگ کو نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں،اس لئے اس نے چند افریقی ملکوں کوریڈ زون میں ڈال کر لوگوں کو یہ اطمینان دلایا ہے کہ نیا وائرس اب برطانیہ میں مزید نہیں آئے گا، اس کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک سے آنے والوں کے لیے پی سی آر ٹیسٹ اور 10 دن کا قرنطینہ بھی لازمی کردیا گیا ہے، تاہم وہ لوگ قرنطینہ گھر میں کرسکیں گے جوریڈ زون سے نہیں آئیں گے، اس کے علاوہ دکانوں پر جانے کے لیے دوبارہ ماسک لگانے کی پابندی کی گئی ہے جب کہ عوامی ٹرانسپورٹ پر پہلے ہی ماسک لگانے کی پابندی ہے، اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ صحت وائرس کی اس قسم کو بھی تیزی سے پھیلتا دیکھ رہا ہے،تاہم برطانوی حکومت کویقین ہے کہ ویکسین اور بوسٹر کے کامیاب پروگرام کے بعد برطانیہ کی وہ صورت حال نہیں ہوگی جو گزشتہ برس کے اختتام اور اس کے اوائل میں تھی۔ البتہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے اس بات سے سمجھوتہ کرلیا ہے کہ سو دو سو اموات تو بہر صورت ہونی ہی ہیں اور یہ کہ اب کورونا نے کہیں نہیں جانا، اس لیے لوگوں کو اس کے ساتھ رہنے اور جینے کی عادت ڈالنا ہوگی۔ 
یورپ سے سے مزید