• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:صبازبیری۔۔۔برمنگھم
ہر فرد اس کائنات کی اکائی ہے اور اپنے اندر ایک پوری کائنات رکھتا ہے جب یہ فرد اپنے جوڑ سے ملتا ہے تو ایک خاندان کی بنیاد پڑتی ہے اور اسی طرح بڑھتے بڑھتے معاشرہ،قوم، ملک اور ریاست بنتی ہے، ان سب کی بنیاد خاندان اور خاندانی نظام ہیں کیونکہ یہ نظام ہی خاندان، نسل،معاشرہ اور قوم کے مستقبل کا تعین کرتا ہے، اسی لیے یہ جتنا مضبوط اور منصفانہ ہو گا اتنی ہی مضبوط اور قوت ارادی سے بھرپور نسل پروان چڑھے گی جس طرح معاشرے کا پورا ڈھانچہ انصاف پر کھڑا ہوتا ہے کہ اگر کسی معاشرے سے انصاف نکال دیا جائے تو وہ معاشرہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنے ہی پیروں پر آ گر تا ہے بالکل اسی طرح اس معاشرے کی دوا کائیاں یعنی میاں اور بیوی جب ایک معاہدہ یعنی نکاح نامہ پر دستخط کرتے ہیں ،اللہ کو حاضر ناظر جان کر اور کئی گواہان کے سامنے اور آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے یہ حلف اٹھاتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کا لباس بن کر رہیں گے، اچھائیوں اور برائیوں کوساتھ قبول کریں گے، ہر بیماری، دکھ، پریشانی ،آزمائش اور تکلیف میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے، قرآن میں اس ایک واحد رشتے کے لئے لباس کا لفظ استعمال ہوا ہے کہ ایک دوسرے کی خامیوں کو چھپایا جائے اور دوسروں کے سامنے عزت رکھی جائے مگر ہم نے اس لباس کو عورت کے سر پر باندھ دیا اور مرد کے پائوںمیں ،ساری زندگی دونوں اس کو کھینچ کھینچ کر جسم چھپا نے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن برہنہ ہی رہتے ہیں۔اگرچہ معاشرے کا پورا وجود اس ایک رشتے پر ہی قائم ہوتا ہے، یہ رشتہ اور اس کی حساسیت ہی مل جل کر نسلوں کو پروان چڑھاتے ہیں،اس دنیا میں آنے سے پہلے اور اس زمین سے جانے کے بعد یہ واحد رشتہ ہے جو ایسا ہی رہے گا، انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے معاشرے میں حرام اور حلال کی تمیز ختم ہوگئی ہے، مجھے اردو ادب کے شعرا سے ذاتی گلہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے اس معاشرے کے ریڑھ کی ہڈی یعنی (میاں بیوی کے اس رشتے)کو اپنی جگہ سے ہٹا دیا۔ کئی دیوان،غزلیں،نظمیں اور اشعار عورت کی خوبصورتی،نازک اندامی اور دلربائی سے بھرے پڑے ہیں لیکن وہ عورت بیوی ہرگز بھی نہیں وہ شاعر جو عورت کے حسن میں زمین آسمان کے قلابے ملاتا ہے، بیوی پر مزاحیہ اور طنزیہ نظمیں غزلیں لکھتا ہے،اصول تو یہ ہونا چاہیے کہ مرد اور عورت دونوں ایک نئے گھر خاندان اور نسل کی بنیاد رکھیں لیکن یہ ساری کی ساری ذمہ داری صرف عورت کے سر پر ڈال کر مرد کو مکمل آزاد کر دیا گیا ،ستم بر اے ستم یہ کہ جن مرد وعورت کو نکاح کرکے ایک دوسرے کو سمجھنا تھا اب عورت کے سر پر سارے گھر والوں کو خوش کرنے کا عذاب نازل کر دیا گیا اور شوہر اس عذاب کے پل صراط کی دوسری جانب جا کر کھڑا ہوا نہ گھر والوں کے مسئلہ ختم ہوں گے نہ میاں بیوی کی ذہنی ہم آہنگی ہو پائے گی، خاتون کے لیے تو یہ رشتہ ایک ملکہ بنانے والا تھا مگر وہ تو زر خرید لونڈی بنا دی گئی اور مرد کے لیے جائز راستہ بند کیا گیا تو وہ ناجائز راستوں پر منہ مارنے لگا،ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جس میں ہم طاقتور اور ظالم کا ساتھ دیتے ہیں اور مظلوم کو مزید دبا نے لگتے ہیں اگر مرد زنا کرے تو ہم بیوی کو بچوں کا واسطہ دے کر اور صبر اور برداشت کی تلقین کر کے کچھ ڈراوے دے کر چپ کرا دیتے ہیں مگر اگر یہ گناہ کوئی خاتون کرے تو اسے غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے ہماری غیرت بھی کتنے کمال کی ہے کہ یہ بس ہمارے نا پسندیدہ کاموں اور ناپسندیدہ لوگوں پر ہی جاگتی ہے،ہم ایک ایسی باکمال قوم ہیں کہ عزت کی پگڑی ایک ناتواں کمزور وجود کے سر پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو چکے ہیں،ہمارے بزرگوں کی تربیت میں کچھ کمی رہ گئی ہے، انہوں نے غلط جگہ تربیت میں اپنی محنت ضائع کی اصل تربیت تو مرد کے ہونی چاہیے تھی کہ وہ قوام ہے رکھوالا ہے محافظ ہے، عزت کرنا اور عزت بنانا سکھانا چاہیے تھا، اسے اپنے زوج سے محبت کرنا اور اس کی حفاظت کرنا سکھانا تھا لیکن بیوی پر انتہا درجے کے مذاق اور لطائف بنا کر اسے خود سر،لالچی اور ہڈ حرام ثابت کیا گیا ،بیوی کا برابری کا درجہ ان لطائف کی زد میں آکر احساس کمتری کا شکار ہو گیا اور ساتھ ہی شوہر احساس برتری میں مبتلا ہوگیا ،اس رشتے میں یہ دونوں احساس جس قدر خطرناک ہیں وہ آج ہم سب بھگت رہے ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں اپنی تربیت کا رخ بدلنا ہوگا، ہمیں مردوں کو بیوی کی عزت کرنا سکھانا ہے، سمجھانا ہوگا کہ ان کی ساتھی مذاق نہیں ان کی ذمہ داری ہے اور دوسری خواتین کی عزت کو محفوظ رکھنا ہے اور یہ بھی تربیت کرنی ہے کہ بیوی لباس ہے جسے وہ اپنے خاندان کے دوسرے افراد کی خوشی کے لئے تارتار نہیں کر سکتے،جھوٹ، دھوکا،فریب، زنا سے باز رکھنا ہوگا کوئی دوسری خاتون اس کے لئے موقع نہیں ہے ،یہ بات ذہن نشین کرانی ہوگی اور یہ بھی کہ اپنی ذمہ داری اپنی محبت اور اپنے ساتھی کو اتنی اذیت نہ دیں کہ وہ سانس لینے کے لئے کوئی دوسری کھڑکی، کوئی اور دروازہ تلاش کرنے پر مجبور ہو جائے۔ 
یورپ سے سے مزید