• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اصل آڈیو کہاں ہے؟ چیف جسٹس کی ریکارڈنگ صلاحیت کس کے پاس، کیا انہی کے ہاتھوں کھیلیں جنہوں نے یہ سب کیا، اسلام آباد ہائیکورٹ


اسلام آباد (این این آئی، جنگ نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کیلئے دائر درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے ہیںکہ فرض کریں آڈیو درست بھی ہے تو اصل کلپ کہاں کس کے پاس ہے؟

اور ایسی تحقیقات سے کل کوئی بھی کلپ لا کر کہے گا تحقیقات کریں، چیف جسٹس کی ریکارڈنگ صلاحیت کس کے پاس ہے، کیا انہی کے ہاتھوں میں کھیلیں جنہوں نے یہ سب کیا، کیا آڈیوریکارڈ کرنیوالوں نے ریلیز کی یا امریکا میں بیٹھے کسی آدمی نے، ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو جن زیر التوا اپیلوں سے متعلق ہے انکے درخواست گزار اسےعدالت نہیں لائے

جوڈیشل ایکٹیوازم کے باعث پہلے ہی عدلیہ کو بہت نقصان ہوچکا، سیاسی قوتیں بیانیے بناتی ہیں مگر عدالت نہیں آتیں، سوشل میڈیا پر روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے، کس کس بات کی انکوائری کرائینگے، عدالت نے کمیشن بنانے کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اٹارنی جنرل کو طلب کرلیا۔

پیر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکی مبینہ آڈیوٹیپ کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کی درخواست پر سماعت سماعت ہوئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ درخواست صدرسندھ ہائیکورٹ بار صلاح الدین احمد اورجوڈیشل کمیشن کے ممبر سید حیدر امام رضوی نے دائر کی ہے۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ یہ بتا دیں کہ یہ پٹیشن قابل سماعت کیسے ہے؟ کس کیخلاف رٹ دائر کی گئی؟ آپکی درخواست حاضرسروس چیف جسٹس کے آڈیو کلپ سے متعلق ہے؟ عدالتی استفسار پر درخواست گزار نے کہا کہ درخواست موجودہ چیف جسٹس نہیں بلکہ سابق چیف جسٹس پاکستان کے آڈیو کلپ سے متعلق ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدلیہ کو بڑے چیلنجزکا سامنا کرنا پڑا اور عدلیہ کی آزادی کیلئے بارنے کردارادا کیا، ہم ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں سوشل میڈیا کسی ریگولیشن کے بغیر ہے۔ اس پر درخواست گزار نے کہا کہ یہی بات تکلیف دہ ہے کہ سوشل میڈیا پریہ چیز وائرل ہوئی اوراس پرڈسکشن بھی ہورہی ہے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ روزکچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے،آپ کس کس بات کی انکوائری کرائینگے؟ ہم پہلے اٹارنی جنرل کو پری ایڈمشن نوٹس جاری کرینگے اور اس درخواست کے قابل سماعت ہونے پر بات کرینگے

عدالت نے صرف قانون کے مطابق حقائق کو دیکھنا ہے، جوڈیشل ایکٹوزم میں نہیں جانا، عدالت نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ کوئی فلڈ گیٹ نہیں کھل جائے۔درخواست گزار صلاح الدین احمد ایڈووکیٹ نے کہا کہ پاکستان بار کونسل نے قرار داد منظور کی لہٰذا عدالت مناسب سمجھے تو انہیں بھی نوٹس کردے۔

اس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آئین و قانون کی حکمرانی کیلئے عدالت آپ کا احترام کرتی ہے، آپ کچھ آڈیو کلپس سے رنجیدہ ہیں، چیف جسٹس پاکستان کی آڈیو ٹیپس ریکارڈ کرنے کی صلاحیت کس کے پاس ہے؟ کیا انہوں نے یہ ریلیز کی یا کسی امریکا میں بیٹھے ہوئے آدمی نے؟ مبینہ آڈیو ٹیپ ایک زیر التوا اپیلوں والے کیس سے متعلق ہے، جن کے کیسز سے متعلق ٹیپ ہے انہوں نے معاملہ عدالت لانے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔

چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ فرض کریں آڈیو درست بھی ہے تو اصل کلپ کہاں اور کس کے پاس ہے؟ ایسی تحقیقات سے کل کوئی بھی کلپ لا کر کہے گا تحقیقات کریں۔

بعد ازاں عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اٹارنی جنرل سے معاونت لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے کیس میں پری ایڈمیشن نوٹس جاری کرکے 8؍ دسمبر کو جواب طلب کر لیا۔

اہم خبریں سے مزید