• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بولٹن کی ڈائری۔۔۔ابرار حسین
بولٹن بارو کونسل بولٹن کے کرومپٹن پلیس کی ترقی کے لیے 16 ملین کی ایک بولی لگانےکی آخری تاریخ سے محروم ہوگئی ہے جس سے بولٹن کا کافی نقصان ہوا ہے ۔ٹاؤن سینٹر کرمپٹن پلیس کی ترقی کے لیے 16 ملین کی ʼلیولنگ اپʼ فنڈنگ ​​بولی جمع کرانے کی آخری تاریخ سے محروم ہونے کے بعد کونسل کے سربراہوں پر نااہلی کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ تاہم کنزرویٹو پارٹی کی کونسل کے سربراہان اس ناکامی کو پروجیکٹ کی پیچیدگی اور ʼآئی ٹی سسٹم کے ساتھ تکنیکی مسائلʼ کے لبادے میں اوڑھ کر معاملہ پر مٹی ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ مقامی اخبار میں شائع شدہ تفصیلات کے مطابق مذکورہ فنڈنگ کے حصول کے لئے حکومت کو جمع کروانے کے لیے 18 جون کی ڈیڈ لائن دی گئیتھی جو گزر بھی گئی اور کرومپٹن پلیس کی بولی / بڈ حکومت کو نہیں بھیجی گئی۔ اس انکشاف کی وجہ سے کونسل کی کنزرویٹو قیادت والی انتظامیہ کو ʼنااہلʼ سمجھا جارہا ہے اور اپوزیشن سیاست دانوں کے نزدیک وقت پر بولی نہ لگانابولٹن کنزرویٹو کی ناکامی کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے ۔ کونسل کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک یہ معلوم کرنا باقی ہے کہ آیا تاخیر سے جمع کرانے کے حتمی فیصلے پر کوئی مادی اثر پڑا ہےʼ، جس کا مقصد فنڈنگ ​​کی درخواست کو مسترد کرنا تھا ۔ اس فیصلے کا اعلان 27 اکتوبر کو حکومت کے بجٹ منصوبوں کے حصے کے طور پر کیا گیا تھا۔ یہ انکشاف کہ ڈیڈ لائن چھوٹ گئی تھی گزشتہ رات لیڈر مارٹن کاکس کی طرف سے مکمل کونسل میٹنگ میں اس وقت سامنے آیا جب ان سے لیبر لیڈر کونسلر نک پیل نے اس بارے میں سوال کیا۔ میٹنگ کے بعد بات کرتے ہوئے کونسلر پیل نے بولی کو ʼمکمل شکستʼ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ کونسلر کاکس نے تصدیق کی ہے کہ بولٹن کو لیولنگ اپ فنڈنگ ​​نہیں ملی کیونکہ بولٹن کی ٹوری کونسل نے وقت پر اس کے لیے درخواست نہیں دی تھی۔ کونسلر پیل کا مزید کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر سخت مایوسی ہوئئ ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کی ایک غلطی کی وجہ سے بولٹن کو 16 ملین سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ان کا مزیدکہنا تھاکہ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے جان بوجھ کر کیا گیا ہے اکتوبر میں ملنے والی اطلاع کے مطابق بتایا گیا کہ بولی ناکام ہو گئی ہے مگر موجودہ انتظامیہ اس کی وجوہات کو بولٹن کےعوام کے سامنے بروقت کیوں نہیں لائی؟ "کیا انہیں جون میں معلوم تھا کہ وہ ڈیڈ لائن سے محروم ہو گئے تھے اور اگر انہوں نے ایسا کیا تو انہوں نےیہ مہینوں تک کیوں پوشیدہ رکھا ؟" بولٹن سے متعدد اپوزیشن سیاسی رہنماؤں نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بولٹن کی نااہل ٹوری انتظامیہ بولی لگانے میں ناکام رہی جس کا ثر یہ ہوا ہے کہ ہمیں خطیر فنڈنگ سے محروم کر دیا گیا ہے جبکہ یہ فنڈنگ ​​ایک لائف لائن فراہم کرتی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بہت سی دوسری قریبی کونسلوں بشمول بری، فنڈ کے لیے دو الگ الگ بولیوں میں کامیاب ہوئی ہیں۔ مگر بولٹن کونسل کی کنزرویٹو قیادت کی ناکامی سے یہ ٹاؤن اہم امداد سے محروم رہ گیا یہ ہمارے ٹاؤن سینٹر کے لیے خاص طور پر وبائی امراض کے بعد جبکہ ایک مشکل اقتصادی صورتحال سے دو چار ہے اس طرح کی فنڈنگ کافی اہمیت کی حامل تھی۔ اس حوالے سے بولٹن کونسل کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ہم کرومپٹن پلیس کی بولی کے بارے میں محکمہ برائے لیولنگ، ہاؤسنگ اور کمیونٹیز کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں اور مزید تفصیلات کا انتظار کر رہے ہیں۔ "کرمپٹن پلیس کی تخلیق نو ایک پیچیدہ اور ترقی پذیر منصوبہ ہے، جس میں متعدد تفصیلات شامل ہیں جن کی جمع کرانے کی آخری تاریخ کے قریب تک تصدیق نہیں کی جا سکتی تھی۔ "یہ، آئی ٹی سسٹم کے ساتھ تکنیکی مسائل کے ساتھ مل کر، حتمی دستاویزات کو باضابطہ طور پر جمع کرانے میں تھوڑی تاخیر کا باعث بنا۔ "ہم ابھی بھی محکمے کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں کہ آیا اس کا حتمی فیصلے پر کوئی مادی اثر پڑا یا نہیں۔ اگر ضروری ہوا تو ہم موسم بہار میں دوسری بولی جمع کرائیں گے۔ "ہماری ٹیم کو لیولنگ اپ فنڈنگ ​​کے آخری دور کے لیے دو بولیاں تیار کرنے کا کام سونپا گیا تھا، جس میں بولٹن کالج آف میڈیکل سائنسز کے لیے 20m کی کامیاب درخواست بھی شامل تھی۔" خیال رہے کہ کرومپٹن پلیس کی 250 ملین کی از سر نو تعمیر، جسے گزشتہ سال منصوبہ بندی کی اجازت دی گئی تھی، موجودہ شاپنگ سینٹر کو منہدم کرتے ہوئے 46 نئے ریٹیل یونٹس اور 110 کمروں پر مشتمل ہوٹل کے ساتھ ساتھ 300 اسپیس کار پارک، دفاتر اور 150 سے زائد عمارتیں بنائے جائیں گے۔ گھروں لیولنگ اپ فنڈنگ، اگر کامیاب ہو جاتی، تو عمارت کے مغربی جانب کے انہدام اور دوبارہ ترقی کے لیے استعمال کی جاتی۔ یہ امید ظاہر کی گئی تھی کہ اس فنڈنگ ​​کا ذریعہ ڈویلپمینٹ کرنے والوں کے لیے سرمایہ کاری کو مزید پرکشش بنا دیتا۔ اکتوبر میں اس منصوبے کو ایک اور دھچکا لگا، جب ترقیاتی شراکت دار اس اسکیم سے دستبردار ہوگئے۔ کونسل نے وبائی بیماری اور ʼدفتر کی جگہ کی مانگ میں کمیʼ کو حمایت کرنے والوں کے پیچھے ہٹنے کی کچھ وجوہات کے طور پر بتایا اور کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مستقبل میں نئے تعمیرات کنندگان کی تصدیق ہو جائے گی۔ مقامی اخبار میں اس اہم معاملہ پر مقامی افراد کا ردعمل پیش کیا گیا ہے ایک قاری کا تبصرہ تھا کہ حکومت نے ظاہر کیا ہے کہ وہ شمال کے علاقے کی سطح برابر کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی ۔یہاں یہ بھی خیال رہے کہ بورس جانسن کی حکومت کے زعماء تسلسل سے یہ وعدے کرتے چلے آ رہے ہیں کہ وہ برطانیہ کے شمالی علاقوں کو بھی جنوبی علاقوں کی طرح مساوی فنڈنگ مہیا کریں گے جس کو لیولنگ اپ سے تعبیر کیا جاتا ہے مگر بولٹن کو مذکورہ فنڈنگ سے محروم رکھنے سے حکومت کے دعوؤں کی قلعی کھل جاتی ہے_ اس حوالے سےسابق ایڈوائزر سٹیزن بیورو شیخ محمد یاسین کا کہنا تھا کہ یہ مایوس کن کارکردگی ہے۔انہوں نے تعجب کا اظہار کیا ہے کہ یہ کونسل اپنی ناکامی کی ذمہ داری لینے کے بجائے الفاظ کے گورکھ دھندے سے لوگوں کی توجہ کا رخ بدلنا چاہتی ہے۔
یورپ سے سے مزید