• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دفاع کیلئے دی گئی زمین تجارتی مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہوسکتی، سپریم کورٹ

دفاع کیلئے دی گئی زمین تجارتی مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہوسکتی، سپریم کورٹ


اسلام آباد (ایجنسیاں، جنگ نیوز) سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ فوج جن قوانین کا سہارا لیکر کمرشل سرگرمیاں کرتی ہے وہ غیرآئینی ہیں، فوج ریاست کی زمین پرکمرشل سرگرمیاں کیسے کرسکتی ہے؟چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ فوج کی غیرقانونی تعمیرات کو چھوڑدیں، اگر فوج کی غیرقانونی تعمیرات کو چھوڑدیا تو باقی کوکیسے گرائینگے؟ دفاع کیلئے دی گئی زمین تجارتی مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہو سکتی، زمین حکومت کو واپس دی جائے، فوج ملک کے دفاع کیلئے ہے نہ کہ کاروبار کرنے کیلئے، کیا سینما، شادی ہال، شاپنگ مالز اور اسکول بنانا ملکی دفاع ہے، کراچی میں کالا پُل کے ساتھ والی دیوار اور گرینڈ کنونشن ہال آج ہی گرائیں۔چیف جسٹس نےسیکرٹری دفاع سے 4ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس قاضی محمد امین احمد اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے کنٹونمنٹ اراضی پر کمرشل سرگرمیوں کیخلاف کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے سیکرٹری دفاع کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا سینما، شادی ہال، اسکول اور گھر بنانا دفاعی مقاصد ہیں؟چیف جسٹس نے کہا کہ سینما، شادی ہال اور گھر بنانا اگر دفاعی سرگرمی ہے تو پھر دفاع کیا ہوگا؟ کراچی میں تمام غیر قانونی عمارتیں مسمار کروا رہے ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ فوج کی غیر قانونی تعمیرات کو چھوڑ دیں، فوج کی غیر قانونی تعمیرات کو چھوڑ دیا تو باقی کو کیسے گرائینگے؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فوج کیساتھ قانونی معاونت نہیں ہوتی، وہ جو چاہتے ہیں کرتے رہتے ہیں، فوج جن قوانین کا سہارا لیکر کمرشل سرگرمیاں کرتی ہے وہ غیر آئینی ہیں، کارساز میں سروس روڈ پر بڑی بڑی دیواریں بنا کر اندر تعمیرات کر دی گئی ہیں، کنٹونمنٹ زمین کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ کارساز اور راشد منہاس روڈ پر اشتہارات کیلئے بڑی بڑی دیواریں تعمیر کر دی گئیں، فیصل بیس پر اسکول، شادی ہالز بھی بنے ہوئے ہیں، کوئی بھی دہشت گرد شادی کا مہمان بن کر رن وے پر بھاگ جائیگا، مسرور اور کورنگی ایئربیسز بند کیے جا رہے ہیں، کیا اب ایئربیس بند کر کے وہاں کمرشل سرگرمی شروع کی جائیں گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کنٹونمنٹ زمین دفاعی مقاصد پورا ہونے پر حکومت کو واپس کرنا ہوتی ہے، یہ زمین حکومت نے جن لوگوں سے لی ہے انہیں واپس کریں۔انہوں نے ریمارکس دیئے کہ فوج کو معمولی کاروبار کیلئے اپنے بڑے مقاصد پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے، فوج کو اپنے ادارے کے تقدس کا خیال رکھنا چاہیے، کوئٹہ اور لاہور میں بھی دفاعی زمین پر شاپنگ مالز بنے ہوئے ہیں، سمجھ نہیں آرہی وزارت دفاع کیسے ان سرگرمیوں کو برقرار رکھے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ فوجی افسران کو گھر دینا دفاعی مقاصد میں نہیں آتا، فوج ریاست کی زمین پر کمرشل سرگرمیاں کیسے کر سکتی ہے؟ ریاست کی زمین کا استحصال نہیں کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف کراچی کا مسئلہ نہیں پورے ملک کا یہی حال ہے، ایک ریٹائرڈ میجر گلوبل مارکی کیلئے زمین کیسے لیز پر دے سکتا ہے؟ ریٹائرڈ میجر کا کیا اختیار ہے کہ دفاعی زمین لیز پر دے سکے، فوج نے ریٹائرڈ میجر کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فوجی افسران نے کروڑوں کی زمین چند لاکھ میں فروخت کی، فوج کی تمام رولز اور قوانین کا آئین کے تحت جائزہ لیں گے، فوج کاروبار کرنے کیلئے نہیں بلکہ ملک کے دفاع کیلئے ہوتی ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب، فوج کو قانون کون سمجھائے گا؟ پرل مارکی اور گرینڈ کنونشن ہال ابھی تک برقرار ہیں، کالا پُل کے ساتھ والی دیوار اور گرینڈ کنونشن ہال آج ہی گرائیں۔ انہوں نے کہا کہ راتوں رات گزری روڈ پر فوج نے بہت بڑی عمارت کھڑی کر دی ہے، گلوبل مارکی سے روزانہ کروڑوں روپے کمائے جارہے ہیں۔ جسٹس قاضی امین نے ایک موقع پر ریمارکس دیے کہ سمجھ نہیں آتا فوج کو کاروباری سرگرمیاں کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ فوجی سرگرمیوں کیلئے گیریژن اور رہائش کے لیے کنٹونمنٹس ہوتے ہیں، سی ایس ڈی پہلے صرف فوج کیلئے تھا اب وہاں ہر بندا جارہا ہوتا ہے۔ سیکرٹری دفاع نے عدالت کو بتایا کہ قانون کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کیلئے تینوں افواج کی مشترکہ کمیٹی بنا دی ہے۔

اہم خبریں سے مزید