• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اومیکرون وائرس کا جنوبی افریقا سے پہلے یورپ میں پھیلنے کا انکشاف، صرف سفری پابندیاں کافی نہیں، ڈبلیوایچ او

برسلز/کراچی (نیوز ڈیسک) کورونا کی نئی قسم اومی کرون کے جنوبی افریقا میں سامنے سے آنے سے پہلے یورپی ممالک نیدر لینڈ ، بلجیم اور جرمنی میں پھیلنے کا انکشاف ہوا ہے ، جاپان اور فرانس نے بھی اومیکرون کے پہلے کیس کی تصدیق کردی ہے۔پرتگال میں اومیکرون کے 13 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ یورپ کے 10ممالک میں اب تک اومیکرون کے 42کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے ، ہالینڈ کے محکمہ صحت نے کہا ہے کہ کورونا کا نیا ویرینٹ جنوبی افریقا سے قبل ہمارے ملک میں ظاہر ہوچکا تھا، ہالینڈ کے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ 19نومبر سے لیکر 23نومبر کے دوران دو افراد سے لئے گئے نمونوں میں اومیکرون پایا گیا تھا جن میں سے ایک نے ملک سے باہر کبھی سفر نہیں کیا، اب تک نیدرلینڈ میں اومیکرون کے 16کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جو کسی بھی یورپی ملک میں نئے ویرینٹ کی سب سے بڑی تعداد ہے ،جرمنی اور بلجیم نے بھی کہا ہے کہ جنوبی افریقا کی جانب سے اومیکرون کے کیسز کے بارے میں دنیا کوآگاہ کئے جانے یعنی 24نومبر سے قبل لئے گئے نمونوں میں نیا ویرینٹ پایا گیا تھا ، برطانیہ نے اومیکرون کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک میں نئی پابندیاں نافذ کردی ہیں، ملک بھر میں عوامی مقامات پر فیس ماسک کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے، منگل کی صبح سے برطانیہ واپس آنے والے تمام مسافروں کو پی سی آر ٹیسٹ کرانے کے ساتھ ساتھ منفی نتیجہ آنے تک خود کو آئسولیٹ کرنا لازمی قرار دے دیا گیا۔یورپی مرکز برائے امراض کی سربراہ اینڈریا آمون نے ایک آن لائن کانفرنس میں بتایا کہ یورپی حکام مزید 6ممکنہ کیسوں کی تشخیص کے لیے تجزیہ کر رہے ہیں۔کئی ممالک نے اومیکرون سے نمٹنے کے لیے شہریوں کو ویکسین کے بوسٹر شاٹس لگانے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈن نے کورونا کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد لاک ڈاؤن نہ لگانے کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اومیکرون تشویش کا باعث ہے لیکن گھبراہٹ کی وجہ نہیں۔ امریکامیں لاک ڈاؤن کا آپشن موجود نہیں ہے اور ہم طور پر بھی ملک بند کرنے کی حمایت نہیں کریں گے۔ خبررساں اداروں کے مطابق کورونا وائرس کی نئی قسم کا دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلاؤ جاری ہے۔ادھر جاپان نے اومیکرون کے پہلے کیس کی تصدیق ہونے کے بعد حکام نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات شروع کردیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص جنوبی افریقی ملک نمیبیا سے حال ہی میں جاپان پہنچا تھا اور ٹوکیو کے ناریتا ہوائی اڈے پہنچنے کے بعد ٹیسٹ کے دوران اس میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔ چین نے کہا ہے کہ تیزی سے پھیلنے والی کورونا کی نئی قسم سے سرمائی اولمپکس کا انعقاد ایک چیلنج ہوگا ، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اومیکرون سے متعلق بروقت اطلاع دینے پر جنوبی افریقا کے اقدامات کی تعریف کی ہے ،انہوں نے سرمائی اولمپکس کے انعقاد کے عزم کا بھی اظہار کیا،اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ویکسی نیشن سے ہی کورونا کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ عالمی ادارئہ صحت نے نئے وائرس کو دنیا بھر کے لیے خطرناک ترین قرار دے دیا ہے۔دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ پرسکون رہیںتاہم تیزی سے پھیلنے والی کورونا کی نئی قسم سے نمٹنے کیلئے سوچ سمجھ کرا قدامات کریں، ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہنام نے کہا کہ صرف سفری پابندیوں سے اومی کرون کے عالمی پھیلاوکو نہیں روکا جاسکے گا اس کے لئے موثراقدامات اٹھانا ہوں گے۔

یورپ سے سے مزید