• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الیکشن کمیشن کیلئے ممکنہ طور پر فنڈنگ روکنے کا خطرہ

اسلام آباد ( تبصرہ ،طارق بٹ) الیکشن کمیشن کیلئے ممکنہ طور پر فنڈنگ روکنے کا خطرہ، انتخابی ادارے کا پہلے کی طرح سرکاری دباؤ قبول کرنے کا امکان نہیں ۔ تفصیلات کے مطابق حکومت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے درمیان طویل تنازع اس وقت مزید گہرا ہوگیا جب وزیر اطلاعات نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے استعمال کے بغیر ہونے والے آئندہ انتخابات کے لیے ای سی پی کو فنڈز فراہم نہ کرنے کے امکان کا انکشاف کیا۔ تازہ ترین چنگاری کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے بعد باضابطہ طور پر اعلان کیے جانے کے صرف ایک ہفتے بعد سامنے آئی کہ ای سی پی سے صلح کرنے کی کوشش کے لیے ایک بین وزارتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور یہ کہ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھیوں نے انہیں ای سی پی کے خلاف درجہ حرارت کم کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ کمیٹی ایسی کوشش کیلئے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) سکندر سلطان راجہ سے ملاقات کرے گی۔ اب تک ایسا کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوا جس نے کسی فالو اپ یا عمل کے بغیر کسی دوسرے ڈیکلیریشن کا اعلان کیا ہو۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا بیان کہ اگر الیکشن ای وی ایم کے ذریعے نہیں کرائے جاتے تو حکومت ان کو فنڈ نہیں دے سکے گی اور یہ کہ موجودہ قوانین صرف ای وی ایم کے ذریعے ہونے والے انتخابات کو ہی قانونی حیثیت دیتے ہیں۔ تین اہم پیش رفت ہوئیں جن کا براہ راست تعلق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے وزراء سے ہے۔ ایک یہ کہ ای سی پی نے عام کیا ہے کہ اس نے اپنے احکامات پر تیار کی گئی ایک تفصیلی رپورٹ میں ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں دھاندلی کے مرتکب افسران کے خلاف فوجداری اور محکمانہ کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تباہ کن نتائج چند ہفتے قبل جاری کیے گئے تھے۔ای سی پی نے مزید فیصلہ کیا ہے ان افسران کو مستقبل میں الیکشن ڈیوٹی پر تعینات نہیں کیا جائے گا۔ دوسری بڑی پیشرفت اس وقت ہوئی جب ای سی پی کی اسکروٹنی کمیٹی نے دی گئی آخری ڈیڈ لائن کے تقریباً چھ ماہ بعد پی ٹی آئی کی جانب سے مبینہ طور پر چھپائی گئی، غیر اعلانیہ غیر ملکی فنڈنگ کے بارے میں اپنی رپورٹ مکمل کی اور اسے مزید کارروائی کے لیے ای سی پی کو پیش کیا۔ یہ کیس سات سال قبل پی ٹی آئی کے بانی رکن سے منحرف اکبر ایس بابر نے دائر کیا تھا جو تب سے ای سی پی سے زیر التوا ہے۔ ای سی پی رپورٹ پر کھلی سماعت کر سکتا ہے۔ تیسری اہم پیشرفت ای سی پی کی جانب سے فواد چوہدری اور اعظم سواتی کو انتخابی نگران اور سی ای سی کے خلاف اشتعال انگیز ریمارکس پر جاری کیے گئے شوکاز نوٹسز کی سماعت سے متعلق ہے۔

ملک بھر سے سے مزید