• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک گئے، زمین کانپی نہ آسمان گرا، توہین مذہب کا الزام، سری لنکن منیجر تشدد سے قتل، لاش جلادی

توہین مذہب کا الزام، سری لنکن منیجر تشدد سے قتل، لاش جلادی


سیالکوٹ، کراچی (جنگ نیوز، نمائندہ جنگ، مانیٹرنگ نیوز، اسٹاف رپورٹر )پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک گئے، زمین کاپنی نہ آسمان گرا، سیالکوٹ میں توہین مذہب کے الزام میں سری لنکن منیجر تشدد سے قتل، لاش جلا دی گئی، مبینہ مذہبی پوسٹر اتارنے پر گارمنٹ فیکٹری کے ورکرز کا منیجر پر حملہ، جان بچا کر چھت پر بھاگا

ہجوم نے نیچے پھینک دیا، ڈنڈے، گھونسے، لاتیں مارتے GT روڈ چوک تک لے گئے، مرنے کے بعد آگ لگا دی، بے لگام ہجوم کی فیکٹری میں بھی توڑ پھوڑ، ڈھائی گھنٹے تک ٹریفک بلاک، جائے وقوعہ پر جلتی نعش کے اردگرد لوگ موبائل فون پر ویڈیو بناتے رہے، سو سے زائد گرفتار، ایک ملزم نے اعتراف جرم کرلیا

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کیلئے یہ شرم کا دن ہے ،واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نےکہاہےکہ ایسے ماورائے عدالت اقدام قطعاً ناقابل قبول، مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے سول انتظامیہ کو مدد فراہم کرینگے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کاکہناہےکہ واقعہ انتہائی دلخراش ہے،وفاقی ادارے تحقیقات میں پنجاب حکومت کی معاونت کررہے ہیں۔ ن لیگ کی رہنما مریم نواز نے سوال کیاکہ کیا یہ درندگی ہماری پہچان، ہمارا اور آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے؟ علماء کونسل، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان ،جماعت اسلامی اور ٹی ایل پی سمیت پاکستان میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنےوالے افراد نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کو سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کیاہے۔

گزشتہ روز سیالکوٹ میں نجی فیکٹری کا سری لنکن منیجر فیکٹری ملازمین کےتشدد سے ہلاک ہوگیا،اسپورٹس گارمنٹ کی فیکٹری کے غیر مسلم سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا پر فیکٹری ورکرز نے مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر حملہ کردیا، پریانتھا کمارا جان بچانے کیلئے بالائی منزل پر بھاگے لیکن فیکٹری ورکرز نے پیچھا کیا اور چھت پر گھیر لیا، مار مار کر ادھ موا کردیا

انسانیت سوز خونی کھیل کو فیکٹری گارڈز روکنے میں ناکام رہے، فیکٹری ورکرز منیجر کو مارتے ہوئے نیچے لائے ، مار مار کر جان سے ہی مار دیا، اسی پر بس نہ کیا، لاش کو گھسیٹ کر فیکٹری سے باہر چوک پر لے گئے، ڈنڈے مارے، لاتیں ماریں اور پھر آگ لگا دی۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر(ڈی پی او) عمرسعید ملک کے مطابق ملازمین نے الزام عائد کیا کہ منیجر نے ایک پوسٹر پھاڑ کر مبینہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کیے جس کے بعد ملازمین نے فیکٹری میں ہجوم کی شکل اختیار کرلی

واقعہ سیالکوٹ کے علاقے وزیر آباد روڈ پر پیش آیا، ہجوم نے منیجر کو تشدد کا نشانہ بنایا اور مارنے کے بعد لاش گھسیٹ کر جی ٹی روڈ پر لے گئے اورآگ لگادی، جی ٹی روڈ پرڈھائی گھنٹے تک ٹریفک بلاک رہی جسے بعد میں کھلوا دیا گیا

مشتعل افراد نے فیکٹری میں توڑ پھوڑ بھی کی،فیکٹری منیجر کے قتل اور اس کی لاش نذر آتش کرتے ہوئے ہجوم میں شامل افراد کی جانب سے بے حسی کا افسوس ناک مظاہرہ سامنے آیا،ہجوم میں سے کسی نے مشتعل افراد کو روکنے کی کوشش نہیں کی، کچھ لوگ تشدد کی وڈیو بناتے اور سیلفیاں لیتے رہے، کچھ افراد لاش پر بھی ڈنڈے برساتے رہے ، باقی ہجوم خاموش تماشائی بنا رہا۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس سے رپورٹ طلب کرلی۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

فیکٹری کے سری لنکن منیجر کے قتل کو روکنے میں پولیس ناکام رہی، پولیس اہلکار پہلے تو پہنچے ہی دیر سے، پھر مشتعل ہجوم دیکھ کر مزید پولیس اہلکار بلوائے لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی، پریانتھا کمارا قتل ہوچکا تھا اور اس کی لاش جلائی جاچکی تھی،خاموش تماشائی بنے رہنے کا جواز پولیس نے یہ گھڑا کہ ہجوم بے قابو تھا، لوگ بہت تھے اور مشتعل تھے۔ریسکیو 1122 والے بھی کچھ نہ کرسکے اور کہا کہ ہم وردی میں تھے ممکن ہی نہ تھا کہ مشتعل لوگوں میں گھس کر پٹنے والے شخص کو بچانے کے لیے کوئی مداخلت کرتے، جب پولیس نے ہجوم کو نہیں روکا تو ہم کہاں سے ریسکیو کرتے؟۔

دوسری جانب سیالکوٹ واقعے میں ملوث100سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا گیاجن میں سے ایک فرحان نامی شخص نے اعتراف جرم کرلیاہے۔وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی طاہر اشرفی، وزیراعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس پنجاب نے مشترکہ پریس کانفرنس کی،ترجمان کا کہنا تھاکہ سری لنکن فیکٹری منیجر کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ افسوسناک ہے، سی سی ٹی وی کی مدد سے ملزمان کی نشاندہی کی جارہی ہے

متعددملزمان کو گرفتار کرلیا، انکوائری 48 گھنٹے میں مکمل کی جائے گی، پولیس کی لاپرواہی ثابت ہوئی تو کارروائی کی جائے گی جو لوگ ملوث ہوں گے انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔

حسان خاور کا کہنا تھاکہ 15 پر کال اورپولیس رسپانس میں 20 منٹ کا فرق ہے، دیکھنا ہوگا اس وقت پولیس پارٹی کہاں تھی،کسی قسم کی رعایت نہیں دیں گے۔

ادھر ایک پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے سیالکوٹ واقعے کی شدید مذمت کی اورکہاکہ سری لنکن منیجرکو زندہ جلانے کا واقعہ پاکستان کیلئے شرم کا دن ہے،واقعے کی تحقیقات کی خود نگرانی کررہا ہوں اور واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی، واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاری کا عمل جاری ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی غیرملکی فیکٹری منیجر کے قتل کی مذمت کی اور کہاکہ سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں پرانتھا کمارا کا قتل قابل مذمت اور شرمناک ہے، ایسے ماورائے عدالت اقدام قطعاً ناقابل قبول ہیں، گھناؤنے جرم کے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے سول انتظامیہ کو مدد فراہم کی جائے گی۔

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ سیالکوٹ واقعہ بہت دلخراش ہے، وفاقی حکومتی ادارے واقعے کی تحقیقات میں پنجاب حکومت کی معاونت کررہے ہیں، نیشنل کرائسس سیل واقعے کے محرکات کا جائزہ لے رہا ہے، واقعے میں ملوث افراد کو قانون کی عدالت میں لائیں گے ،مذہب کے نام پر انتہا پسندی کے واقعات کو روکنے کے لئے پورے معاشرے کو ملکر کام کرنا ہوگا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے کہا کہ واقعے کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے، ہمیں امن، محبت اور رحم کے پیغام پر کاربند ہونے کی ضرورت ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے سیالکوٹ واقعے پر رد عمل دیتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیااور کہاکہ دل خراش واقعہ نے دل چیر کے رکھ دیا، کیا یہ درندگی ہماری پہچان، ہمارا اور آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے؟ کیا یہ ملک ایک محفوظ ملک تصور ہو گا؟ یہاں حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں، انسان سوال کرے بھی تو کس سے کرے؟۔

پاکستان علما کونسل کے سربراہ و وزیراعظم عمران خان کے نمائندہ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ علامہ طاہر اشرفی نے سیالکوٹ میں توہین مذہب کے الزام میں سری لنکن منیجر کے قتل کی مذمت کی اور کہاکہ سیالکوٹ میں توہین مذہب کے الزام میں غیرملکی منیجرکاقتل افسوسناک اورقابل مذمت ہے اور پاکستان علما کونسل سری لنکن منیجرکے قتل کی بھرپورمذمت کرتی ہے، سیالکوٹ میں سری لنکن منیجرکو قتل کرنے والوں کا عمل غیراسلامی اور غیرانسانی ہے۔

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے بھی سیالکوٹ میں فیکٹری کے سری لنکن منیجر کو قتل کیے جانے کے واقعے کی مذمت کی گئی ہے،ٹی ایل پی ترجمان کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ واقعے کو تحریک لبیک پاکستان سے منسوب کرنا افسوس ناک ہے، واقعے کا پس منظر اور سازش سمیت تمام پہلو مدِنظر رکھ کر غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں

اس واقعے میں ملوث کرداروں کو گرفتار کر کے سامنے لایا جائے ، ملک میں قانون کی بالادستی ہوگی تو کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی جرأت نہیں ہوگی ، ملک کسی خون خرابے اور فساد کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

ن لیگ کے رہنما پرویز رشید نے سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کی ہلاکت پر سری لنکا سے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ ʼوہ اپنے ہم وطنوں کو سمجھانے میں ناکام ہوئے ہیں۔ پرویز رشید نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر لکھاسری لنکا ہم آپ کے مجرم ہیں،اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ سیالکوٹ واقعہ اور اس کے تمام کردار تماشائیوں سمیت انسانیت کے نام پر دھبا ہیں

۔ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی نےکہا کہ ملک کو آئین و قانون کے بغیر نہیں چلایا جا سکتا اور توہین مذہب جیسے سنگین جرم سے نمٹنے کے لئے قانون کی موجودگی کے باوجود محض الزام کی بنیاد پر کسی شخص کی جان لینا کسی طور رحمت اللعالمینﷺ کے پیغام کی تفسیر نہیں اور قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سیالکوٹ واقعے کو اسلام اور انسانیت کی توہین قرار دیتے ہوئے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور مجرموں کی گرفتاری اور قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

جہانگیر ترین نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ میں تشدد کی بہیمانہ کارروائی پر گہرا صدمہ! میرا دل پریانتھا کمارا کے خاندان کے لیے جاتا ہے،ہمارے نبی ﷺ صبر کی انتہا تھے، تشدد کی کارروائی کرنا، وہ بھی ناموس رسالتؐ کے نام پر، اسلام کی بہت بڑی توہین ہے۔

مزید برآں فیکٹری کے مالک کا کہنا ہے کہ پرانتھا کمارا کےحوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی، جب اس معاملےکی اطلاع ملی تب تک پرانتھا کمارا ہجوم کےہتھےچڑھ گیا تھا

پولیس کو تقریباً صبح پونے گیارہ بجے اطلاع دی تھی، جب پولیس پہنچی تو نفری کم تھی، پولیس کی مزید نفری پہنچنے سے پہلے پرانتھا ہلاک ہوچکا تھا۔فیکٹری مالک نے بتایا کہ پرانتھا کمارا نے 2013 میں بطور جی ایم پروڈکشن جوائن کیا تھا، پرانتھا کمارا محنتی اور ایماندار پروڈکشن منیجر تھے۔ 

اہم خبریں سے مزید