• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کنزرویٹوز کی ضمنی انتخاب میں محفوظ نشست اولڈ بیکسلی اینڈ سیڈکپ پر فتح

لندن (پی اے) کنزروٹیوز نے ضمنی انتخاب میں لندن کی اولڈ بیکسلی اینڈ سڈکپ کی محفوظ نشست جیت لی۔ ان کے امیدوار لوکل کونسلر لوئی فرنچ نے نصف سے زائد ووٹ حاصل کئے جبکہ لیبر کے ڈینئیل فرانسسز دوسرے نمبر پر رہے۔ لوئی فرنچ نے علاقے کے سابق رکن پارلیمنٹ جیمز بروکن شائر کو خراج عقیدت پیش کیا ہے، جن کی سرطان سے اکتوبر میں موت مقابلے کا سبب بنی۔ ٹوریز کی اکثریت تقریباً 19 ہزار سے کم ہو کر 4478 رہ گئی جبکہ 10 فیصد نے لیبر کا رخ کر لیا۔ گرچہ مڈٹرم انتخابات کے لئے ووٹوں کی تعداد عام طور پر عام انتخابات کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں، تاہم 2018ء سے اب تک 34 فیصد ووٹرز ضمنی انتخاب کے لئے سب سے کم تعداد تھی۔ ریفار یوکے سابقہ بریگزٹ پارٹی 6 اعشاریہ 6 فیصد ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر آئی۔ پارٹی کے لیڈر اور امیدوار رچرڈ ٹائس نے اسے بڑا نتیجہ قرار دیا ہے۔ گرین پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹس کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں۔ بیکسلی کنزرویٹوز کا روایتی مضبوط علاقہ ہے، جہاں پارٹی 1983ء میں اس کے قیام کے بعد سے موجودہ شکل تک برسراقتدار ہے۔ نزدیکی لیوشہم ویسٹ اینڈ پنچ کی رکن پارلیمنٹ لیبر کی ایلی ریوس نے کہا ہے کہ انہیں نتیجے پر خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ علاقہ کنزرویٹو کا گڑھ ہے، جہاں پچھلے عام انتخابات میں 19 ہزار اکثریت تھی اور آج رات ہم نے دیکھا کہ اکثریت ختم ہو گئی ہے۔ تاہم ٹوری پارٹی کے چیئرمین اولیور ڈائوڈن نے بی بی سی بریک فاسٹ کو بتایا کہ ان کی پارٹی کی اکثریت میں کمی ووٹرز کی کم تعداد کی مظہر ہے۔ کامیاب ہونے والے امیدوار لوئی فرنچ نے اپنے پیشرو کو جذباتی خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقابلہ قسمت تھا، تاہم وقار کیساتھ لڑا گیا۔ انہوں نے عہد کیا کہ وہ اس اعتماد کا مان رکھنے کے لئے تندہی سے کام کریں گے جو ان پر کیا گیا ہے اور وہ مایوس نہیں کریں گے۔

یورپ سے سے مزید