• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر: رضا چوہدری۔۔۔پیرس
دیکھا جائے تو انتہاپسندی دنیا بھر پھیلی ہوئی ہے، آئے روز مختلف ممالک سے انتہا پسندی کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں مگر ایشیائی ممالک جن میں پاکستان ،افغانستان، انڈیا، بنگلہ دیش میں انتہا پسندی میں جہالت بھی دکھائی دیتی ہے، بلامقصد ایسے واقعات ہو جاتے ہیں جیسے سیالکوٹ میں آسمان کی طرف اُٹھتا دھواں ہماری معاشرتی جاہلیت اور دین اسلام سے کم علمی کا عکاس ہے تو دوسری طرف ایک اسلامی ریاست کے منہ پر لگائی گئی وہ’’کالک‘‘ہے جو شاید دھلنے کے قابل نہیں،سانحہ سیالکوٹ میں آگ کے اُٹھتے شعلے جہاں انسانیت کے تمام تقاضے جلا کر بھسم اور راکھ ہورہے تھے وہیں پوری قوم کو شرمندگی ہو رہی اور دُکھ ہو رہاہے ، شدید کرب کی کیفیت ہے الفاظ شاید ناکافی رہیں، گلہ کریں تو کس سے ، کیونکہ سچ سننے کی قوت بھی ہم نہیں رہی اگر دیکھا جائے توملک کے طول عرض میں ہزاروں مدارس، مساجد قائم ہیں جہاں سے دین اسلام کا فروغ اور ضروری تعلیم ملتی ہے، ان کی بدولت تو ہمیں انتہائی نرم مزاجی انسانیت دوستی کا درس ملنا چاہئے تھا مگر جب کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے تو سب سے پہلے انگلیاں ان کی طرف اٹھتی ہیں ،موجودہ حکمرانوں کو ریاستِ مدینہ بنانے کےلئے سب سے پہلے انتہا پسندی کے خاتمہ کےلئے اقدامات اٹھانے ہوں گے، ہجوم نما اس قوم کو انسانیت کا درس دینا ہو گا ، صوبہ پنجاب کے ضلع سیالکوٹ میں پیش آئے دل خراش واقعہ نے سر شرم سے جھکا دیئے ہیں،ایک مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں ایک غیر ملکی شہری کوانسانیت سوز تشدد کر کے ہلاک کرنے کے بعد اس کی لاش کو آگ لگا دی ، اور اس واقعہ کی وجہ سے پاکستان ایک بار پھر عالمی سطح پر میڈیا کی شہ سرخیوں میں آگیا، سیالکوٹ واقعہ میں ہلاک ہونے والے شہری کی شناخت پریانتھا کمارا کے نام سے ہوئی ہے، پریانتھا کمارا سری لنکن شہری تھا۔ یہ سیالکوٹ کے وزیر آباد روڈ پر واقع ایک نجی فیکٹری میں بحیثیت جنرل مینجر خدمات انجام دے رہا تھا،اس واقعہ نےعالمی سطح پر پاکستان کو بہت بڑا نقصان پہنچایا،سوشل میڈیا پر اس واقعے کی کئی ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں جن میں نمایاں نظر آرہا ہے کہ ہجوم کی طرف سے ایک بے بس انسان کو تشدد کر کے جان سے مارنے کے بعد لاش کو سڑک پر گھسیٹ کر اگ لگائی جارہی ہے،وہاں موجود سیکڑوں افراد پریانتھا کو قتل کرنے کے نعرے لگا کر ایک مذہبی جماعت کے ساتھ جوڑنے کےلئے کوشاں نظر آرہے ہیں، پاکستان میں توہین مذہب کے الزامات عائد کر کے ہجوم کے ہاتھوں قتل کے واقعات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں تاہم ایسا کم ہی ہوا ہے کہ یوں کسی غیر ملکی شہری کو قتل کیا گیا ہو، انسپکر جنرل پولیس پنجاب رائو سردار کا کہنا ہے کہ انھوں نے 124 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جن کے کردار کا تعین سی سی ٹی وی فوٹیج سے کیا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔مغربی ممالک خصوصی طور یورپی یونین اس واقعہ کے حوالے سے انتہائی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، دنیا بھر میں پاکستان کے حوالے سے انتہائی منفی تاثر گیا ،پُرتشدد اور انتہاپسندی پر مبنی واقعات سے نہ صرف پاکستان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ دنیا بھر میں مقیم اوورسیز پاکستانیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے اور ان کو تنقیدی سوالات بھی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس واقعہ کے فوری بعد صدر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف قمرجاوید باجوہ ،وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے ٹھوس اقدامات اور واضح سخت موقف کے علاوہ اپوزیشن رہنماوں میاں شہباز شریف، حکمرانوں اور دیگر سیاستدانوں کی جانب سے مذمتی بیانات سامنے آئے، عالمی سطح پر ان کو بھی غور سے دیکھا اور سنا گیا ،ساتھ ہی ساتھ کئی ایک سوالات اٹھتے نظر آئے ،سانحہ ساہیوال ہو یا دیگر واقعات حکومت اور ذمہ دارں کے بیانات اور بعد کے فیصلوں کے تناظر میں ہماری بعض جماعتوں کے متعلق یہ تاثر پایا جاتا کہ ان کے مذہبی شدت پسندوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، شدت پسندی کی اس فضا کو پروان چڑھانے اور پاکستانی معاشرے میں انتہا پسندی کو پروان چڑھانے میں سیاسی جماعتوں کا بھرپور کردار نظر آتاہے،یہی باتیں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس "ایف اے ٹی ایف"کے اجلاسوں میں بھی گردش کرتی نظر آتی ہیں،جس کے باعث پاکستان گرے لسٹ پر ہے کیونکہ ان عناصر کے خلاف کارروائی میں ہماری حکومتیں ہمیشہ ہی سست روی کا شکار رہی ہیں، وہ ملکی مفاد کی بجائے اپنی مقبولیت ،اپنےووٹ بینک کو اہمیت دیتی آئی ہیں، پاکستانی تاریخ کو دیکھا جائے تو پاکستان انتہا پسندی کو بڑی طاقتوں اور بعض برادر ممالک نے اپنے مفاد کےلئے پاکستان میں جنم دیا جس کی بدولت 70 ہزار سے زیادہ جانوں اور اربوں ڈالر کا نقصان پاکستان نے اٹھایا اور آج ہم کوڑی کوڑی کو محتاج ہیں، اپنا سب کچھ آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ کر گذارہ چلایا جارہا ہے ،یہ جنگ یوں تو روس اور امریکہ کی تھی مگر اس جنگ میں ہم خواہ مخواہ حصہ داربن گئے جس کے نتیجہ میں ہمارے معاشرے میں موجود شدت پسند قوتیں متحد ہو گئیں۔ یوں پورا ملک شدت پسندوں کی آماجگاہ بن کر رہ گیاکیونکہ اس وقت بھی ان کو سرپرستی حاصل تھی یوں پاکستان میں شدت پسندی کی جڑیں مضبوط ہوگئیں اور اس سے وابستہ عناصر تن آور درخت بن گئے اور معاشرےمیں تنگ نظری، مذہبی حریفوں سے نفرت، عدم برداشت اور جارحیت مزاج کا حصہ بنتی رہی جس کا خمیازہ آج برداشت کررہے ہیں ۔ سیالکوٹ کا واقعہ دل خراش اور دل دہلا دینے والا ہے، جب ریاست قتل غارت کرن والوں کے ساتھ سیاسی اتحاد کرے گی، عوام میں مذہبی منافرت پھیلا کر ایک دوسرے کا ووٹ تقسیم کرنے کی خاطر انہیں گلدستے اور مٹھائیاں پیش کی جائیں گی تو سیالکوٹ جیسے واقعات پھر معمول ہی بنیں گے۔ آج تک پاکستان میں اٹھنے والی ہر شدت پسند تحریک اپنے مقاصد کے لیے مذہب کا نام استعمال کرتی آ رہی ہے تاکہ اکثریت کو اپنی جانب راغب کیا جا سکے۔ یہاں تک کہ بیرونی طاقتیں بھی پاکستان میں اپنے مقاصد اور اہداف کے لیے مذہب ہی کو آلے کے طور پر استعمال کرتی ہیں اور ریاست و عوام کے خلاف بر سر پیکار قوتوں کی مالی سرپرستی بھی مذہب کے نام پر ہی کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں ایک پوری معیشت وجود میں آ چکی ہے، آج ہمارا ایسا کوئی قومی ادارہ نہیں بچا جہاں شدت پسندی کسی نہ کسی شکل میں موجود نہ ہو، اب شدت پسندی کا یہ زہر ہمارے قومی وجود میں سرایت کرچکا ہے، شدت پسند کم و بیش دنیا کے ہر معاشرے، مذہب اور تہذیب میں پائے جاتے ہیں اور وقتاًفوقتاًان کی کارروائیاں سامنے آتی رہتی ہیں ان کی تعداد مٹھی بھر اور پورے معاشرے کے مقابلے میں انتہائی کم ہوتی ہے۔ تشویش ناک صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یہ شدت پسند عناصر ریاست اور نظام پر اثر انداز ہو کر پورے معاشرے کو یرغمال بنا لیں اور معاشرے میں اپنے وجود سے متعلق ایک خوف اور دہشت پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ پاکستان گزشتہ چند دہائیوں سے اسی طرح کی صورتحال سے دوچار دکھائی دیتا ہے کہ یہاں شدت پسندی نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور وہ ریاست اور اس کے نظام کو چیلنج کر رہی ہے۔ شدت پسندی نے پورے معاشرے اور ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ آج ہماری بقا صرف اس میں ہے کہ ہمیں شدت پسندی کو ختم کرنے کی ہر کوشش کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ ہم عالمگیر معاشرے کا حصہ بن سکیں اور جدید دنیا کے شانہ بشانہ چل سکیں۔ بدقسمتی سے اس شدت پسندی کے باعث مسلمان معاشرے عام انسانی معاشروں سے پیچھے جاتے جا رہے ہیں، اس تنہائی کے سبب ہماری اپنی اصل شناخت گم ہوتی چلی جا رہی ہے، ہم کو بحیثیت قوم اپنی ترجیحات کا تعین کرنا پڑے گا اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہماری عزت ہو، تو ہم کو اپنی ترجیحات کا از سرے نو جائزہ لینا پڑے گا، مذہبی شدت پسندی کے خاتمے کے لئے بحیثیت قوم ہمیں عملی اقدامات کر کے ہی آگے بڑھ سکتے ہیں، ہمارے ملک میں بدقسمتی سے مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت نے ہمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، ماضی میں بحیثیت قوم ہم نے بار بار اس حوالے سے اپنی پالیسیاں تبدیل کی ہے۔ ہر نئی حکومت نے اس حوالے سے قومی مفاد کی بجائے ذاتی مفاد کو ترجیح دی جس کی وجہ سے آج ہم اس مقام پر ہیں، ماضی میں بعض حکمرانوں نے اپنی پالیسیوں کی وجہ سے انتہا پسندی کو پروان چڑھایا اور بعض نے اعتدال پسندی کی پالیسی اپنائی اس کے بعد اب موجودہ حکومت کی پالیسیاں اور اقدامات ملک کو مذہبی انتہا پسندی کی جانب دھکیل رہے ہیں، ہماری بار بار اس حوالے سے پالیسیاں تبدیل کرنی کی وجہ سے آج ہم اس مقام پر ہیں، ہمیں انتہا پسندی یا اعتدال پسندی میں کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں اور آئے روز عالمی سطح پر شرمندگی سے بچا جا سکے۔
یورپ سے سے مزید