• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز سسٹم امپرومنٹ پروگرام میں تاخیر

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا نظر ثانی شدہایکٹ وزیراعلیٰ سندھ سے منظور ی کے چھ ماہ بعد بھی فائنل اپروول کے لئے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے بورڈ اجلاس میں پیش نہ کیا جا سکاجس کے باعث کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز سسٹم امپرومنٹ پروگرام کے منصوبوں میں تاخیر ہو رہی ہےنئے بورڈ کا اجلاس ہر ماہ ہونا لازمی ہے گزشتہ اجلاس 29اکتوبر کو ہو اتھا جس کا ایک نکاتی ایجنڈا آئندہ واٹر بورڈ کا چیئر مین وزیر بلدیات کی جگہ میئر کو مقرر کیا جانا تھا جبکہ وا ٹر بورڈ کے سی ای او سمیت پانچ تقرریاں پرائیویٹ پروفیشنل کی ہونا ہیں تاہم کورم پورا نہ ہونے کے باعث ملتوی کر دیا گیا تھا لیکن اب ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور اب تک اجلاس نہیں ہو ا واضح رہے کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے آفس کے قیام سمیت کنٹریکٹ ملازمین اور منصوبوں کے لئے کنسلٹنٹ بھی تعینات ہو گئے ہیں نئی گاڑیا خرید لی گئی ہیںلیکن پانی اور سیوریج کے منصوبوں میںمسلسل تاخیر ہو رہی ہے کیونکہ جب تک واٹر بورڈ کا ترمیم شدہ ایکٹ منظور نہیں ہو جاتا کوئی منصوبہ شروع نہیں ہو سکتا کراچی میں عالمی بنک کی جانب سے ایک ارب 60کروڑ روپےکی خطیر امداد سے شہر میں ایک ایک گلی کی پانی کی لائین، پمپنگ اسٹیشن،موٹریں،ریزروائر،فلٹر پلانٹ، رائزنگ مین اور ڈسٹری بیوشن کے تمام نظام کو ٹھیک کیا جانا ہے۔ ذرائی کا کہنا ہے کہ بعض افراد واٹر بورڈ ایکٹ میں نئی ترامیم نہیں کرنا چاہ رہےکیونکہ اس سےحکومت سندھ کے اختیارات کم ہو جائیں گے۔

اہم خبریں سے مزید