آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
گزشتہ کالم میں امریکہ میں قائم ویلنگ مامز (Wailing Moms)نامی تنظیم کا ذکر ہوا تھا جس کے پلیٹ فارم سے لایعنی جنگوں کا ایندھن بننے والے بیٹوں کی مائیں اپنے دکھڑے بیان کر کے دل کابوجھ ہلکا کرتی ہیں۔ لطف کی بات یہ کہ فورم امریکی ماؤں ہی کے کتھارسس کا ذریعہ نہیں۔ افغان اور دیگر قومیتوں کی ماؤں بہنوں کی دہائی بھی یہاں سنائی دیتی ہے۔ رئیل اسٹیٹ کے بزنس سے جڑی ستائس سالہ گل لالہ نے اپنی ماں کی جگر پاش داستان بھی وہیں کہہ سنائی تھی۔ عمر رسیدہ ماں چلنے پھرنے سے معذور تھی اور سارا وقت ویل چیئر پر چپ بیٹھی آنسوؤں کی لڑیاں پروتی رہی ۔گل لالہ بولی ”ابھی ذکر ہو رہا تھا کہ گیارہ ہزار امریکی افغانستان کی بے چہرہ جنگ کا ایندھن بن چکے۔ انہیں فراغت بھی ہے اور سہولت بھی تو گنتی شمار کر سکتے ہیں۔ ہم بدنصیب افغانوں کے پاس تو کوئی ریکارڈ بھی نہیں اور کچھ پتہ نہیں کہ گزشتہ35برسوں میں دربدر افغانوں میں سے کون زندہ ہے اور کون مرگیا ؟۔ گیارہ ہزار کے مقابلے میں گیارہ لاکھ تو ضرور ہوں گے۔ میں افغانستان کے صوبہ ننگر ہار کی رہنے والی ہوں۔ جو پاکستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ کسی زمانے میں صوبائی دارالحکومت جلال آباد افغانستان سے زیادہ پاکستان کا شہر لگتا تھا۔ جہاں ہر کوئی پشتو بولتا تھا اور جہاں کے بازاروں میں زیادہ تر لین دین پاکستانی کرنسی

یعنی روپیہ میں ہوتا تھا ۔ دیہہ بالا ضلع میں ہمارا گھر کمالا نامی بستی کے نواح میں واقع تھا یہ کتنے ایکڑ یا کنال رقبے پر مشتمل تھا۔کچھ نہیں کہہ سکتی ۔ کیونکہ زمین کی پیمائش کے پیمانوں کے بارے میں میرا علم کچھ زیادہ نہیں مگر جب شہروں کے ہزار دو ہزار گز کے گھروں کو دیکھتی ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے آبائی گھر کا رقبہ دس ہزار مربع گز تو ضرور ہوگا جس میں دادا دادی کے علاوہ میرے والدین ،دو شادی شدہ چچے اور دو کنواری پھوپھیاں رہائشی پذیر تھیں ۔پانچ انڈی پینڈنٹ رہائشی یونٹ ایک احاطہ میں واقع تھے اور اتنے کشادہ ہیں کہ کبھی کسی کو تنگی کا احساس نہیں ہوا تھا۔ہمارے کنبے نے کب پاکستان ہجرت کی؟ وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتی ۔ تاہم یہ میری پیدائش سے پہلے کی بات ہے۔ غالباً 1982کا اختتام یا1983کے ابتدائی دن تھے۔ میری پہلی پہل یادیں حیات آباد کے نواح میں قائم کچا گڑھی کیمپ کے بارے میں ہیں۔ جہاں پر64ہزار نفوس پر مشتمل خیمہ بستی آباد ہو چکی تھی۔
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے۔ ابتداء میں وہ یقیناًً خیموں کی بستی ہی ہوگی ۔ مگر کپڑ ے کی بنی وہ پناہ گاہیں کب تک ساتھ نبھاتیں؟ کچھ خیمے بوسیدہ ہو گئے اور کچھ کنبے پھیلنے لگے تو لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کچے پکے گھروندے تعمیر کر لئے۔ خاک آلود تنگ گلیوں کے دونوں جانب کھڑے ٹیڑھے میڑھے اور ہر وضع پہ اسٹرکچر عجیب منظر پیش کرتے تھے اور بے وطن لوگوں کی کسمپرسی اور یاس کی منہ بولتی تصویر تھے۔میرے ماں باپ افغانستان سے چلے تو ان کا سال بھرکا ایک ہی بیٹا تھا۔ وہ معصوم سفر کی اذیت برداشت نہ کر پایا اور جلال آباد کے نواح میں ہی اللہ کو پیارا ہو گیا تھا۔ کنبے والوں نے وہیں گندہ گان سے ذرا ہٹ کر ایک جھنڈ میں گڑھا کھودا اور اللہ کے حوالے کردیا۔ ماں کو غریب الوطنی میں یوں گود خالی ہونے کا صدمہ زندگی بھر رہا ہے۔ پاکستان آ کر اس نے چار بچوں کو جنم دیا۔ سب سے بڑا بیٹا ،پھر بیٹی ، پھر بیٹا اور پھر بیٹی ، مگر جلال آباد کے نواح میں پیوند خاک ہو جانے والے پہلوٹھی کے شاکر اللہ کی یاد اسے اکثر بے چین کردیتی تھی اور آنسو بہہ نکلتے تھے۔ مگر وہ بدنصیب نہیں جانتی تھی کہ زندگی کا سب سے بڑا سانحہ تو ابھی اس کے تعاقب میں ہے۔
روزوں والی عید آرہی تھی اور میری ماں اپنے لاڈلوں ،نوسالہ شفاعت اللہ اور چار برس کے ماشاء اللہ کو نئے کپڑے اور کھلونے دلانے پشاور شہر چلی گئی۔
ہم اکثر مختلف کاموں سے پشاور جایا کرتے تھے اور اس میں خطرے والی کوئی بات نہیں تھی مگر اس دن تقدیر گویا ہم سے روٹھی ہوئی تھی۔ متنیٰ بازار میں ماں نے سوزوکی پک اپ سے اترکر برقع درست کیا اور بچوں کو نیچے اتار نے کیلئے بازو پھیلائے ہی تھے کہ اچانک بم دھماکہ ہو گیا اور گاڑی کے پرخچے اڑ گئے۔زخمیوں میں ماں بھی شامل تھی اور بے ہوشی کی حالت میں اسپتال پہنچا دی گئی ۔ اس کا دایاں بازو اڑ گیا تھا اور بھی چھوٹے بڑے زخم تھے۔ ہوش میں آتے ہی ایک دلدوز چیخ ماری اور بیٹوں کو پکارا ۔نرسوں نے پکڑ کر بستر پر لٹانے کی کوشش کی ،مگر بے سود ۔ زخمی شیرنی کی طرح دھاڑی ،میری راہ سے ہٹ جاؤ، مجھے چھوڑ دو، مجھے میرے شفاعت اللہ اور ماشا ء اللہ سے ملاؤ، زیادہ سے زیادہ کیا ہوا ہو گا ؟ وہ مر گئے ہو ں گے۔ انکی بوٹیاں بکھر گئی ہوں گی، مگر میں انہیں دیکھے بغیر نہیں رہوں گی جب ہر تدبیر بیکار ہو گئی تو اسپتال کا ایک اہلکار اسے ان میزوں کی جانب لے گیا۔ جہاں انسانی گوشت کے پارچوں کو جوڑ کرمیتیں بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ میری ماں نے اپنے جگر گوشوں کو پہچاننے میں ایک منٹ بھی نہیں لگایا۔ چندبے ترتیب ، آڑی ترچھی بوٹیوں کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگی۔یہی تو ہے میرا شفاعت اللہ اور ماشا اللہ اور پھر پلو سے بندھے چند کرنسی نوٹ اسپتال والوں کے ہاتھ پر رکھ کر بڑی لجاجت سے بولی، یہ ان کے نئے کپڑوں کے پیسے ہیں۔ خرید کر پہنا دینا اور جلال آباد سے سات کوس ادھر جھنڈ میں محو آرام انکے بھائی شاکر اللہ کے پاس چھوڑ آنا۔
چند دنوں بعد ماں صحت مند ہو کر گھر لوٹ آئی۔ اللہ کا شکر ہے کہ صدمے سے پاگل نہیں ہوئی۔واضح تبدیلی یہ تھی کہ المناک سانحہ کا ذکر تک نہیں کیا اور نہ بیٹوں کا نام زبان پر لائی حتیٰ کہ برسوں پہلے فوت ہونے والے ننھے شاکر اللہ کا ذکر بھی ترک کردیا ۔ زندہ رہ جانے والی بیٹیوں کے ساتھ بھی اس کا رویہ لاتعلق سا تھا۔ بس وہ چپ چاپ گھر کے کاموں میں مشغول رہتی ہے کم کلام کرتی اور جذبات نام کی چیز اسکی شخصیت سے تقریباً خارج ہو چکی تھی۔ مگر یہ ایک عارضی چیز تھی ۔ وقت کے گھاؤ بھرنے کی بجائے الٹا کھلتا چلا گیا۔ اسکی نیند اڑ چکی ،بستر سے خوف آتا ہے۔ پوری پوری رات ویل چیئر پر بیٹھے آنکھوں میں کاٹ دیتی ہے۔ تسلی تشفی کی کوشش کریں، تو کہتی ہے کس کس کو بھول جاؤں ،میرے خاندان کے باون لوگ اس جنگ نے نگل لئے۔ جن کا کوئی نام و نشان بھی نہیں،مٹی کے ڈھیر بھی نہیں کہ انہیں دیکھ کر ہی ڈھارس ہوجاتی “ اور اسکے بعد اس کی دلدوز چیخیں پتھر دل کو بھی ہلا کر رکھ دیتیں ۔گل لالہ بات ختم کرنے کو تھی کہ ویل چیئر پربیٹھی ماں دفعتًا اسی کیفیت میں چلی گئی اور اس کی جگر پاش چیخوں نے ماحول کو بے حد آزردہ کر دیا تھا ۔