• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ بار کے وفد کی سری لنکن ہائی کمشنر سے ملاقات


سیالکوٹ میں سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کی ہلاکت کے واقعے کے بعد سپریم کورٹ بار کے وفد نے سینیٹر علی ظفر کی قیادت میں سری لنکن ہائی کمشنر سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ ریاست ان ملزمان کو سخت سزائیں دلوائے گی۔

سینیٹر علی ظفر نے سری لنکن ہائی کمشنر سے ملاقات میں کہا کہ افسوسناک واقعے پر سپریم کورٹ بار کی جانب سے مذمت کرتے ہیں، سپریم کورٹ بار وکیل مقرر کرے گی جو پریانتھا کیس کی نگرانی کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ واقعے پر پوری قوم شرمندہ ہے،وزیراعظم کا کہنا ہے ایسے واقعات کو بالکل برداشت نہیں کیا جاسکتا،سیالکوٹ کا سانحہ ہمارے مذہب اور کلچر کے خلاف ہے۔

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ میں نے سری لنکن بار سے بات کی ہے، ہم متاثرہ فیملی کے ساتھ کھڑے ہیں، ہماری صحافی برادری بھی ایشو کو زندہ رکھے گی، یہ معاملہ کبھی روٹین نہیں بنے گا۔

اس موقع پر سری لنکن ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لوگوں نے جیسے ہمارا ساتھ دیا اس پر مشکور ہیں، وزیراعظم اور تمام جماعتوں کی جانب سے جو ردعمل آیا اس پر مطمئن ہیں۔

سری لنکن ہائی کمشنر نے کہا کہ قانونی برادری نے پریانتھا کے معاملے کو فوری طور پر دیکھا، بزنس کمیونٹی نے بھی پریانتھا کے خاندان کیلئے جو کیا اس پر مشکور ہیں، سری لنکا کی عوام پاکستان کے عمل سے مطمئن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا پرانے دوست ہیں، سری لنکا اور پاکستان نے ایک ہی عرصے میں آزادی حاصل کی، پاکستان نے ہمیشہ سری لنکا کا ساتھ دیا ہے، ہم ہمیشہ پاکستان کے ساتھ ہیں۔

سری لنکن ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے تعلقات میں اس واقعے سے کوئی فرق نہیں آئے گا، امید ہے پاکستان مستقبل میں ایسے واقعات روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے گا۔

واضح رہے کہ سیالکوٹ میں توہینِ مذہب کے الزام میں سیکڑوں افراد نے ایک فیکٹری کے سری لنکن منیجرکو تشدد کر کے قتل کر دیا تھا اور لاش جلا دی تھی۔

قومی خبریں سے مزید