• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کام اور نجی زندگی کے درمیان توازن کی تلاش کسی طور بھی کوئی نیا موضوع نہیں ہے۔ تاہم، وبائی مرض کے بعد کی دنیا میں اس کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے، جہاں لوگ کام کی نوعیت، اس کے معنی و مقصد اور اس کے ان کے معیارِ زندگی پر اثرات کے بارے میں پہلے سے زیادہ حساس ہوگئے ہیں۔ مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2021ء میں ریکارڈ تعداد میں ملازمین اپنے آجروں کو چھوڑ رہے ہیں یا چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن معیارِ زندگی کا تعلق صرف دفتری اوقاتِ کار میں کمی یا دفتر نہ جانے سے نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو کچھ ریٹائرڈ افراد فری لانس کام کیوں کرتے ہیں یا کچھ لوگ لاٹری میں بڑی انعامی رقم جیتنے کے باوجود اپنے دفتر کیوں جاتے ہیں؟

اگر کام اور ذاتی زندگی کے درمیان کامل توازن قائم کرنے جیسی کوئی چیز وجود رکھتی ہے، تو ضروری نہیں ہے کہ اس کا تعلق کام کے ’کب‘، ’کہاں‘ اور ’کیسے‘ سے ہو۔ دراصل اس کا تعلق اس سوال سے ہے کہ ’ہم کیوں کام کرتے ہیں‘؟ اور اس کا مطلب خوشی کی ان وجوہات کو سمجھنا ہے، جو قبل ازیں ہمارے لیے غالباً اتنی واضح نہ تھیںا ور وَبائی امراض کے دوران سامنے آئی ہیں۔ کام اور نجی زندگی کے بہتر توازن کو تلاش کرنے کی کوششیں میرٹ سے عاری نہیں ہیں۔ کام کا ہماری فلاح و بہبود سے ایک کبھی ختم نہ ہونے والا تعلق ہے اور یہ ہماری شناخت کا ایک بڑا حصہ ہوتا ہے۔

ہماری ملازمتیں ہمیں قابلیت کا احساس فراہم کر سکتی ہیں، جو فلاح و بہبود میں معاون ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ محنت ناصرف توثیق کا باعث بنتی ہے بلکہ یہ کہ، جب ان احساسات کو خطرہ لاحق ہوتا ہے، تو ہم خاص طور پر ایسی سرگرمیوں کی طرف راغب ہوتے ہیں جن کے لیے اضافی کوشش کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ اکثر کام کی شکل میں ہوتی ہیں، کیونکہ یہ ہمارے ماحول کو تشکیل دینے کی ہماری صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں، جن سے باصلاحیت شخص کے طور پر ہماری شناخت کی تصدیق ہوتی ہے۔

ماہرین یہاں تک کہتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کام ہمیں ان حالات میں زیادہ خوش کرتا ہے، جب ہم فرصت کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔ یہ نتائج، تجربات کی ایک سیریز سے حاصل کیے گئے ہیں،جہاں شرکاء کے پاس فارغ رہنے (ایک تجربہ شروع ہونے کے لیے 15 منٹ تک کمرے میں انتظار کرنا) یا مصروف رہنے (کسی تجربے میں حصہ لینے کے لیے15 منٹ تک دوسرے مقام تک پیدل چلنا) کا اختیار تھا۔ بہت کم شرکاء نے مصروف رہنے کا انتخاب کیا، جب تک کہ انہیں چہل قدمی کرنے پر مجبور نہ کیا گیا یا اس کی کوئی وجہ نہ بتائی گئی (مثلاً یہ بتانا کہ دوسرے مقام پر تجربہ گاہ میں ان کے لیے سرپرائز موجود ہے)۔

تاہم، یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کا مصروف یا فارغ رہنے میں سے جو کوئی بھی فیصلہ ہو، وہ آپ کو اتنی زیادہ خوشی بھی دے۔ کیوں کہ محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جن لوگوں نے 15 منٹ پیدل چل کر گزارے، وہ ان لوگوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر خوش ہوئے، جنھوں نے 15 منٹ انتظار میں فارغ بیٹھ کر گزارے، چاہے ان کے پاس کوئی دوسرا انتخاب نہیں تھا اور چاہے انھیں وہاں سرپرائز پیش کیا گیا یا نہیں کیا گیا۔ بالفاظِ دیگر، مصروفیت اس وقت بھی خوشی میں حصہ ڈالتی ہے، جب آپ سوچتے ہیں کہ آپ فارغ رہنا پسند کریں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ جانوروں کو یہ خصلت فطری طور پر ملتی ہے: تجربات میں دیکھا گیا کہ مفت کھانا حاصل کرنے کے بجائے زیادہ تر جانور کھانے کے لیے کام کرتے ہیں۔

یہ نفسیاتی سائنس کا ایک تصور بھی ہے، جو کسی بھی کام یا ہدف کے حصول میں ہماری کوششوں سے ہماری خوشی کے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ خوشی کی ایک ایسی قسم ہے جو ہم زیادہ سے زیادہ کام کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے سے حاصل کرتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کام اور کوشش، ہماری ایک قسم کی خوشی کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس بات کی وضاحت اس طرح کی جاتی ہے کہ ایک مشکل کام کو مکمل کرنے پر آپ انتہائی اطمینان اور فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس طرح کی خوشی کو Eudaimonic happinessکا نام دیا گیا ہے۔

نجی زندگی اور کام کے درمیان توازن سے جو خوشی حاصل ہوتی ہے، نفسیاتی سائنس اسے Hedonic happinessکا نام دیتی ہے۔اسی خوشی کو خوش مزاجی اور شادمانی جیسے مثبت احساسات کی موجودگی اور غم و غصہ جیسے منفی احساسات کی عدم موجودگی سے بیان کیا گیا ہے۔ سائنسی تجربات کی روشنی میں اس خوشی کا ہماری مجموعی فلاح و بہبود سے تعلق ثابت شدہ ہے اور اس میں ایک حصہ کام سے فراغت کا بھی ہے۔

تاہم، ان سائنسی مطالعات کا ایک حصہ ’بہت زیادہ فراغت کا وقت‘ بھی ہے اور جب آپ عملاً فارغ اوقات سے محظوظ ہورہے ہوتے ہیں، آپ کے دماغ میں پسِ پردہ کہیں آنے والی مصروفیات پر بھی سوچ بچار جاری رہتا ہے اور اگر ایک دن میں فراغت پانچ گھنٹہ سے تجاوز کرجائے تو خوشی کے احساسات میں کمی آنے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ، کام سے زیادہ دیر دور رہنے والے افراد اکثر ایسی تفریح کا انتخاب کرتے ہیں، جس میں جسمانی مشقت اور مہم جوئی شامل ہوتی ہے، جیسے صحرائی دوڑ میں حصہ لینا یا ’آئس ہوٹل‘ میں رات کا قیام۔