• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وقت واقعی بہت تیز رفتار ہے۔2021بھی گزر ہی گیا اورکووڈ 19 کا شکار ہونے والوں کی دیکھ بھا ل اور بے روزگاری کی وجہ سے عورتوں کے کاموں میں اضافہ ہو تا چلا گیا۔یہ اور بات کہ عورتوں کا کام کسی کو نظر نہیں آتا۔امسال عورتوں پر تشدد کے ایسے لرزہ خیز واقعات سامنے آئے جنہوں نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ۔بہت سی عورتیں اور لڑکیاں اپنی جان سے گئیں،ان کے لئے انصاف مانگا، ان کے حق میں مظاہرے ہوئے لیکن ان زندہ چلتی پھرتی لاشوں کے بارے میں کچھ نہیں کیا جنہیں ریاست ، سماج اور عدالتی نظام نے ناقابل بیان اذیت سے دو چار کیا۔زیر نظر مضمون میں2021ء میں خواتین کن مسائل سے دوچار ہوئیں ،کیا کارنامے سر انجام دئیے ؟اُن کی بہتری کے لیے کیا اقدامات کئے گئے ،آئیے ایک نظر میں جائز لیتے ہیں ۔

…٭…٭……٭٭٭……٭…٭…

اکتوبر 2021 میں اخبارات میں چھوٹی سی خبر چھپی تھی کہ عدالت نے مزار قائد میں چند سال قبل ہونے والے گینگ ریپ میں ملوث تین ملزمان کو دوسری مرتبہ رہا کر دیا، تب سے لودھراں کی اس معصوم سی سادہ لوح خاتون کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں جو اپنے شوہر اور رشتہ داروں کے ہمراہ 16مارچ 2008 کوقائد کا مزار دیکھنے آئی تھی ۔دونوں میاں بیوی کو گارڈز نے روک لیا اور ٹکٹ لینے کے لئے کہا۔ شوہر ٹکٹ لینے چلا گیا اور بیوی گیٹ پر دوسری گاڑی میں آنے والے رشتہ داروں کا انتظار کرنے لگی۔ شوہر جب ٹکٹ لے کر واپس آیا تو بیوی غائب ہو چکی تھی ،مگر اس کی چپلیں وہیں پڑی ہوئی تھیں۔

گھر والے ساری رات اسے ڈھونڈتے رہے اور اگلی صبح انہوں نے تھانے جا کے رپورٹ درج کرائی۔ پولیس اسے ڈھونڈنے میں ناکام رہی، مگر اٹھارہ مارچ کو وہ خاتون مزار کی سیڑھیوں پر بے ہوش پائی گئی۔ اسے دو مختلف اسپتالوں میں باری باری لے جایا گیا اور دونوں جگہ اس بات کی تصدیق ہوئی کہ خاتون کاریپ کیا گیا تھا۔ خادم حسین سابق سیکورٹی گارڈ،اکائونٹنٹ راجا عارف، اسسٹنٹ انجینئر عارف انصار کو گرفتار کیا گیا، کیوںکہ ڈی این اے رپورٹ سے ان کے اس واقعے میں ملوث ہونے کی تصدیق ہو گئی تھی۔خاتون کے والد نے ان تینوں کے خلاف بریگیڈ پولیس اسٹیشن میں اغوا اور ریپ کا پرچہ درج کرایا۔اپریل 2013 میں ایک سیشن کورٹ نے ناکافی شواہد کی بنا پر ان تینوں کو رہا کر دیا ۔

خاتون نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی، جس نے سیشن کورٹ کا فیصلہ منسوخ کر دیا۔اور مئی 2021میں اسے دوبارہ سماعت کے لئے ٹرائل کورٹ میں بھیجا گیا۔اور اسے نئی سماعت کے لئے تین ماہ کا وقت دیا گیا۔سیشن جج صاحب نے دوبارہ سماعت کے بعد اکتوبر میں ڈی این اے رپورٹ مسترد کر دی اور تینوں ملزموں کو رہا کر دیا۔ ذرا سوچئے اس خاتون کے دل پر کیا گزری ہو گی۔

2021کے چند ماہ تو عورتوں کے لئے بہت ہی خوفناک گزرے۔ فروری میں پشاور کے قریب ایک گائوں میں ایک این جی او کے پراجیکٹ میں سلائی کڑھائی سکھا کے اپنے خاندان کی کفالت کرنے والی دو بہنوں کو قتل کر دیا گیا۔مارچ میں لاہور میں عورتوں کا مارچ منظم کرنے والی خواتین پر بلاسفیمی کا الزام لگایا گیا۔ ان کی فیک وڈیوز اور جعلی تصویریں سوشل میڈیا پر ڈالی گئیں، انہیں دھمکیاں دی گئیں۔ یہ خواتین تشدد سے بچاؤ اور صحت کی سہولتوں تک رسائی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔پاکستان کی نصف سے زیادہ خواتین غذائی کمی کا شکار ہے، انہیں کام کے محفوظ ماحول جیسا بنیادی اقتصادی حق بھی حاصل نہیں ہے اور نہ ہی انہیں زندگی میں مساوی مواقع ملتے ہیں۔

پاکستان جیسے ممالک میں جہاں عورتوں کی پوزیشن ویسے ہی کمزور تھی وہاں کورونا کی وبا نے ان کے لئے حالات کو اور بھی مشکل بنا دیا۔حال ہی میں جاری ہونے والی ویمن سیکورٹی اور پیس انڈیکس ،جس میں معاشروں، کمیونٹی اور گھروں میں عورتوں کی خوشحالی اور خود مختاری کو دیکھا جاتا ہے ،اس میں پاکستان کا نمبر سب سے بری کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بارہ ممالک میں شامل تھا۔ پاکستان کے ڈیمو گرافی اور ہیلتھ سروے کے مطابق اٹھائیس فی صد پاکستانی عورتیں پچاس سال کی عمر کو پہنچنے تک جسمانی تشدد کا سامنا کر چکی ہوتی ہیں۔

نور مقدم
نور مقدم

جولائی 2021میں نور مقدم پر بہیمانہ تشدد کے بعد اس کا سر قلم کئے جانے سے لے کے لاہور میں ایک ٹک ٹاکر اور دیگر خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک نے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ابھی ہم سندھ میں چار بچوں کی خوبصورت اورتعلیم یافتہ ماں قرۃ العین کے قتل کا سوگ منا رہے تھے کہ اسلام آباد میں نور مقدم کے بہیمانہ قتل نے ہلا کے رکھ دیا ۔ نور کو اس کے بچپن کے دوست ظاہر جعفر نے گھر میں قید کرکے تشدد اور ریپ کے بعد اس کا سر ہی تن سے جدا کر دیا تھا۔ یہ سب اس وقت ہوا جب نور کے گھر والے بقر عید کی تیاریوں میں مصروف تھے، ذرا سوچئے ان کے دلوں پر کیا گزری ہو گی جب انہوں نے اپنی بیٹی کی سر کٹی لاش دیکھی ہو گی۔ 

اس بہیمانہ قتل کی باز گشت ختم نہیں ہوئی تھی کہ ٹنڈو آدم کی عنبریں کو اس کے شوہر نے زندہ جلا دیا۔اس سے قبل شہداد کوٹ میں انیس سالہ نذیراں اپنے دیور کے ہاتھوں قتل ہو ئی۔ جولائی میں ہی پشاور میں صائمہ علی کے ساتھ اس کے بھائی اور ماں پر اس کے نشئی باپ نے فائرنگ کر دی۔ ماں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسی جب کہ بھائی بہن شدید زخمی ہوئے۔15 جولائی کو حیدرآباد میں چار بچوں کی ماں کو تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا۔ اکتوبر میں راولپنڈی میں میٹرو بس کے انڈر پاس پر ایک خاتون کا ریپ کیا گیا۔ نومبر کے اوائل میں میر پور خاص میں ایک خاتون کو بے دردی سے قتل کر کے سر تن سے جدا کر دیا،بعدازاں گنے کے کھیت میں پھینک دیا ۔ 

 اس طرح کے اور بھی کئی واقعات پیش آئے،مگر ان کے علاوہ بھی سیکڑوں، ہزاروں خواتین غربت، رسم و رواج ، ناخواندگی اور پدر سری سماج کی بدولت خاموشی سے ظلم و ستم سہتی رہیں۔ کبھی ہم نے گھروں میں کام کرنے والی ماسیوں کے حالات جاننے کی کوشش کی، جو اپنے بچوں کا ہی نہیں اپنے شوہروں کا بھی پیٹ پالتی ہیں۔ ان کے شوہر انہیں بیاہ کر لانے کے بعد کوئی کام نہیں کرتے ،پھر بھی ان کے ساتھ زبانی اور جسمانی بد سلوکی بھی کرتے ہیں۔ان کی شادی ’’وٹہ سٹہ‘‘ کے تحت ہوتی ہے ، اس لئے وہ احتجاج بھی نہیں کر سکتیں ،کیونکہ یوں بھائی کا گھر بھی ٹوٹے گا اور لوگ انہیں لعن طعن کریں گے۔

پاکستان میں صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے واقعات کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ اس کا ذمہ دار بہت حد ت سے عوامل کو ٹہرایا جاتا ہے، جیسے تعلیم اور آگاہی کا فقدان، غربت اور عورت دشمن رویہ وغیرہ۔ ورلڈ اکنامک فورم 2021 انڈیکس کی عالمی صنفی تفاوت میں پاکستان کا نمبر 156ممالک میں سے 153نمبر پرہے۔ کرونا کی وبا کے باعث عورتوں پر گھریلو اور آن لائن تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ کاروکاری اور گینگ ریپ کے واقعات میں بھی کمی توکیا ہی آئی، مزید اضافہ ہی ہوا۔ اس کے باوجود اپریل میں وزیر اعظم پاکستان نے کہا ، معاشرے میں ترغیب و تحریص کو روکنے کے لئے عورتوں کو اپنے جسم کو اچھی طرح ڈھانپنا چاہیے۔ ایک اور انٹرویو میں انہوں نے ریپ کی ذمہ داری فحاشی پر ڈالی۔

مقتولہ قرۃ العین کی بچوں کے ساتھ یادگار تصویر
مقتولہ قرۃ العین کی بچوں کے ساتھ یادگار تصویر

عورت چاہے شہر میں رہتی ہو یا گائوں میں، گھر کے اندر ہو یا باہر،برقعہ پہنتی ہو یا بغیر برقعہ کے ہو، خاندان ، دوستوں ، شوہروں یا اجنبیوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتی یا قتل ہوتی ہے۔ یعنی عام طور پر عورت اپنے قریبی لوگوں کے ہاتھوں ہی تشدد کا نشانہ بنتی ہے۔ قریبی لوگوں کے حملے اجنبیوں کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں، دیگر مردوں کے مقابلے میں شوہر یا گھر کے مردوں کے ہاتھوں عورت کی ہلاکت کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

اپریل 2021میں قومی اسمبلی نے گھریلو تشدد کا بل منظور کیا لیکن جب بل سینیٹ میں پہنچا تو حزب اختلاف نے مطالبہ کیا کہ اسے ترمیم کے لئے اسٹینڈنگ کمیٹی میں بھیجا جائے۔ترامیم کے بعد بل دوبارہ قومی اسمبلی میں بھیجا گیا۔ سینیٹ سے منظوری کے بعد صدر کی منظوری سے پہلے وزیر اعظم کے پارلیمانی امور کے مشیر نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کو خط لکھ دیا کہ اس بل کو جائزے کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھیجا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ اس بل میں گھریلو تشدد کی بہت وسیع تعریف کی گئی ہے۔بل میں عورتوں، بچوں اور بے کس لوگوں پر ہر طرح کی جسمانی، جذباتی، نفسیاتی،جنسی اور اقتصادی زیادتیاں شامل ہیں۔ ماہرین کی رائے میں بل کو اسلامی کونسل میں بھیجنے کا مقصد صرف تاخیری حربے استعمال کرناہے۔

…اہمیت تسلیم کی گئی …

2021میں جس پاکستانی خاتون نے اپنی سفارت کاری اور اقوام متحدہ میں کشمیر کا مقدمہ پیش کر کے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی وہ پاکستان کی پہلی نا بینا سفارت کار خاتون صائمہ سلیم ہیں۔ صائمہ بچپن میں آنکھوں کی ایک نا قابل علاج بیماری کا شکار ہو ئی اور تیرہ سال کی عمر میں بینائی کھو بیٹھی۔ مقابلے کے امتحان میں شامل ہونے کے لئے فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے درخواست کی کہ میرا امتحان کمپیوٹر پر لیا جائے۔

پہلے تو کمیشن نے کہا کہ ،انہیں ہاتھ سے لکھ کر پرچہ دینا ہو گا،مگر جب صائمہ نے 2005 میں منظور ہونے والے ایک آرڈیننس کا حوالہ دیا،جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت نا بینائوں کی سہولت کاری کرے گی اور انہیں کمپیوٹر پر امتحان دینے کی اجازت ہو گی اجازت مل گئی۔ انہیں پاکستان کی پہلی نا بینا سول سرونٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

بلاشبہ پاکستان میں آج بھی ایسی با صلاحیت خواتین ہیں جنہوں نے لاکھوں لوگوں کو اپنے کام سے متاثر کیا ہے۔ ثانیہ نشتر کا نام اقوام متحدہ کے اہم عہدوں کے لئے پیش ہوتا رہا ،آج کل وہ احساس پروگرام عہدہ دیکھ رہیں۔ثانیہ نے کنگز کالج لندن سے پی ایچ ڈی کی ۔وہ اب تک بہت سے قومی اور بین الاقوامی اعزازات حاصل کر چکی ہیں۔ یاسمین لاری کو پاکستان کی پہلی خاتون آرکیٹیکٹ کا اعزاز حاصل ہے 2021 میں بھی انہوں نے کراچی کی تاریخی عمارتوں کی حفاظت اور ماحول دوست پراجیکٹس پر کام جاری رکھا۔زارا نعیم ڈار نے چارٹرڈ اکائونٹینسی کے مشکل ترین بین ا لاقوامی امتحان میں اول پوزیشن لے کر پاکستان کا نام روشن کیا۔علیزہ ایاز کو اقوام متحدہ نے کلائمٹ ایکشن کے لئے اپنا سفیر منتخب کیا۔ ملالہ یوسف زئی کے بعد وہ دوسری پاکستانی خاتون ہیں جنہیں اقوام متحدہ نے اپنا سفیر چنا۔

پولیس ڈپارٹمنٹ کی آمنہ بیگ کو یو ایس اے کا تبدیلی لانے کا عالمی ایوارڈ اور ڈنمارک کا Integrity Icon ایوارڈ ملا۔یہ ایوارڈ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے والے سول سرونٹ کو دیا جاتا ہے۔ اسلام آباد کوہسار میں کام کے دوران آمنہ نے عورتوں کے مسائل کے بارے میں زور و شور سے آواز اٹھائی تھی۔جوتوں کی ایٹمز برانڈ کی شریک بانی سدرہ ،کامیاب ترین اسنیکر کمپنی کی مالک ہیں۔

ان کا اپنا انسٹاگرام صفحہ ’’ہیومنز آف نیو یارک‘‘HONYہے۔سدرہ کی کہانی اس وقت اخباروں کی شہ سرخیوں کی زینت بنی جب انہوں نے انسٹا گرام پر بتایاکہ کیسے انہوں نے دل کی بات مانی اور موجودہ مقام تک پہنچنے کے لئے کتنی مرتبہ اپنا راستہ تبدیل کیا۔

پاکستان کی ایک ٹین ایجر دانا نیر مبین کے ایک وائرل وڈیو شاٹ کو ایک ہندوستانی کمپوزر نے ری مکس کیا اور دونوں ممالک میں دس لاکھ سے زیادہ لوگوں نے انہیں فالو کیا۔ اب وہ دونوں ملکوں میں ایک جانا پہچانا نام بن چکی ہیں۔ اس ری مکس وڈیو کو یو ٹیوب پر لوگوں نے سال کے ابتدائی مہینوں میں ہی پچاس لاکھ مرتبہ دیکھا تھا۔ اس مزاحیہ وڈیو نے دونوں ملکوں کے لوگوں کو ہنسایا۔

چترال کی آئی سرجن ڈاکٹر زبیدہ سیرنگ اس وقت اخبارات کی شہ سرخیوں کی زینت بنیں جب پہلی مرتبہ کسی پاکستانی کی لکھی ہوئی کتاب The last review of clinical Optics made easy, کو ممتاز بک اتھارٹی لسٹ میں شامل کیا گیا۔ اس کتاب کو آج تک آنکھوں کے امراض کے بارے میں لکھی جانے والی بہترین کتاب قرار دیا گیا۔ یہ کتاب آنکھوں کے ڈاکٹرز طلبہ کی امتحانوں کی تیاری میں مدد کے لئے لکھی گئی ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف سندھ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اقدامات جاری رکھے، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق بشمول سندھ چیپٹر نومبر میں فعال ہوا

2021 میں حکومت اور حزب اختلاف کی باہمی کشمکش کے بعد نیلوفر بختیار کمیشن برائے توقیر نسواں کی چئیر پرسن تعینات ہو گئیں۔ کمیشن کوئی دو سال سے غیر فعال تھا۔ سندھ کا صوبائی کمیشن برائے توقیر نسواںنزہت شیریں کی سربراہی میں سر گرم رہا۔ کمیشن کی تجویز پر کووڈویکسینیشن سینٹرز کی مانیٹرنگ شروع کی گئی۔ جن خواتین کے پاس شناختی کارڈ یا تصدیقی دستاویزات نہیں تھیں، ان کے لئے علیحدہ بوتھ قائم کئے گئے۔کووڈ19 کے لئے جینڈر رسپانسیو پالیسی آپشن شائع کئے گئے۔کورونا کی وبا کے دوران جب بہت سے دفاتر بند تھے، تب بھی عورتوں پر تشدد کی شکایات پر کارروائی کی گئی۔

دوسری مرتبہ کمیشن کا اسٹرٹیجک پلان تیار کیا گیا۔ مزدور خواتین کو گھروں میں راشن فراہم کیا گیا۔ ماجدہ رضوی کی سربراہی میں ہیومن رائٹس کمیشن آف سندھ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اقدامات جاری رکھے ۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق بشمول سندھ چیپٹر نومبر میں فعال ہو گیا۔ صدر عارف علوی کے نوٹیفیکیشن کے مطابق رابعہ جویری چیئر پرسن اور سندھ کی نمائندہ انیس ہارون مقرر ہوئیں۔

نوجوان پاکستانی خواتین کاروباری شعبے میں بھی دلچسپی دکھا رہی ہیں اور انہوں کاروباری دنیا میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ 28اکتوبر 2021کو امریکا کی اکیڈمی آف ویمن انٹر پرینیور کے کاروباری مقابلے میں تیس پاکستانی خواتین نے حصہ لیا۔

مریم اقبال Global Nomad کے نام سے خیبر پختونخواہ کی دستکاریوں کا کاروبار چلاتی ہیں ، انہوں نے پانچ ہزار ڈالر کا پہلا انعام حاصل کیا۔ عبیرہ یونس’’ Baby Steps‘‘کے نام سے ایک ڈے کئیر اور بچوں کی تعلیم کا مرکز چلاتی ہیں۔انہیں چار ہزار ڈالر کا دوسرا انعام ملا۔ مدیحہ ملک کو تین ہزار ڈالر کا تیسرا انعام ملا ، وہ دھاگہ کلاتھنگ کے نام سے ملبوسات ڈیزائن کرتی ہیں ۔

جینڈر گلوبل رپورٹ 2021ء ابھی عورتوں کی ایک اور نسل کو صنفی مساوات کا انتظار کرنا ہوگا

پاکستان سمیت دنیا بھر میں مختلف شعبوں میں عورتوں کی پیش رفت کے باوجود نیا بھر میں صنفی تفاوت برقرار ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی جینڈر گلوبل رپورٹ 2021ءکے مطابق ’’ابھی عورتوں کی ایک اور نسل کو صنفی مساوات کا انتظار کرنا ہو گا،کیوںکہ COVID 19 کے اثرات بہت عرصے تک محسوس کئے جاتے رہیں گے اور ان کی بدولت عالمی صنفی گیپ ایک نسل یعنی 99.5سال سے کی بجائے 135.6 سال ہو گیا ہے۔

صنفی تفاوت یا صنفی گیپ سے مراد مرد اور عورت کے درمیان وہ فرق ہے، جس کی عکاسی سماجی، سیاسی، انٹلکچوئل ، ثقافتی یا اقتصادی کامیابیوں یا رویّوں میں ہوتی ہے۔ پاکستانی حکومتیں اور سول سوسائٹی عورتوں کو کاروباری دنیا میں آگے بڑھانے کے لئے قانون سازی اور مخصوص نشستوں سمیت مختلف اقدامات کرتی رہی ہیں۔

پاکستان کی کاروباری منتظم اور ٹیک اسٹار عیشا شیخ اگلی 1000 کی2021 کی شہرہ آفاق فہرست میں اپنا نام شامل کرانے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ ایشا کا ہیلتھ ٹیک ایپ ’’پلے پال‘ ‘لوگوں کو گیمز کے ذریعے صحت مند رکھنے میں ان کی مدد کرتا ہے۔ فوربس کے مطابق پلے پال مشینوں کا استعمال سکھا کے لوگوں کو اپنی صحت کے حوالے سے ان کے ذاتی مقاصد کے حصول میں مدد کرتا ہے۔ اور ایپ کی گیمز کے اندر اور اس کے علاوہ بھی انعامات کی پیشکش کرتا ہے ۔

اب تک کمپنی دو ملین ڈالر کما چکی ہے۔ ہیلتھ ٹیک اسٹارٹ اپplay pal Inc 2017 میں قائم کی گئی اور اس کا مقصد تفریحی انداز میں لوگوں کو صحت مندبنانا ہے۔ عیشا نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ،وہ بچپن میں کلینیکل موٹاپے کا شکار تھیںاور یہی چیز اس ایپ کو بنانے کا سبب بنی، تاکہ صحت کے بحران کو ختم کیا جاسکے۔ پاکستانیوں کے لئے یہ فخر کی بات ہے فوربس نیکسٹ 1000 کے لئے ایک پاکستانی خاتون کو منتخب کیا گیا۔

پاکستان کی ایکٹوسٹ خواتین عرصہ سے ریپ اور دیگر کیسز میں دو انگلیوں والے ٹیسٹ کی مخالفت کر رہی تھیں ۔ لاہور ہائی کورٹ کی جج عائشہ ملک نے جنوری 2021 میں اپنے اہم فیصلے کے ذریعے لڑکی کے باکرہ ہونے کے ثبوت کے طور پر دو انگلیوں Two finger virginity testکو غیر قانونی قرار دے دیا ۔جسٹس ملک نے اس ٹیسٹ کو خواتین کے وقار کے خلاف قرار دیا ۔ ملک بھر میں اس فیصلے کو خواتین کے حقوق کی مہم کی کامیابی سمجھا گیا۔

چند ماہ بعد جب ان کا نام سپریم کورٹ کے جج کے طور پر ترقی کے لئے پیش کیا گیا تو خواتین ایکٹوسٹس میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔وہ پہلی خاتون جج تھیں جن کا نام سپریم کورٹ میں ترقی کے لئے پیش کیا گیا تھا۔ لیکن وہ سینیارٹی کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر تھیں، اس لئے سپریم کورٹ میں ان کی تعیناتی نہیں ہو سکی۔ اُمید ہےکہ آنے والے سالوں میں ہمیں خواتین ججز زیادہ تعداد میں نظر آئیں گی۔

افرادی قوت میں خواتین کی شراکت میں اضافے کے لئے تجاویز مرتب کی گئیں 

پاکستان میں کام کے مواقع میں عدم برابری عورتوں کی اقتصادی خود مختاری کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔اس کی وجہ صنفی مساوات پر مبنی پالیسیوں کا نہ ہونا ، غیر مساوی آمدنی، کام کی جگہ پر ہراساں کیا جانا اور معاشرے میں عورت کا کردار متعین کرنے والے اسٹیریو ٹائپس ہیں۔2021 ء میں کام کرنے والی جگہوں پر عورتوں کی ضروریات کے حوالے سے سہولتوں کا فقدان رہا۔ آمد و رفت کی سہولیات کی کمی پہلے بھی تھی ،گزرتے سال میں رہی۔ خواتین کے لیے پبلک ٹوائلٹس صرف شاپنگ مالز میں ہیں، پروفیشنل ڈیولپمنٹ کے مواقع یا تو سرے سے ہیں نہیں یا عورتوں کے ساتھ امتیاز روا رکھا جاتا ہے۔ پاکستان کی لیبر فورس میں عورتوں کی تعداد 13.5ملین(بیس فی صد) ہے۔

زراعت کے شعبے میں کام کرنے والی سات ملین عورتوں کو خاندانی ورکرز گردانا جاتا ہے، اس لئے نہ انہیں معاوضہ ملتا ہے اور نہ ہی وہ کسی شمار قطار میں آتی ہیں،حالاں کہ دیہی عورتیں زراعت کے شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کلائمٹ چینج کے مطابق خود کو ڈھالنے یا اس کے اثرات کم کرنے کے لئے حکومت کو زراعت کے شعبے میں صنفی حساسیت پر مبنی پالیسیاں بنانی چاہیے۔ستمبر 2021میں کراچی میں دو سو خواتین نے کامن ویلتھ کی اکنامک انٹرپرینیورشپ کی تین ماہ کی ٹریننگ مکمل کی ،تا کہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔

جب عورت کو اپنی صلاحیت اور طاقت کا اندازہ ہو جاتا ہے تو وہ صرف اپنے حالات ہی نہیں ملک و قوم کو بھی بدل سکتی ہے۔ پاکستانی حکومت نوجوان خواتین اور مردوں کو بھی صنفی طور پر منصفانہ اور بار آور مواقع فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ حکومت نے اس حوالے سے ملک بھر میں نوجوانوں کے ساتھ مارچ میں مشاورت کی۔اگلے تین سالوں میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے اور افرادی قوت میں خواتین کی شراکت میں اضافے کے لئے تجاویز مرتب کی گئیں۔

وراثت، اثاثوں کی ملکیت اور دیگر مواقع تک رسائی میں عورتوں کا کردار محدود رہا

ہرسال پندرہ اکتوبر کو دنیا بھر میں دیہی عورتوں کا دن منایا جاتا ہے ۔ رواں گزرتے سال دیہی عورتوں کی تنظیم’’پودا‘‘ کی بانی ثمینہ نذیر نے مقامی حکومتوں اور اسمبلیوں میں عورتوں کی مساوی نمائندگی پر زور دیا۔امسال دیہی عورتوں کے عالمی دن کی توجہ کا مرکز دیہی خواتین قیادت اور کلائمٹ چینج کا مقابلہ کرنے میں ان کا کردار تھا۔ پاکستان میں پدر سری رحجانات وراثت، اثاثوں کی ملکیت اور دیگر مواقع تک رسائی میں عورتوں کا کردار محدود کر دیتے ہیں۔ 

دیہی علاقوں کی عورتوں اور بچیوں میں نا خواندگی کی شرح بہت بلند ہے۔عورتوں کی شرح اموات کے لحاظ سے بلوچستان بد ترین علاقہ ہے۔ جہاں زچگی کے دوران شرح اموات ایک لاکھ پیدا ہونے والے بچوں کے لئے 298مائوں کی اموات ہے، جب کہ قومی اوسط 186ہے۔

غریب خواتین کی صورت حال میں فرق نہیں آیا

غریب طبقات کی خواتین شروع سے اپنے حقوق سے محروم رہی ہیں۔2021 ء میں بھی ان کی صورت حال میں فرق نہیں آیا۔ صنفی مساوات کے معاملے میں پاکستان سب سے پیچھے رہ جانے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ بچوں اور عورتوں پر گھریلو تشدد کے واقعات آئے روز سامنے آتے ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل کا رواج ختم ہو کر نہیں دے رہا۔ 

کم عمری کی شادی کے خلاف قانون کے باوجود بچیوں کی شادی کر دی جاتی ہے۔ ایسے بہت سے عوامل کی وجہ سے پاکستان میں بہت سی لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتی ہیں۔ اس وجہ سے وہ اقتصادی طور پر خود کفیل بھی نہیں ہو پاتیں۔ کووڈ 19 کے دنوں میں یہ صورت حال مزید خراب ہو گئی۔

بہرحال حکومت پاکستان نے عورتوں کے حقوق کی سربلندی کے لئے کچھ چھوٹے چھوٹے اقدامات کرنے شروع کئے ہیں جیسے تیزاب پھینکنے والے ملزموں کی رحم کی اپیل مسترد کرنا۔ ہراسمنٹ پرقانون کی منظوری وغیرہ۔عدلیہ بھی متاثرہ خواتین کی مدد کر رہی ہے۔ صوبہ ء سندھ میں زراعت کے شعبے میں کام کرنے والی خواتین کے حق میں قانون بنایا گیا ہے، ان کے لئے کم از کم اجرت تحریری معاہدے کے ذریعے طے کی جاتی ہے۔ انہیں علاج معالجہ اور دیگر سہولتیں فراہم کی جاتی رہی ہیں۔

ان اقدامات کی بدولت زرعی صنعت کے شعبے میں عورتوں اور مردوں کے درمیان پایا جانے والا فرق دور کرنے میں مدد ملے گی۔ ویسے بھی پاکستان کے عوام سب سے زیادہ تعداد میں زراعت کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔

پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کی سطح پر عورتیں نظر نہیں آئیں

عورتوں کی تحریک کی مسلسل کوششوں کے باوجود ابھی تک فیصلہ سازی اور سیاست میں عورتوں کا کردار محدود رہا ۔2021ءمیں کچھ نہیں ہوا ۔پاکستان کے 106ملین رجسٹرڈ ووٹرز میں سے عورتیں صرف چوالیس فی صد ہیں جو پاکستان کی بالغ آبادی میں ان کی تعداد سے چھ فی صد کم ہے ۔ بے نظیر انکم سپورٹ اور احساس پروگرام کی بدولت صورتحال کچھ بہتر ہوئی ہے، مگر ابھی بھی یہ تعداد بہت کم ہے۔ ہیلتھ کئیر کے شعبے میں بہت زیادہ صنفی تفاوت پایا جاتا ہے۔پاکستانی خواتین کی اکثریت کی صحت کی سہولتوں تک رسائی نہیں ہے۔کووڈ 19کی وبا نے صورتحال کو مزید خراب کیا ہے۔ عورتوں کی تحریک کی کارکنان کی رائے میں ہیلتھ کئیر ایک فیمنسٹ ایشو ہے۔

عالمی ادارہء محنت کا شروع سے یہ موقف رہا ہے کہ کام کی جگہوں پر صنفی تنوع ہونا چاہیے۔ اس سے صرف عورتوں کو فائدہ نہیں ہوتا بلکہ معاشرہ، معیشت اور ادارے بھی مضبوط ہوتے ہیں۔ عورتیں ڈاکٹروں، نرسوں، مڈ وائف ، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دیگر عہدوں پر تو کام کر رہی ہیں ،مگر پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کی سطح پر عورتیں نظر نہیں آئیں۔ پاکستان میں HRH وژن 2030 کا افتتاح 2018میں ہوا تھا اور اب صوبائی طبی کارکنان کے اسٹریٹجک پلان تیار کئے جا رہے ہیں۔ صحت و طب کا شعبہ صرف پاکستان میں نہیں دنیا بھر میں اس لحاظ سے بے مثال ہے کہ اس میں عورتیں بہت بڑی تعداد میں نظر آتی ہیں لیکن لیڈرشپ کی سطح پر نہیں ۔