• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسداد دہشت گردی عدالت نے پروین رحمان قتل کیس کا فیصلہ سنادیا


انسداد دہشت گردی عدالت نے اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی ڈائریکٹر اور سماجی کارکن  پروین رحمان کے قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پروین رحمان قتل کیس کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے جرم ثابت ہونے پر چار مجرمان کو دو، دو مرتبہ عمر قید،  57، 57 سال قید اور پونے 4 لاکھ فی کس جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

عمر قید کی سزا پانے والوں میں ایاز سواتی، رحیم سواتی، محمد امجد اور احمد عرف پپو کشمیری شامل ہیں، ملزم عمران سواتی کو سہولت کاری پر 7 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

عدالت نے چاروں مجرموں کو سہولت کاری میں 7،7 سال قید کی سزا سنائی، چاروں مجرموں کو دہشت گردی میں عمر قید اور قتل میں بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

حقائق چھپانے پر مجرم ایاز سواتی، امجد خان، احمد خان، عمران سواتی کو 6، 6 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے  2 مفرور ملزمان شول داد اور موسیٰ کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے دونوں مفرور ملزمان کا کیس داخل دفتر کردیا۔

پروین رحمان کو 13 مارچ 2013 میں آفس سے گھر جاتے ہوئے فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا، سپریم کورٹ نے پروین رحمان کے قتل کیس کا از خود نوٹس لیا تھا۔

کراچی میں اورنگی ٹاؤن پائلٹ پروجیکٹ کی ڈائریکٹر پروین رحمان کے قتل کی تحقیقات میں سامنے آنے والے انکشافات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ انہیں اجرتی قاتلوں نے 40 لاکھ روپے کے عوض قتل کیا۔

 قتل کی تحقیقات میں سامنے آنے والے انکشافات

سماجی کارکن پروین رحمان کے قتل میں گرفتار ملزم امجد حسین نے جے آئی ٹی کو دیے گئے بیان میں انکشاف کیا کہ ایک سیاسی جماعت کے عہدیدار پروین رحمان سے زمین مانگ رہے تھے اور انکار پر کالعدم تنظیم کو پیسے دے کر انہیں قتل کروا دیا گیا۔

امجد حسین عرف امجد آفریدی کے مطابق اس کیس میں پہلے سے گرفتار ملزم رحیم سواتی اور ایاز سواتی پروین رحمان سے علاقے میں جِم کھولنے کیلئے زمین مانگ رہے تھے۔

پروین رحمان کے انکار پر جنوری 2013 میں رحیم سواتی کے گھر پروین رحمان کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا جس میں ملزم امجد حسین، ایاز سواتی، رحیم سواتی اور احمد عرف پپو شامل تھے۔

قتل کے لئے رحیم سواتی نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے موسٰی اور محفوظ اللّٰہ عرف بھالو نامی دو علاقائی عہدیداروں سے رابطہ کیا جو 40 لاکھ روپے کے عوض پروین رحمان کو قتل کرنے کے لئے تیار ہوگئے۔

امجد حسین اور دیگر ملزمان نے دوماہ تک پروین رحمان کی ریکی بھی کی جس کی تفصیلات کالعدم تنظیم تک پہنچائی جاتی رہی،  موسیٰ اور بھالو نے 23 مارچ 2013 کو پروین رحمان کو قتل کردیا۔

ملزم امجد حسین نے دوران تفتیش جے آئی ٹی کو بتایا کہ رحیم سواتی کی جانب سے 40 لاکھ روپے نہ دینے پر کالعدم تنظیم نے رحیم سواتی کے گھر دستی بم حملہ بھی کیا تھا۔

پولیس نے 18 مارچ 2015 کو مانسہرہ سے قتل میں ملوث مرکزی ملزم احمد خان عرف پپو کشمیری کو گرفتار کیا جبکہ منگھوپیر سے رحیم سواتی کی گرفتاری بھی عمل میں آئی تھی۔

قومی خبریں سے مزید