• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماہر فلکیات کارل سیگان نے اپنی زندگی کے اواخر میں دئیے گئے ایک انٹرویو میں سائنس کو کچھ ان الفاظ میں بیان کیا۔ سائنس دراصل ایک علم ہی نہیں بلکہ سوچنےکے ایک خاص طریقہ کار کا نام ہے، جس میں کائنات کے رازوں سے محتاط طریقوں سے پردہ اُٹھایا جا تا ہے۔ اس عمل کےدوران انسانی خامیوں اور کم آئیگی کو بھر پور طریقے سے ملحوظ خاطر رکھاجا تا ہے۔ کارل سیگان کایہ بیان سائنس کی جامع وضاحتوں میں سے ایک مانا جا سکتا ہے۔ 

بلا غرض کہ سائنس کی کوئی بھی مفروضہ اس وقت تک قابل یقین تصور نہیں کیا جاتا جب تک کے تجربات اور ان کے نتیجے میں حاصل ہونے والے شواہد کی روشنی مکمل یا کم از کم بحیثیت مجموعی سے مکمل طور پر درست ثابت نہ ہو جائے۔ اس کے باوجود بھی ایک خاص وقت میں درست ثابت ہونے والا مفروضہ کلی طور پہ منطقی تصور نہیں کیا جاتا۔ بلکہ عقلی طور پر زیادہ مضبوط مفروضہ اور جدیدٹیکنالوجی کی بنیادپہ بنا ئےگئے آلات اور ان سے کے گئےتجربات سے حاصل ہونے والے نتائج ایک خودکار مشین کی طرح پرانے مفروضے کو یکدم غلط ثابت کرسکتے ہیں۔ 

اس بات کو بالائےطاق رکھ دیا جا تا ہے کہ پرانے مفروضے ثابت کر نے میں کتنے بڑے اور نامی گرامی سائنسدان شامل تھے اکثریت اس مفروضے کی کتنی بڑی حامی ہے۔ ایک قدرے مضبوط تجربہ ،جامع نتیجہ ،ریاضیاتی، مساوات، واضع شہادت یا چونکا دینے والی دریافت کسی بھی بڑے سے بڑے سائنسی قانون یا نظریے کوماضی کا حصہ بنا سکتی ہے۔ بظاہر یہ سائنسی طریقہ کارکتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو لیکن اس طریقہ کار میں ہی سائنس کی طاقت اور افادیت مضمر ہے اسی طریقہ کار کی وجہ سے سائنس میں خود درستی کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے ۔ اسی طریقہ کار نے آج کی جدید ادویات ویکسینز، سرجری کے طریقے کا ر واضع کیے ہیں۔ 

اسی عمل نے ہمیں خلاء میں موجود دیگر اجرام فلکی کا نہ صرف ادراک کروایا ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم ان کے بارے میں اتنا جاننے لگے ہیں کہ اب یہ بات ناقابل تصور نہیں کہ انسا ن اپنی آبادیاں دیگر سیاریوں یا ان کے چاند پر بنا نے کا سوچ رہا ہے۔ بحیثیت مجموعی سائنس میں ہونے والی مسلسل ترقی میں یہیں خود در ستی کاعمل کار فرما ہے، جسں کے باعث سائنس کے میدان میں ہر نیا سال گزشتہ کے مقابلے زیادہ حیرت انگیز اور کامیاب ثابت ہوتا ہے ۔ سال 2021 ءمیں ہونے والی سائنسی تحقیقات دریافتیں اور ایجادات اس امر کا واضح ثبوت ہیں جن کا مختصر جائزہ پیش نظر ہے۔

فلکیات

ہر سال کی طرح 2021ءمیں فلکیات کے میدان میں کئی حیرت انگیز حقائق رونما ہوئے جن میں سے چند کا مختصر اً جائزہ اس تحریر میں کیا گیا ہے۔جنوری کے مہینے میں شائع ہونے والی ایک سا ئنسی تحقیق کے مطابق زمین اپنے طور پر گزشتہ پیمائش کے مقابلے میں قریباً ایک سیکنڈ زیادہ تیزی سے گھوم رہی ہے جسے سائنسی اصطلاح میں -ve leap سیکنڈ کا نام دیا گیا ۔ جنوری میں ہی پہلی بار خلا میں مائع ایندھن سے خلائی راکٹ کی پرواز کا کام یاب تجربہ کیا گیا ۔ 

یہ کامیابی اس لحاظ سے کافی اہم ہے کہ اب ماہر فلکیات اپنی تحقیق کا دائرہ مزید بڑھا سکتے ہیں جن سے خلاکےان حصوں اور علاقوں کا بھی مشاہدہ کیا جاسکے گا جو پہلے ان کی دسترس میں نہیں تھے ۔فروری کے مہینے میں عرب امارات کا اور چین کا ایک سیارچہ Hope اور Tianwen1 مریخ کے مدار میں داخل ہوئے اسی مہینے میں گزشتہ سال ناسا کی طر ف سے بھیجی گئی Mars ,Rover کی دل چسپ جگہ Jezero Carter پر پہنچ گئی۔ Jezero Carter ایک 45km چوڑا گڑھا ہے جو کہ مریخ کی سطح پر کسی شہاب ثاقب کے ٹکرانے سے بنا ہے۔

مارچ 2021 ءمیں سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ناگہانی آفت کی صورت میں زندگی کی بقا کے لئے ایک طریقہ کار پیش کیا، جس کے مطابق تقریباً 70 لاکھ جانوروں اور پودوں کے جینیاتی مادّے اور کچھ تو لیدی حصوں کو زمین سے باہر چاند کےگرد ایک حلقے Lunar arc میں بھیج دیا جائے۔ زمین کے گرد خلاء میں کئی اجرام فلکی ,سیارچے، چٹانیں اور شہاب ثاقب اپنے مدار میں گردش کررہے ہیں ا۔س بات کا امکان موجود رہتا ہے کہ کسی مخصوص وقت دو اجرام فلکی کے مداراد ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں ۔

لہٰذا ماہر فلکیات ان اجرام فلکی کی حرکات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ایک Asteroid جیسے99942 Apophis کہا جاتا ہے ،اس کا مدار آئندہ آنے والے 100سال تک زمین کے مدارسے نہیں ٹکرائے گا۔ نومبر2021میں اس ضمن میں ناسانے Asteroid کو اپنے مدار سے ہٹانے کا DART نامی تجربہ کیا ہے۔اپریل 2021 ء میں ناسا کی طرف سے مریخ پر بھیجی جانے والی Perseverance rover نے CO2سےO2 بنانے کا کامیاب تجربہ کیا،جس کے باعث اس بات کا قیاس جا سکتا ہے کہ مریخ پر انسانی بقاء کو ممکن بنانے کے لئے مصنوعی ماحول تخلیق کیا جا سکے گا۔ 

مئی2021 میں چین کے خلائی ادارے (CNSA) کی طرف سے بھیجا گیا Zhurong مریخ پر کامیابی سے اتر ا۔ یہ چین کی طرف سے مریخ پر بھیجا گیا دوسرا کا میاب مشن ہے۔ جہاں انسان اپنی آباد کاری کے لئے دوسرے سیاروں پر ممکنہ حالات تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہیں خلا میں زندگی کے آثار ڈھونڈنے کی غرض سے بھی کئی اہم دریا فتیں 2021 میں ہوئیں ۔

فروری 2021 میں مریخ اور وینیس سیاریوں پر میتھین اور فاسفین نامی مرکب کی نشاندہی ہوئی۔ چوں کہ یہ دونوں مرکب زندگی سے وجود میں آتے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ زندگی زمین کے علاوہ کچھ اور سیاروں پر بھی ہو سکتی ہے ۔اسی ماہ میں سائنسدانوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ NO2 نامی گیس کو بھی دیگر سیاروں پر تلاش کیا جائے ۔اس گیس کی موجودگی آلودگی کا پتہ دے سکتی ہے جو کہ ان سیاروں پر کسی تیکنیکی ترقی کی نشاندہی کر سکتی ہے۔

مارچ 2021کے مہینے میں International Space Station سے بیکٹیریا کی ایک نئی نوع Methylobactecium ajmali کی تین نئی اقسام دریافت ہوئی ہیں۔ چونکہISS کافی عرصےسے زمین کے باہر خلاء میں چکر لگا رہا ہے۔ لہٰذا اس بات کا امکان نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ہے یہ بیکٹیریا خلاء میں موجود ہوں ۔اڑن طشتری (Unidentified flying object) کو کافی عرصے سے وہم یا صرف مفروضہ ہی تصور کیا جارہا ہے لیکن مئی 2021 میں پہلی دفعہ بڑے پیمانے پر سائنسدانوں نےان کی موجودگی کے بارے میں پیش کی گئی شہادتوں کا سائنسی جائز ہ لینا شروع کیا ہے۔ 

جون2021 میں Saturn نامی سیارے کےچاند پہ میتیھن کی موجودگی کی نشاندہی ہوئی ہے ،جس کو زندگی کی موجودگی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اگست 2011 میں نظام شمسی سے باہر ایسے سیاروں ایک گروپ کا پتا چلا جہاں زندگی ممکنہ طور پر ہو سکتی ہے یا انہیں زندگی کے بقا کے لئے موافق بنایا جا سکتا ہے ۔ سیاروں کے اس گروپ کو Hyean class کا نام دیا گیا ہے۔ نومبر 2021میں ناساکی مریخ پر موجود ایک پرانی Curiosity Rover نے Benzoic acid اور Ammoniaکی موجودگی کی نشا ندہی کی ہے جو کہ مریخ پر زندگی کے آثار کاپتہ دیتی ہے ۔

ماحولیات

سا ئنسی اور اس کے نتیجے میں حاصل ہوے والی صنعتی ترقی نے جہاں بنی نوع انسان کو کئی فوا ئد پہنچائے ہیں وہیں اس کے بے دریغ استعمال نے ماحول پر کئی مضر اثرات مرتب کئے ہیں جن کی شدت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہاہے۔ 2021ء میں اس سلسلے میں کئی اہم سا ئنسی جا ئزے شا ئع ہو ئے ۔ جنوری 2021 میں شائع ایک تخمینے کے مطابق تقریباً ایک ارب ٹن فضلہ مکمل طور پہ تلف ہونے سے بچ رہا ہے ۔ صنعتی ترقی کا ایک نتیجہ ایسی گیسوں کا اخراج بھی ہے، جس کے باعث کے مسلسل زمینی درجۂ حرارات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ 

جنوری میں سمندرکے 2000 میٹر کی گہرائی میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ قطب پر موجود برفانی گلیشر کا ریکارڈ پگھلاؤ بھی اسی ماہ میں مشاہدے میں آیا۔ ان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث تقریبا ًجانداروں کی ہر نوع متاثر ہو رہی ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق Bees کی آبادی میں 20فی صد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے ذراعت پہ برا ہ راست اور دیگر جا نورں پر با لو اسطہ مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں اسی طرح سمندر میں بےجا شکار کے باعث شارک کی آبادی 1970 سےتقریباً 71 فی صد گرچکی ہے۔ 

مار چ 2021 میں شائع ایک تخمینے کے مطابق صرف یورپ کے اندر زراعت میں تین گنا کمی واقع ہو ئی ہے اپریل 2021 میں کی گئی ایک سائنسی تحقیق نے ایک چونکا دینے والی حقیقت کو آشکار کیا ہے ۔ اس تحقیق کے مطابق ہماری زمین کا صرف3 فی صد حصہ جانداروں کے بقاکے لئے سازگار بچاہے اپنی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک معروف سائنسی جریدے Scientific American نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے لئےاپریل 2021سے Environmental Changes کی بجا ئے ۔Environmental Emergency کی اصطلاح کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے ۔

یہ ماحولیاتی تبدیلیاں دیگر جانداروں کی طرح انسانوں کو بھی بری طرح متاثر کر رہی ہیں ۔ ایک محتاط تخمینےکے مطابق انسانی اموات کی 9.4 فی صد ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔ اور مزید براں کے 2020 میں پیدا ہونے والے بچے Generation Alpha موجودہ نسل کے مقابلے میں دو سے سات گنا درجۂ حرارت کی شدید تبدیلیوں سے گزریں گیں۔ ان تبدیلیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے جوہری توانائی کو ایک متبادل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ لیکن نومبر 2021 میں کئے گئے ایک جائزے کے مطابق جوہری توانائی ماحولیاتی تبدیلیوں کے حل میں ناکامی ثابت ہو گی بلکہ کسی حادثے کی صورت میں وہ اس میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔

ٹیکنالوجی

2021 میں کئی نئی ٹیکنالو جیز متعارف ہو ئی ہیں جن میں سے چند اہم کاتذکرہ حسب ذیل ہے۔

جنوری میں آسٹریلیانے Gooseberry نامی ایکQuantum Computer متعارف کروایا ہے، جس کی آزمائش تجرباتی بنیادوں پر جاری ہے۔ اسی مہینے میں ایسے لباس بھی متعارف کروائے گئے ہیں جن سے انسانی جسم سے نکلنے والی حرارت کے ذریعے برقی آلات سے مثال کے طور ہمارے mobile phones کو چارج کیا جاسکے گا۔ رواں سال مارچ کے اواخر میں انسانی دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان تعلق بنا لیا گیا ،جس میں معلومات کی آمد و رفت 48 mb/sec تک پہنچ چکی ہے ۔ اپریل 2021 میں سائنسدانوں نے ایک سفید ترین silica سے بنا پینٹ تخلیق کیا جو کہ98.1 فی صد روشنی کو منعکس کر سکتا ہے ۔ 

اس پینٹ کے استعمال سےکمرے کے درجہ ٔحرارت کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے ۔ رواں سال جون میں پودوں کی پروٹین سے پلاسٹک تیار کیا گیا ہے جو کہ عام پلاسٹک مقابلے میں خاصی تیزی سے ماحول میں تحلیل ہو سکتا ہے۔ اسی ماہ میں ایک ایسے Biosensors کو Face mask میں بھی متعارف کروایا گیا ہے جو کہ بیماری پیدا کرنے والے جراثیم مثلاً SARS CoV-2کی نشاندہی کرسکے گا۔ جاپان میں جولائی 2021 میں انٹرنیٹ کی تیز ترین رفتار 319 TB/sec حاصل کرلی گئی جو کہ گزشتہ ریکارڈ سے تقریباً دوگنی ہے ۔ ستمبر2021ء میں مصنوعی کافی اور Starch کو متعارف کروایا گیا ہے۔ اسی طرح اکتوبر 2021 ء میں جرمنی میں بغیر ڈرائیور کی ٹرین تجرباتی بنیادوں پر متعارف کروا ئے گئے ۔

کووڈ - 19

کووڈ- 19 کی وبا نے گزشتہ دو برس سے پوری دنیا کو اپنے نرغہ میں لے رکھا ہے۔ طبی اور حیا تیاتی سائنس میں ہونے والی تحقیقات کے نتیجے میں ہم اس وبا کے بارے نہ صرف بہت جلد بہت زیادہ جان سکے بلکہ ساتھ ہی ساتھ اس کے تدارک کے لئے ویکسین بھی تیار کی گئی۔ رواں سال ہونے والی جنوری سے اور پھر مئی میں ہونے والی مسلسل تحقیقات کے نتیجے میںSARS-CoV2 کی تین نئی اقسام کی نشاندہی ہوئی جنہیں ہم بیٹا ، گا ما ، اور ڈیلٹا ویرینٹ کے نام سے جانتے ہے ۔ 

مسلسل جاری تحقیقات نے یہ بھی ثابت کیا کہ یہ ویر ینٹ مو جودہ ویکسینز کی افادیت کو کم کر سکتے ہیں، جس کے تدارک کے لیے مئی کے مہینے میں Pan Corona ویکسین تیار کی گئی اور بندروں میں اس کے کامیاب تجربات کے نتائج معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئے۔ مئی 2021 میں ہی ہالینڈ کے اندر Bees کو SARS CoV-2 کی نشاند ہی کے لئے تجربات کیے گیے ۔کووڈ 19 کے وائرس SARS CoV-2 کی ابتداءکافی عرصے تک ایک متنازع مضمون رہا ہے ۔ فروری 2021میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق اس وائرس کے پہلے مریض میں وائرس اس کے والدین سے منتقل ہوا جو کہ چین میں موجود Haung Sea Food Market سے اس وائرس کا شکار ہوئے تھے۔ 

البتہ ستمبر 2021 میں نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ایک خاص قسم کی چمگاڈر جو کہ Laos میں پائی جاتی ہے ،اس میں ایسے کورونا وائرس کی نشاندہی ہوئی جو کہ SARS CoV-2 سے باقی تمام کرونا وائرسز کے مقابلے میں جینیاتی طور پر زیادہ مشابہ ہے۔ ابتداء میں SARS CoV-2 کو RaTG13 نامی کورونا وائرس کی ارتقائی شکل قرار دیا گیا تھا جوکہ موجودہ SARS CoV-2 سے جینیاتی طور پر 96.1 فی صد مشابہ تھا لیکن ستمبر2021 میں شائع تحقیق کے مطابق Laos میں پائی جانے والی چمگاڈروں سے حاصل ہونے والا کورونا وائرس SARS CoV-2 سے96.8 فی صد مشا بہ ہے۔

یہ تحقیق اس بات کی طرف نشاندہی کرتی ہے کہ شاید SARS COV-2 چین سے و جودمیں نہیں آیا ۔ یہاں یہ بات بھی قا بل ذکر ہے کہ جہاں SARS CoV-2 ویکسینز کی فراہمی کے باعثCOVID-19 کی وبا پوری دنیا میں خاصی حد تک کنٹرو ل میں آگئی ہے ۔ وہیں COVID-19 کے پیش نظر کئے گئے حفاظتی اقدامات کے نتیجے میں وائرس کی ایک دوسری قسم Influenza B کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے ۔

حالیہ صدی میں کسی بھی جاندار کی جینیاتی ساخت معلوم کرنے کے لئے ایک نئی تکنیک جسے Next Generation Sequencing کہا جاتا ہے کو وضع کیا ہے۔ اس سے پہلے جس تکنیک کے ذریعے جینیاتی مادّے کی ساخت معلوم کی جاتی تھی اسے Sanger Sequencing کہا جاتا تھا۔ جینیاتی ساخت معلوم کرنے کے اس طریقے میں کافی وقت درکار ہوتا تھا۔ اس کے مقابلے میں Next Generation Sequencingخاصے کم وقت میں بہت زیادہ مقدار میں کئی جانداروں کی جینیاتی ساخت بتا سکتا ہے۔

اسی باعث حالیہ Covid-19 کی وبا کے دوران ہمیں SARS-CoV-2 کی لاتعداد جینیاتی تبدیلیوں کا پتہ بہت جلد چل گیا۔ اسی کے باعث SARS-CoV-2 کے الفا ،بیٹا،گاما اور ڈیلٹا ویرینٹ اور اس کے پھیلائو کا ادراک قدرے کم وقت میں ہوگیا۔ گزشتہ ماہ کے اواخر میں اسی طرح کا ایک نیا ویرینٹ Omicron دریافت ہوا ہے۔ SARS-CoV-2 کا یہ ویرینٹ پہلے آنے والے SARS-CoV-2 کے ویرینٹ سے اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس ویرینٹ کے وائرس کی Spike Protein میں پہلے کے مقابلے میں کئی زیادہ تبدیلیاں موجود ہیں چوں کہ SARS-CoV-2 کے خلاف بنائی جانے والی تقریباً تمام ویکسینز Spike Protein کو ہی اپنے ہدف کے طور پر استعمال کرتی ہیں ۔لہٰذا اس بات کے خاصے امکانات موجود ہیں کہ SARS-CoV-2 کا Omicron Variant ان ویکسینز سے پیدا ہونے والی مدافعت سے بچ نکلے۔ لہٰذا یا تو ہمیں ویکسینز کی خوراک میں اضافہ کرنا ہوگا یا پھر مکمل طور پر ایک نئی ویکسین کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

حیاتیات اور طب

جہاں حیاتیاتی اور طبی تحقیق COVID-19 کی وبا کی طرف مرکوز رہی و ہیں سائنس کی اس شاخ میں دیگر بیماریوں کے بارے میں عمدہ پیش رفت دیکھنے کو ملی۔ مثال کے طور پر جنوری اور اکتوبر 2021 میں با لتر تیب Multiple sclerosisاور ملیریا کی seniccaV متعارف کروا دی گئی ہیں ۔ فروری میں Science Advancesنامی ایک معروف سائنسی جریدے میں TBx5 نامی جین کی نشاندہی کی گئی جو کہ انسانی چہرے کے خدوخال بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح ایک تحقیق میں Zeb2 نامی جین کو انسانی دماغ کی ساخت اور نشونما کے لئے اہم قرار دیا گیا ۔ مئی 2021 میں Nature Genetics جریدے میںGenome wide association studies کے ذریعے انسانوں میں پائی جانے والی 260 ایسی تبدیلیوں کا پتہ چلایا گیا ہے جو کہ زندگی کے دورانیے کے لئے اہم ہیں ۔ 

انسانی مادّہ عمومی طور پر45 سال تک کی عمر تک Fertile رہ سکتی ہے ۔اگست میں کی جانے والی ایک تحقیق کے ذریعےان جینز کا پتہ لگایاگیاہے جو کہ تولیدی طور پرActive age کا تعین کرتے ہیں۔ لہٰذا جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے اب شاید یہ ممکن ہو سکے گا کہ اس عمر کو ضرورت کے تحت بڑھایا جا سکے۔ جینیاتی تبدیلیوں کو جانداروں میں کرنے کے کئی طریقے کار موجود ہیں۔ حاليہ ادوار میں CRISPR-CAS9 کے طریقہ کار نے اپنی افادیت واضح طور پر ثابت کی ہے ۔ رواں سال اس تیکنیک کو Muscular degeneration اور جگرمیں چکنائی کے علاج کے لئے استعمال کیا گیا۔ 

اس تیکنیک کو استعمال کرتے ہوئے جاپان میں ایسے ٹماٹر پیدا کئے گئے ہیں جو کہ GABA نامی ایک Neuro transmitter کے ذریعے انسانی نفسیات پر مفید اثرات مرتب کر تے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل autophagy پر کئی گئی تحقیق کا خاصہ چرچا ہوا تھا اور اس تحقیق کو کچھ لوگوں نے سیاق و سباق سے ہٹ کر اپنے خاص مقاصد کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا تھا۔ رواں سال ستمبر میں نیچر سائنسی جر یدے میں Drosophila melanogaster نامی ایک مکھی پر اس ضمن میں کی گئی تحقیقات کے نتائج شائع ہوئے۔ جن کے مطابق فا قوں کی وقفوں کے ساتھ ہو نے والی نو عیت ہی صحت پرمفید اثرات مر تب کر سکتی ہے لیکن ان فا قوں میں پانی کو لازمی استعمال کر نا چائیے ۔

یہ حقیقت تو اب تقریباً تمام قارئین سائنس جانتے ہی ہوں گے کہ جاندارو کی تمام ساختی اور افعالی معلومات ان کے جینیاتی مادّے DNA میں موجود ہوتی ہے۔اس میں اپنی نقل تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے ۔ اس کام کے لئے وہ ایک پروٹین DNA Polymerase کو کام میں لاتا ہے ،اس کے علاوہ DNA جانداروں کی ساخت اور افعال کا تعین کرنے کے لئے RNA Polymerase نامی خامرے سے RNA تشکیل دیتا ہے۔ چند وائرسز میں RNA سے DNA بھی بنتا ہے۔ اس عمل میں ایک خامرہ Reverse Transcriptase بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ جون 2021ء میں Science Advances نامی ایک سائنسی جریدے میں ایک ایسے DNA Polymerase کی نشاندہی ہوئی جو کہ RNA کو Reverse Transcriptase کی طرح DNA میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اسے ’’پول تھیٹا‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ 

یہ دریافت اس لحاظ سے انتہائی اہم ہے کہ اس سے پہلے DNA Polymerase کے لئے صرف DNA سے DNA بنانے کےکام کی ہی جان کاری تھی۔ یہ پہلی مرتبہ معلوم ہوا ہے کہ کوئی RNA DNA Polymerase سے بھی DNA بنا سکتا ہے۔جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں ذکر کیا گیا ہے کہ DNA جانداروں کی ساخت اور افعال کا تعین کرنے کے لئے پہلے RNA بناتا ہے۔ یہ RNA بعدازاں Translation نامی عمل سے گزر کر پروٹین بناتا ہے۔ انسانی جسم میں اس کا جینیاتی مادّہ تقریباً 21000 مختلف قسم کی پروٹینز بناتا ہے۔ یہ تمام پروٹین ساختی اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں جن سے ان کے کام کا تعین ہوتا ہے۔

لہٰذا کسی بھی پروٹین کے کام کو سمجھنے کے لئے ان کی ساخت کے بارے میں جاننا انتہائی اہم ہے۔ اس مقصد کے لئے کئی طرح کی تکنیک استعمال کی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر Cryo electron microscopy، Nucleic magnetic resonance یا X-ray crystallography انہی طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے اب تک مختلف جانداروں اور وائرسز کی تقریباً 150000 پروٹینز کی ساخت معلوم کر لی گئی ہیں۔ ان ساختوں سے حاصل ہونے والی معلومات کو استعمال کرتے ہوئے گزشتہ تین دہائیوں میں ایسے کمپیوٹر پروگرام بنائے گئے ہیں جو کہ بغیر کسی تکنیکی دقّت کے پروٹین کی ساخت کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔

دُنیا بھر کے سائنسدان ان پروگرامز کو اپنی تحقیق کے دوران مسلسل استعمال کرتے ہیں۔ رواں سال جولائی میں برطانوی مصنوعی ذہانت کے ادارے Deep Mind نے مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لاتے ہوئے Alpha Fold نامی کمپیوٹر پروگرام بنایا ہے، جس کے ذریعے اب تک کئی لاکھ پروٹین کی ساخت کی پیش گوئی انتہائی دُرستی کے ساتھ کی گئی ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے اب کوئی بھی سائنسدان اپنی تحقیقاتی دلچسپی گھر بیٹھے ایک اچھے کمپیوٹر میں معلوم کرسکتا ہے۔ 

البتہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان کی ساخت معلوم کرنے کے بعد تجزیہ اتنا ہی صبر آزما اور کٹھن ہوتا ہے جتنا کہ کسی بڑی تکنیک سے حاصل ہونے والی پروٹین کی ساخت کا تجزیہ۔حالیہ اندازوں کے مطابق اس وقت کرۂ ارض پر تقریباً 87 لاکھ قسم کے جاندار موجود ہیں۔ ہر سال کی طرح 2021ء میں بھی کئی نئی قسم کے جاندار دریافت ہوئے ہیں۔ 

جن میں چند ایک ساختی اور افعالی اعتبار سے پہلے سے دریافت شدہ جانداروں کے مقابلے میں خاصے منفرد ہیں۔ مثال کے طور پر مارچ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ا یک خلوی جانوروں میں ایک ایسے بیکٹیریا Azoamicus Ciliaticola کی دریافت ہوئی ہے جو آکسیجن کی بجائے NO3 سے اپنی توانائی حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح جولائی میں گائے کے معدے میں سے تین ایسے بیکٹیریا دریافت ہوئے جو کہ پلاسٹک کو تحلیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایک اور تحقیق کے مطابق زمین پر موجود سب سے پرانے رکاز جو کہ دراصل بیکٹیریا میں ہی دریافت ہوئے۔ ایک تخمینے کے مطابق یہ رکاز تقریباً 3.4 اَرب سال پُرانے ہیں۔

2021ء میں ہونے والی ان دریافتوں اور تحقیقات کے نتائج کو منطقی اس لئے نہیں کہا جا سکتا کہ ہر نئے سال مزید تجربات کچھ پرانے نتائج کو تجربات کی کمزوری کے باعث یکسر غلط ثابت کر دیتے ہیں یا اکثر ان میں مزید جہتوں کو متعارف کرتے ہیں۔ اسی عمل کے باعث سائنس مسلسل ترقّی کی طرف گامزن ایک لامتناہی سفر کا نام ہے۔ اسی میں سائنس کی خوبصورتی ہے اور شاید اسی کے باعث سائنسدان لاکھ ناکامیوں کے باوجود، اَن گنت اعصاب شکن آزمائشوں کا سامنا کرتے ہوئے علم کے اس سمندر سے باہر نکلنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ 

پھر انہی امتحانات کا سامنا کرتے ہوئے ہزاروں میں سے کچھ ایسےسائنسدان اُبھرتے ہیں جنہیں دُنیا آئزک نیوٹن، چارلس ڈارون، البرٹ آئن اسٹائن، مادام کیوری، نکلوس ٹیسلا، الرازی، جابر بن حیّان، ابن الہیشم اور عبدالسلام کے نام سے جانتی ہے۔ یہی چند لوگ پھر اپنی پوری قوم کو علم اور ٹیکنالوجی کی معراج پر پہنچا دیتے ہیں۔

2021 ء : سائنس کے میدان میں دئیے جانے والے نوبل انعامات

 * enicideM rO ygoloisyhP کا نوبل انعام امریکہ سے تعلق رکھنے والے David Julius اور Ardem patapotian کو دیا گیا ہے ۔ ان سائنس دانوں کی تحقیق کا موضوع اعصابی نظام کے درج حرارت اورلمس کو محسوس کرنے کی صلاحیت سے ہے ۔ * کیمیا کا نوبل انعام امریکہ کے David Macmillan اور جرمنی کے Benjamin list کی نامیتائی خامروں کی بناوٹ اور تخلیق کو دیا گیا ۔ * طبیعیات کا نوبل انعام جرمنی کے Klaus Hassleman جاپان کے Sykuro Manabe اور اٹلی کےGiorgo Parisi کےنا م رہا۔ جن کی تحقیق ماحول میں ہونے والی طبعی تبدیلیوں کی میکانیت سے ہے ۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید