• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سال 2021کے دوران روشنیوں کے شہر کراچی میں ڈاکوؤں، چوروں، اسٹریٹ کریمنلزکا جادو نہ صرف سر چڑھ کر بولا ، بلکہ قانون کی رِٹ کے لیےپُورا سال چیلنج ہی بنا رہا۔ شہر بھر میں تواتر سے رونما ہو نے والی ریکارڈ توڑ وارداتوں نے پولیس حکام کے امن و امان اور ’’سب اچھا ہے‘‘ کے راگ الاپنے کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے ۔ روزو شب ہر جانب ڈاکو راج ہی دیکھنے میں آیا، جس نے عوام کوخوف و ہراس میں میں جکڑے رکھا، جب کہ سیف سٹی پروجیکٹ کے حوالے سے صرف اجلاسوں کے علاوہ کوئی بھی قابل ذکر اور عملی اقدام بھی نطر نہیں آیا۔ 

سال 2021 کے دوران شہر بھر میں رونما ہو نے جرائم کی سنگین وارداتوں نے گزشتہ برسوں کے ریکارڈ بھی توڑدیے ۔ رواں برس بے روزگاری سے تنگ اور دیگر وجوہ پرخود کشیاں، گینگ ریپ، اغواء برائے تاوان،بھتہ خوری،ڈ کیتی کے دوران مزاحمت،ذاتی دشمنی اور غیرت کے نام پر قتل کی دِل خراش وارداتیں بھی نمایاں رہیں ۔ اسٹریٹ کرمنلزکی دیدہ دلیری کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا ہدف صرف شہری ہی نہیں، بلکہ متعدد پولیس اہل کاربھی ان کا نشانہ بنے ہیں۔

سال 2021کے دوران کے دوران ایک محتاط اندازے کے مطابق مجموعی طور پر شہر بھر میں اسٹریٹ کرائمز سمیت لوٹ مار کی55ہزار سےزائد وارداتیں رپورٹ ہوئیں ۔ سال 2020 میں اسٹریٹ کرائمز کی شرح 166 فی صد تھی ، جب کہ سال 2021میں یہ شرح بڑھ کر 214 فی صد سے بھی تجاوزکر گئی، جو المیہ اور پولیس افسران کےدعوؤں کی قلعی کھولنے کے لیے کا فی ہے ۔ سال 2021 میں یکم جنوری سے 16دسمبر تک مجموعی طور پر1506سے زائد کاریں اسلحے کی نوک پرچھینی اور چوری کر لی گئیں ، جب کہ 30229 سے زائد موٹرسائیکلیں چھینی اور چوری ہوئیں، جب کہ15600سے زائد شہریوں کواسلحے کے زور پر موبائل فونز سے محروم کر دیا گیا، اعداد شمار کے مطابق مجموعی طور پر شہری31735سے زائد کاروں اور موٹر سائیکلوں ہاتھ دھو بیٹھے، اگر سال 2020 اور سال 2021 میں ہونے والی واردتوں کاموازنہ کیا جائے تو سال2021 گزشتہ برسو ں مقابلے میں سبقت لے گیا۔ 

سال2020 کی نسبت موٹر سائیکل چھیننے اورچوری، جب کہ موبائل فون چھیننے کی واردا توں میں بھی اضافہ دیکھنےمیں آیا۔ دوسری جانب سال 2021کے دوران ڈکیتی مزاحمت ، مبینہ جعلی پولیس مقابلوں ،ذاتی دشمنی، شوہر بیوی کے ذاتی تنازعات اور دیگر واقعات میں 438سے زائد شہری قتل کر دیے گئے۔ اس دوران اقدام قتل کی 558ارداتیں ہوئیں،جب کہ ڈکیتی مزاحمت اور دیگر واقعات میں فائرنگ سے 900سے زائد شہری زخمی بھی ہوئے۔ سال 2021 کے دوران بچوں کے اغواءکی415 ، بھتہ خوری کی25، اغواء برائے تاوان کی40رداتیں ہوئیں۔

اس دوران اجتمائی زیادتی کے61سے زائد واقعات ۔2 بینک ڈکیتی2، پیٹرول پمپ ڈکیتی اور 16060متفرق وارداتیں رپورٹ ہوئیں ۔ جب کہ سال 2021کے یوں تو آتشزدگی کے واقعات بھی تواتر سے ہوئے، جن میں صدر کوآپریٹو مارکیٹ ،صدر مدینہ مارکیٹ شیر شاہ اور دیگر علاقے نمایا ں تھے ۔ شہر میں عمارتیں گرنے کی واقعات میں میں بھی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اور سال کے آخری ماہ دسمبر میں شیرشاہ پراچہ چوک کے قریب نالے پربنائی گئی عمارت میں قائم نجی بینک میں خوف ناک دھماکے کےنتیجے میں بینک ملازمین سمیت 18قیمتی جانیں چلی گئیں، جب کہ 13سے زائد افراد زخمی ہو گئے ۔

ہم یہاں سا ل بھر میں رونما ہو نے والی چند اہم،دل خراش اور الم ناک وارداتیں ہی قارئین کی نذر کر رہے ہیں ۔اس خونی سال کے دوران کراچی پولیس اپنی کارکردگی دکھانےکے لیے مبینہ اور جعلی مقابلوں میں معصوم اور بے گناہ شہریوں کو قتل اور زخمی کرنے میں کچھ زیادہ ہی محترک نظرآئی ۔ ماہ دسمبرکے آغاز میں ہی اورنگی ٹاون میں جعلی پولیس مقابلے میں پولیس اہل کار توحید اور ساتھی اہل کار عمیر نے فائرنگ کر کے بے گناہ نوجوان طالب علم ارسلان محسود کو قتل اور اس کے دوست یاسر کو زخمی کرنے کی واردات نے پولیس کی اعلی کارکردگی پرسوالیہ نشان لگادیا ۔ دل دہلانے والی قتل کی سنگین واردات سے شہریوں کے غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ۔ 

پولیس نے جعلی مقابلے میں نوجوان کو اس کی نئی موٹر سائیکل چھننے کی کوشش میں فائرنگ کر کے قتل کردیا اور اس واقعہ کو پولیس مقابلے کا رنگ دینے کی ناکام کوشش کرتے ہو ئے مقتول کے قبضے سے پستول برآمد کرنے کا جھوٹا دعویٰ کردیا، لیکن ارسلان زخمی دوست یاسر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آتے ہی واردات کا بھانڈا پھوٹ گیا، نوجوان یاسر نے کہا کہ ہم نئی 125 موٹرسائیکل پر کوچنگ سے واپس آرہے تھے اور موٹر سائیکل کی رفتار بھی کم تھی، اسی دوران سادہ لباس مسلح موٹرسائیکل سواروں نے ہمارا راستہ روک کر ہم پرفائرنگ کی، :پہلی گولی مجھے لگی، اور میں گرگیا،پھر دوسری گولی چلی جوکسی کو نہیں لگی جس کے بعد تیسری گولی ارسلان کو لگی اور وہ زمین پر گر گیا۔

ابھی اورنگی ٹاون میں جعلی پولیس مقابلے میں نوجوجوان طالب علم ارسلان محسود کو ڈاکوظاہر کر کے قتل کئے جانے پر ورثا اور شہریوں کے غم و غصے میں کمی تک نہیں آئی تھی کہ کورنگی صنعتی ایرایا تھانے کی حدود کورنگی مہران ٹاؤن میں اسٹریٹ کرائم اسکواڈ جو تاحال نہ توکسی مجرم کو گرفتار کر سکی ہے اور نہ ہی اسٹریٹ کرائمز پر قابو پایا ۔ البتہ اس کے اہل کاروں نے جعلی پولیس مقابلے میں بے گناہ 2 معصوم بچوں کے والد اور نجی الیکٹرونکس کمپنی کےملازم 28سالہ واصف ولد ریاض کی جان لے لی اور اسے بھی روایتی طور پر مبینہ پو لیس مقابلہ ظاہر کیا ،جب مقتول کے اہل خانہ کو اطلاع ملی تو علاقہ مکین اور اہل خانہ نے تھانے کا گھیرائو کر کے شدید احتجاج کیا، بعد ازاں افسران کی تحقیقات میں یہ مبینہ پولیس مقابلہ بھی پہلے کی طرح جھوٹا اور جعلی ثابت ہوا،جس کے بعد قتل میں ملوث 3 اہل کاروں کو گرفتار کر لیا گیا ، پولیس نے ایک مبینہ اور جعلی مقابلے کے دوران فائرنگ کر کے نوجوان کی جان لینے کے بعد بے گناہ نوجوان کوڈاکو ظاہر کر کے ہلاکت کا دعویٰ کردیا ۔ 

بعد ازاں لواحقین اور علاقہ مکینوں نےتھانے کا گھیرائو کر کے شدید احتجاج کے بعد افسران کی تحقیقات میں مبینہ مقابلہ جھوٹا اور جعلی ثابت ہوا،جس کے بعد قتل میں ملوث3 اہل کاروں کو گرفتار کرکے مقتول کے بھائی کاشف کی مدعیت میں زیر دفعہ302 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا، جب کہ ایس ایس پی کورنگی کی ہدایت پر ایس ایچ او عنایت اللہ مروت کو معطل کر کے قتل میں شامل تفتیش بھی کرلیا گیا، اس کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی بھی جارہی ہے ۔ 

پوسٹ مارٹم رپورٹ کےمطابق مقتول کو انتہائی قریب سے ایک گولی ماری گئی جو سینے سے نکلی اور وجہ قتل بنی ۔ بعد ازاں ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن کورنگی مہران ٹاؤن میں جعلی پولیس مقابلے میں جاں بحق ہونے والے نوجوان واصف کے گھر گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے پولیس کا مورال ڈاؤن ہوا ہے ۔ ورثا نے مطالبہ کیا کہ سابق ایس ایچ اوعنایت اللہ مروت کو صرف معطل نہیں نوکری سے بر طرف کیا جائے۔ 

 ہمارے بھائی کو نہ صرف قتل کیا گیا، بلکہ لاش کو کسی مجرم کی طرح گھسیٹ کر پولیس موبائل میں ڈ الا گیا۔ پولیس نے ہم سے بہت بُرا سلوک کیا ، اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی کراچی نے متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ آپ جن افسران کو چا ہتے ہیں، بتائیں، اسے تفتیش کے لیے مقرر کریں گے، انہوں نے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں گی۔

ڈکیتی مزاحمت اور ذاتی دشمنی اور پولیس مقابلوں میں پولیس اہل کار اور دیگر واقعات میں قتل کے واقعات، میمن گوٹھ تھانے کی حدود میں واقع فارم ہاوس میں غیر ملکیوں کی جانب سے غیر قانونی طور پر شکار کرنے سے منع کر نے اور ویڈیو بنانے کی پاداش میں ناظم جوکھیو نامی نوجوان کے قتل کی دِل خراش واردات نے خوف و ہراس کی لہر دوڑادی۔ پولیس نےایم پی اے جام اویس، میر علی ، عبدالرزاق ، جمال واحد اور معراج اور حیدر اور دیگر کوقتل کے الزام گرفتار کر کے عدالت میں پیش کردیا۔ 

پولیس نے اہل خانہ کے شدید احتجاج اور مطالبے پر مقتول ناظم جھوکیو کے اہل خانہ نے کے بیان پر ملزم ایم پی اے جام اویس کے بھائی اور ایم این اے جام عبدالکریم سمیت دیگر ملزمان کو بھی مقدمے میں نامزد کرلیا، مقتول کے ورثاکا کہنا تھا کہ ناظم جوکھوکا قصور یہ تھا کہ اس نے ملزم ایم پی اے جام اویس کے میمن گوٹھ کے فارم ہاوس میں غیر ملکیوں کو غیر قانونی شکار کرنے سے منع کیا، وہ نہ مانے تومقتول نے ویڈیو بنالی، جس پر اسے اغواء کر کرکے بہیمانہ تشدد کر کے قتل کر دیا۔

صدر کی رہائشی عمارت میں واقع فلیٹ میں آئس کے نشے کی عادی سفاک بیوی رباب کے ہاتھوں 70سالہ ڈاکٹر شوہر اپنے ڈاکٹر شوہر شیخ محمد سہیل ولد شیخ محمد لطیف کو بےدردی سے قتل کر کے لاش کے ٹکرے ٹکرے کیے جانے کی واردات نے شہریوں کے خوف میں مزید اضافہ کر دیا۔ قتل کی لرزہ خیز اور سفاکانہ واردات میں نشے کی عادی بیوی رباب نے 70سالہ قتل کرنے کے بعد جسم کے اعضا الگ الگ کردیےاور نشے کی حالت میں ہی آرام سو گئی۔ گلستان جوہر تھانے کی حدود بلاک 8 میں واقع مکان میں جھگڑے کے دورا ن بہنوئی نے فائرنگ کر کے 35 برس کےسا لے اسلم ولد پرویز سالے کو قتل کردیا۔ پولیس نے ملز م فرحان کو گرفتار کر کے آلہ قتل بھی برآ مد کرلیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول دوسری شادی کرنا چاہتا تھا۔ 

مبینہ ٹاؤن تھانے کی حدود قائد اعظم کالونی بلاک ون میں ماموں اور بھائی نے بہن کے آشنا نے تیز دھار آلے ( بغدا ) کے وار کر کے23 سالہ نوجوان ماجد حسین ولد شفیع کو قتل او ر بہن گل ناز کو شدید زخمی کر دیا۔ پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرکے تیز دھار آلہ قتل بھی برآمد کرلیا۔ جمشید کوارٹرز تھانے کی حدود پٹیل پاڑہ سنہری مسجد کے قریب ذاتی رنجش پر مسلح شوہربخت بیاں اوراس کے بھائی یوسف نے گھر میں گھس کر فائرنگ کر کے 50 سالہ اہلیہ زیب النساء زوجہ بخت بیاں اور اس کے بھائی 35سالہ محمد ہارون ولدظاہر شاہ کو قتل اور دوسرے بھائی30سالہ انور کو شدید زخمی کر دیا اور فرار ہوگئے ۔ 

پولیس کا کہنا ہے کہ واردات میں مقتولہ کا شوہر بخت بیاں اور اس کا بھائی یوسف رحمان ملوث ہے، مقتولہ نےڈیڑھ سال ملزم قبل بخت بیاں نے دوسری شادی کی تھی، جس پر اس کی پہلی بیوی زیب النساء نے عدالت سے اپنے بچوں کی کسٹڈی حاصل کر لی تھی اور وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ رہائش پذیر تھی، مقتولہ اور ملزمان کا آبائی تعلق مانسہرہ کالا ڈھاکہ سے ہے، ملزم بخت بیاں چند روز قبل کراچی آکر رشتے داروں کے ہاں مقیم تھا ، ملزم میں گھس کر ان پر حملہ کیا اور فرار ہوگئے ،پولیس کو جائے وقوع سے 4 گولیوں کے خول اور ایک نائن ایم ایم پستول ملا ہے۔ 

 گلستان جوہر میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے سندھ بار کونسل کے آفس سیکرٹری عرفان علی مہر کے قتل میں ملوث میں ملزمان مقتول کا برادر نسبتی اکبر مہر اور ہم زلف رحیم بخش مہر کو گڑھی یاسین سے گرفتارکرلیا گیا،اب تک مذکورہ قتل میں شامل 6 ملزمان کوسی ٹی ڈی او رپولیس نے کراچی ، شکارپور ، گڑھی یاسین اور لاڑکانہ سے گرفتارکیا، گرفتارملزمان نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول نے مبینہ طور پر پہلی بیوی کو بتائے بغیر دوسری شادی کر رکھی تھی، جس کا ملزمان کو رنج تھا، گرفتار ملزم کا کہنا ہے کہ بہن پر مقتول تشدد کرتا تھا، مقتول کے سالے پر تقریبا40 کا قرضہ بھی تھا، ملزم سالے کو قتل کرنے پر مقتول بہنوئی کی جائیداد سے حصہ ملنا تھا، قتل میں ملوث دونوں ملز مان قتل کرنے کے بعد اندرون سندھ فرار ہوگئے تھے،ان کی گرفتاری کے لیے اندرون سندھ میں چھاپے مارے کئے تو ملزمان کراچی بھاگ آئے، مقتول کے سالے ملزم اکبر نے بہنوئی پر فائرنگ کی، گرفتار ملزم واجد جاکھرو موٹرسائیکل چلارہا تھا،جبکہ قتل میں مقتول کی اہلیہ صاحب زادی ،سالی شبانہ عرف کراڑی عرف چھوٹی اور شبانہ کا شوہررحیم بخش بھی ملوث ہے۔ 

مقتول کی بیوی نے ملزم بھائی کو اسلحہ اورموٹرسائیکل کے لیے 2 لاکھ 20 ہزار روپے بھی دیئے تھے، گھریلوناچاقی ہی قتل کی وجہ بنی،مقتول کی اہلیہ شوہر سے تنگ تھی ، قتل کی واردات سے قبل ملزم سالے نے مقتول بہونی کی ریکی بھی کی تھی،قتل والے روز مقتول کی اہلیہ نے ملزم بھائی کو فون کرکے اپنے مقتول شوہر عرفان کے گھر سے نکلنے کی اطلاع دی، ملزم غلام اکبر نے اپنے دوست واجد جاکھروکو قتل میں شامل کرنےکے لیے 40 ہزار روپے بھی دیئے تھے۔ بلال کالونی تھانے کی حدود نیوکراچی سیکٹر فائیو جے میں پڑوسی ملزم غضنفر نے تلخ کلامی کے بعد چھری کے پے در پے وارکرکے نوجوان لڑکی 25 سالہ صباء دختر اسلم کو قتل کردیا اور فرار ہو گیا ۔ 

مقتولہ لڑکی نے گلشن معمارتھانے میں ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرارکھاتھا ، جس کی پیروی کے لیے مقتولہ گھر سے سٹی کورٹ جانے کے لیے نکلی تھی ، گھر سے چند قدم کے فاصلے پر ہی موجود ملزم غضنفر نے مقتولہ صبا کو آتے دیکھ کر اس پر چُھری سے حملہ کردیا اور موقع سے فرار ہو گیا، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ نے پہلے بھی مقتولہ لڑکی اور اس کے بھائی اور مفرورملزم کے درمیان گلی میں کچرا پھینکنے اور گٹر کی صفائی کے معاملے پرتلخ کلامی اور جھگڑا بھی ہوا تھا ۔ جب کہ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم غضنفر نشے کا عادی اور ایک جنونی شخص ہے۔ 

پولیس نے ملزم کے دو بھائیوں احسن اوردانش کو حراست میں لیا ہے ۔ تاہم مقتولہ کے ورثا کی جانب سے مقدمہ درج نہ کرانے کے پر پولیس نے ملزم کے خلاف سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔ سرجانی ٹاون سیکٹر ایل ون میں شوہر ملزم ذوالفقا نے غیرت کے نام پراپنی بیوی26 سالہ لاریب کا گلہ دَبا کر قتل کردیا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ وا قعہ کی اطلاع بھی مقتولہ کے شوہر نے پولیس کو دی اور کہا اس کے گھر ڈاکو آگئے تھے، جنھوں نے میری بیوی کو قتل کیا ہے۔ مقتولہ نے ذوالفقار سے دوسری شادی کی تھی ،اس کے شوہر کو پتہ چلا کہ اس نے اپنے پہلے شوہر سے پھر روابط بحال کر لیے ہیں، جس پر ملزم نے اپنی بیوی کو قتل کردیا۔

سچل تھانے کی حدو سپر ہائی وے پنجاب بس اڈے، پیڑول پمپ کے قریب مسلح موٹر سائیکل سوار ڈاکووں نے مو بائل فون چھیننے کے دوران فائرنگ کر کے آن لائن بائکیا رائیڈر 32 سالہ محمد عمران ولد جان محمد کو قتل کردیا اور موبائل فون چھین کر فرار ہو گئے ، مقتول ڈیرہ غازی خان سے روز گار کے لیے کراچی آکرآن لائن بائکیاچلاتھا، وقوعہ کے روزبھی وہ سواری کا انتظار کر رہا تھا کہ مسلح ملزما ن نےبغیر کسی مزاحمت سر پر گولی ماردی، جو جان لیواثابت ہوئی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا، ڈاکو اس کاموبائل لےکر بآسانی فرار بھی ہوگئے ،اس دِل خراش واقعہ کی ویڈیو بھی منظرعام آچکی ہے ۔

لانڈھی منزل پمپ کے قریب واقع سپر مارٹ میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے کمسن 4 سالہ بچی حرمین دخترممتازجاں بحق ہو گئی۔ ادھر گلستان جوہر پرفیوم چوک کے قریب مسلح ملزمان نے ڈکیتی کے دوران مزاحمت کرنے پر کوفائرنگ کرکے ڈی ایس پی کو زخمی کردیا گیا ، جب کہ مسلح ملزمان نقدی اور بیوی کے طلائی زیورات اترو انے کے بعد لے کر فرار ہو گئے ، واردات شارع فیصل تھانے تھانے کی حدود گلستان جوہر بلاک 18 پرفیوم چوک کے قریب روفی گرین سٹی کی پارکنگ میں نامعلوم مسلح ملزمان نے ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کر کے کار سوار سیکیورٹی زون ٹو میں تعینات ڈی ایس پی 50 سالہ غلام مرتضیٰ کو زخمی کر دیا اور ان کی اہلیہ سے نقدی اورطلائی زیورات چھین کر فرار ہو گئے ۔

ابراہیم حیدری میں پولیس مقابلے میں ملزمان کی فائرنگ سے پولیس اہل کار صلاح الدین جاں بحق ہوگیا، اہل کار کاٹھور کھوسہ گوٹھ کا رہا ئشی تھا۔اتحاد ٹاون تھانے کی حدود بلدیہ ٹاؤن A25 بس اسٹاپ کے قریب جھگڑے کے دو ران فائرنگ سے 60 سالہ اللہ داد ولد جمعہ خان جاں بحق ہوا۔

بفرزون کائنات ٹاور کے سامنے موٹر سوار ملزمان نے رکشے پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں 30 سالہ ابراہیم ولد ابراہیم ولد شہاب الدین جاں بحق ہوگیا۔ مقتول ابراہیم اپنے رکشے میں مرمت کا کام کررہا تھا کہ اس دوران مسلح موٹر سائیکل سوار ملزمان اس پر فائرنگ کر کے فرار ہو گئے ،مقتول شفیق موڑ کا رہائشی اورآبائی تعلق باجوڑ خیبر خونخواہ سے تھا ۔ عید گاہ تھانے کی حدود نشتر روڈ کے ایم سی ورکشاپ کے قریب موٹر سائیکل سوار مسلح ملزمان نے کار پر فائرنگ کر کے کار سوار خشک دودھ کےتاجر 42 سالہ محمد اصغر و لدمحمد منصور اور 41 سالہ ذاکر ولد سراج شدید کو زخمی اور اور فرار ہوگئے، جنہیں سول اسپتال منتقل کیا گیا۔ 

سچل تھانے کی حدود جوہر کمپلیکس کے قریب ڈکیتی کے دوران مزاحمت کر نے پر ملزمان کی فائرنگ سے 55 سالہ شاہنواز ولد فیض محمد زخمی ہوگیا ۔ کورنگی تھانے تھانے کی حدود کورنگی نمبر ڈیڑھ میں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے چاول کی کمپنی کا ڈرائیو 42 سالہ ندیم ولد نثارزخمی ہو گیا ۔ ملیر سٹی تھانے کی حدود ملیر کھوکرا پار گھونگا گوٹھ میں جھگڑے کے دوران فائرنگ سے 2سگے بھائی 32سالہ غلام علی اور 38 سالہ محمد علی ولد عمید علی زخمی ہوگئے ۔

گڈاپ سٹی تھانے کی حدود سپر ہائی وے کاٹھور کے قریب 2 خاندانوں میں جھگڑے کے دوران ڈنڈوں کے وار سے بیٹا 25سالہ سیما عرف چھنو ولد بھاگو ہلاک ہو گیا، جب کہ اس کا والد54 سالہ بھاگو اور 17سالہ بھائی جیون ولد بھا گوزخمی ہو گئے۔ سپر ہائی وے پر واقع شہر کی سب سے بڑی اور پرآسائش سوسائٹی میں سخت سیکیورٹی کے باوجود مسلح ڈاکوؤں نے بیکری کو لوٹ لیا ،ڈاکوؤں نے آن لائن ڈلیوری بوائے کو اسلحے کے زور پرزمین پر بیٹھا دیا، واقعہ کی فوٹیج بھی منطر عام پر آگئے ،فوٹیج میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ ، ملزمان نے اسلحہ کے زور پر بیکری سے لاکھوں روپے نقد رقم،موبائل فون لوٹے اور فرار ہوگئے ، واردات کے بعد سوسائٹی کے مکینوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی سخت سیکیورٹی کےباوجود ڈاکوؤں کس طرح سوسائٹی میں داخل ہو ئے اور واردات کے بعد فرار ہو گئے۔

سپر ہائی وے پر واقع دُعا ہوٹل پر مسلح ڈاکوؤں نے دھاوا بول کر ہوٹل کے منیجر اورکھانا کھانے کے لیے آنے والی فیملیز سے لاکھوں روپے لوٹ لیے۔ ہوٹل کے مالک کا کہنا ہے کہ پولیس بروقت اطلاع کے باوحود جائے وقوعہ پر نہیں پہنچی ، جب کہ پو لیس کا کہنا ہے کہ ہوٹل پر ڈاکوں واردات کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں ملی، ہو ٹل کے عملےنے چھپ کر دور سے ملزمان کی وڈیو بنا لی ۔

گلشن اقبال بلاک3 میں ڈاکوؤں نے لوٹ مار کے دوران مزاحمت پر فائرگ کرکے 28 سالہ سلیمان ولد فقیر بیگ کو زخمی کردیا ۔ پاک کالونی تھانے کی حدود شیرشاہ پنکھا ہوٹل کے قریب ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 25سالہ محمد علی و لد عبدالصمدزخمی ہوگیا۔ ناظم آباد میں میٹرک بورڈ آفس کے قریب نامعلوم ملزمان نے لوٹ مار کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کرکے 35سالہ افسرزمان ولد زمان کو زخمی کردیا ۔ فیروز آباد تھانے کی حدودپی سی سی ایچ ایس بلاک 3 میں چائے پتی کے کمپنی کے ثقلین نامی مالک کے بنگلےکےگیٹ پر شلوار قمیض میں ملبوس 2 نامعلوم ملزمان اچانک چوکیدار کومعروف کورئیر کمپنی کے لفافے میں ایک کروڑ روپے بھتے کی پرچی اور 2گولیاں دے کر فرارہو گئے ۔ دھمکی آمیز خط میں بھتہ نہ دینے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ پولیس نے ثقلین کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا۔ مدعی کے مطابق ملزمان کے پاس اس کی کراچی اور اسلام آباد کی مکمل تفصیلات تھیں۔ ان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر کسی کو بتایا تو ہم کلئیر ہوجائیں گے، نتیجہ تمھیں بھگتنا پڑے گا۔

عزیز آباد تھانے کی حدود حسین آباد میں ملزم شوہر مشتاق نے فائرنگ کر کے اپنی بیوی 50 سالہ سبینا زوجہ مشتاق کو جھگڑے کے بعد اپنے لائسنس یافتہ پستول سے قتل کر دیا ۔ ملزم پہلے اپنا کاروبار کرتا تھا، لیکن2سال سے کاروبار ختم ہو گیا تھا اور وہ مالی طور پر پریشان تھا ،جس کے باعث اکثر میاں بیوی میں جھگڑا رہتا تھا۔ مقتولہ چار بچوں کی ماں تھی۔ ملیر کینٹ تھانے کی حدود زکریا گوٹھ میں واقع اسٹیشنری اور موبائل ایزی لوڈ کی دُکان میں 2مسلح ملزمان ڈکیتی کےلیےداخل ہوئے تو دُکان میں موجود 2 سگے بھائیوں نے مزاحمت کی جس پر ملزمان نے فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں 45 سالہ نعیم ولد عاشق حسین جاںبحق اور 40 سالہ اللہ دتہ ولد عاشق حسین زخمی ہوگیا۔ 

سرجانی ٹاون سرجانی سیکٹر 4 بی نور گارڈن کے قریب مسلح ملزمان کی پلاٹ کے تنازع پر فائرنگ سے 35 سالہ جہانزیب زیدی ولد سید شبیر الحسن زیدی جاں بحق اور اس کے والد62 سالہ سید شبیر الحسن زیدی زخمی ہوگیا، مقتول کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کے پلاٹ پر لینڈ مافیا نے قبضہ کیا ہوا ہے اور کچھ عرصہ قبل بھی اس پلاٹ کے حوالے سے ان کا جھگڑا ہوا تھا۔ واقعہ کے وقت وہ سرجانی ٹاون میں اپنا پلاٹ د یکھنے آئے تھے۔ سائٹ سپر ہائی وے صنعتی ایریا تھانے کی حددو شہباز گوٹھ میں نامعلوم ملزمان نے اینٹوں کے تھلے کے چوکیدار 38 سالہ سکندر ولد اکبر کو فائرنگ کرکے زخمی کر دی ااور فرارہوگئے۔ ملیر کینٹ تھانے کی حدود زکریا گوٹھ بلاک ایچ کے رہائشی علی حسن نے اپنی بیوی 18 سالہ کائنات کو چھریوں کے وار کرکے قتل کردیا۔ 

مقتولہ نے ایک سال قبل گھر والوں کی مرضی کے خلاف پڑوسی علی حسن سے پسند کی شادی کی تھی، ملزم کا والد ریٹائرد ملازم ہے ۔ سرجانی ٹاون میں فائرنگ سے سابق اے ایس آئی جاں بحق، جب کہ اس کی بیوی اور بیٹا زخمی ہوئے۔ منگھوپیر میں مسلح ملزمان کی فائرنگ سے زخمی ہو کرگرنےوالا شخص تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر سے جاں بحق ہوگیا۔ سرجانی ٹاؤن تھانے کی حددود سرجانی سیکٹرٹی10 بس اسٹاپ کے قریب مسلح ملزمان نے گھر میں گھس کر فائرنگ کر کے ریٹائرڈ پولیس افسر 65 سالہ اے ایس آئی عبدالستار ولد عبدالوحید کو قتل کردیا ، ملزمان کو فرار ہو تے ہوئے اس کے بیٹے نے پکڑنے کی کوشش کی، جس پر ملزمان نے فائرنگ کرکے اس کے بیٹے 30 سالہ عبدالرزاق کو بھی زخمی کر دیا، جب کہ ملزمان کے تشدد سے مقتولہ کی بیوی میمونہ بھی زخمی ہوگئی، ابتدائی طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ واقعہ ڈکیتی کا شاخسانہ ہے۔ 

تاہم مقتول کے بیٹے کے ابتدائی بیان سے معلوم ہوا ہے کہ ان کی دشمنی چل رہی تھی،منگھوپیر تھانے کی حدود منگھو پیر چنگی ہوٹل کے قریب نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے 37 سالہ علی اکبر ولد اسماعیل شدید زخمی ہوگیا، اسی دوران پیچھے سے آنے والے تیز رفتار ڈمپر نے اسے کچل دیا، جس کے باعث وہ موقع پر جاں بحق ہوگیا ۔ 

پولیس کے مطابق علی اکبر منگھوپیر میں ماربل کا ٹھیکےدار اور ونگی گوٹھ کا ر ہائشی تھا، مقتول کو3 گولیاں لگی ہیں، مقتول 6 بچوں کا باپ تھا۔ کورنگی کراسنگ پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے نوجوان عذیر کی موت کی خبر سن کر اس کا بچپن کا دوست حمزہ صدمے سے جاں بحق ہوگیا، وہ مقتول عذیر کی تدفین سے واپس آنے کے بعد حرکت قلب بند ہونے سے جاں بحق ہو گیا، متوفی حمزہ چند سال قبل ہی پاکستان آرمی میں شامل ہوا تھا، وہ عذیر کا بچپن کا دوست تھا اور عذیر کی ڈکیتی مزاحمت پر موت کا سن کر چھٹی لے کر آیا تھا، بچپن کے ساتھی کی لاش دیکھ کر حمزہ شدید صدمے میں تھا۔ 

شاہراہ فیصل تھانے کی حدود گلستان جوہر پرفیوم چوک کے قریب ملزمان نےوزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی کے ترجمان جلال بچلانی کی کارپر فائرنگ کر کے زخمی کردیا اور فرار ہوگئے ،بعد ازاں وہ خود اپنی گاڑی چلا کر نجی اسپتال پہنچے ، جلال بچلانی وہ اسلام آباد سے اپنے سسر کی عیادت کے لیے کراچی آئے تھے اور سسر کی اسپتال میں عیادت کے لیے نکلے تھے کہ راستے میں ایک اسٹور پر پانی کی بوتل خریدنے کے لیے گاڑی روکی تھی کہ موٹرسائیکل سوار 2ملزمان گاڑی کے دونوں اطراف سے آئے اور فائرنگ کرکے فرار ہوگئے،انھیں ایک گولی کندھے پر لگ کرہاتھ میں لگی، جب کہ کارکی پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک رشتے دار بال بال بچ گئے ۔ 

جلال بچلانی کا کہنا تھا کہ فائرنگ کرنے والے ملزمان مجھے ٹارگٹ کرنے آئے تھے، ملزمان نے لُوٹنے کی کوشش نہیں کی، ملزمان اسٹریٹ کرمنل نہیں تھے۔ سہراب گوٹھ تھانے کی حدود ایوب گوٹھ میں واقع جامع مسجد محمدی میں فجر کی ا ذان دیتے ہوئے۔،52 سالہ ولایت خان ولد عالم خان کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا ۔ مقتول کی والدہ نے بتایا کہ ہمارا مکان مسجد کے ساتھ ہی ہے۔ 

میرا بیٹا ایف سی کا ریٹائرڈ اہل کاراور ایف سی میں پیش امام تھا اور مذکورہ مسجد میں امام کی غیر موجودگی میں اکثر اذان دیتا اور نماز بھی پڑھا لیتا تھا۔ وہ فجر کی اذان دے رہا تھا کہ ا چانک موٹر سائیکل سوار 2ملزمان مسجد میں داخل ہوئے اور عقب سے مقتول کو گولیاں مار کر فرار ہو گئے۔ مقتول خیبرپختونخوا کے علاقے کرک کا رہائشی تھا اور 1992 سے اس کی خاندانی دشمنی چل رہی ہے ۔ مقتول ایک سال قبل ہی مکان تعمیر کر اکے یہاں منتقل ہوا تھا۔ 

ڈیفینس تھانے کی حدودفیز ٹواسٹریٹ نمبر 13میں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے 55سالہ جاوید علی ولد عبدالرشید جاں بحق ہو گیا۔ ڈاکس تھانے کی حدود مچھر کالونی شیرازی چوک کے قریب چھریوں کے وار سے ایک شخص زخمی ہو گیا،جسے سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی شناخت 40 سالہ ساقی محمد ولد زرپوش کے نام سے ہو ئی ہے۔

سر جانی ٹاؤن تھانے کی حدود تیسر ٹاون مولا عبدالکریم بخش گوٹھ جامع مسجد کے قریب گھریلو تنازع پر ارشد اور ابراہیم نے فائرنگ کر کے 50سالہ ضیا ولد عنایت اللہ قتل کر دیا اور فرار ہو گئے ۔ زمان ٹاؤن تھانے کی حدو کور نگی قذافی ٹاؤن گلی نمبر 11 میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت کرنے پر ملزمان نے فائرنگ کر کے پولیس کانسٹیبل 27 سالہ سہیل ولد محمد نواز زخمی کردیا اور فرار ہو گئے، زخمی اہل کار تھانہ کورنگی صنعتی ایریا میں تعینات ہے۔ خواجہ اجمیر نگری تھانے کی حدود سیکٹر فور بلال مسجد کے قریب دوران ڈکیتی مزاحمت پر ملزمان کی فائرنگ سے 28 سالہ عبدالرحمن ولد فیض محمد زخمی ہو گیا۔ 

نیو کراچی تھانے کی حدود سیکٹر الیون ای مسلم ٹاون میں موٹرسائیکل سوار ملزمان نے مغرب کی نماز پڑھنے کے لیے جانے والے بزرگ شہری 60سالہ توقیر احمد ولد آفتاب احمد کو ڈکیتی مزاحمت کے دوران فائرنگ کرکے قتل کردیا اور فرار ہوگئے۔مقتول سرجانی ٹاون کا رہائشی تھا اور اس کی مسلم ٹاون میں دکان تھی، شرافی گوٹھ تھانے کی حدود لانڈھی قذافی ٹاون اسکول کے قریب موٹر سائیکل سوار ملزمان نے ڈکیتی کے دوران مزاحمت کر نے پر 20 سالہ عامر علی کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا، اسٹیل ٹاون کی حدود اسٹیل مل گیٹ نمبر 4 کے قریب ڈاکوؤں نے لوٹ مار کے دوران مزاحمت کر نے پر سیکیورٹی گارڈ 53 سالہ نصر احمد کو فائرنگ کر کے زخمی کر د یا اور فرار ہو گئے ۔

رواں برس ہونےوالےخود کشیوں کے واقعات، لیاقت آباد تھانے کی حدود لیاقت آباد نمبر5 جامع مسجد منصوری کے قریب واقع مکان نمبر 376 میں 22سالہ بشری زوجہ سعیدالر حمان نے گھریلوپریشانی کے باعث گلے میں پھندا لگا کر خودکشی کی۔ پاک کالونی تھانے کی حدود میوہ شاہ قبرستان کے قریب واقع مکان میں 35سالہ احمد خان ولد شیر جنگ نے بیروز گاری اور گھریلو پریشانیوں سے تنگ آکر گلے میں پھندا لگا کر خود کشی کی۔ عید گاہ تھانے کی حدود بوہرہ پیر میں نجی بینک کے قریب واقع رہائشی عمارت کی بالکونی سے پراسرار طور گر کر 45سالہ خاتون انیسہ د ختر یوسف علی جاں بحق ہوگئی ۔پولیس کا کہنا تھا کہ ا بتدائی طور پر واقعہ خودکشی بتایا گیا۔ 

تاہم ورثا نے بیان دیا ہے کہ واقعہ اتفاقیہ طور پر پیش آیا ہے ۔ سندھی مسلم سوسائٹی میں واقع گھر میں 24سالہ خاتون صفیہ زوجہ محمد خان نے گلے میں پھندالگا کر خودکشی کی۔ پولیس کے مطابق ابتدائی طورپر متوفیہ کے اہل خانہ نے بھی واقعہ خودکشی ظاہر کیا ، لیکن وجوہ بتانے سے گریزاں تھے۔ سپر مارکیٹ تھا نے کی حدود لیاقت آبا میں نوجوان 18سالہ اسامہ ولد عبدل نے زہرلی چیز کھا کر خود کشی کی۔

بلدیہ ٹاون میں معاشی پریشانیوں سے تنگ آکر35سالہ قاسم علی شاہ ولد آصف علی شاہ ولد داد محمدنے گلے میں پھندا لگا کر خود کشی کی ۔لیاقت آباد تھا نے کی حدود لیاقت آباد اصحاب صفہ مسجد کے قریب گھر میں نوجوان 30سالہ فرحان ولد ظفر نے زہریلی چیزکھاکر خود کشی کی ۔ سائٹ ایرا فرنٹیئر کالو نی میں گھر یلو پریشانی سے تنگ آکر میں 42سالہ صدیق ولد علی بخش نے گلے میں پھندا لگا کر خودکشی کی ۔

  (لے آؤٹ آرٹسٹ: انوار مرزا)

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید