امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ بہت ضروری تھا کہ ایران سے ایٹمی خطرے کو ختم کردیں۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم ابھی خطے سے نکلنے کے لیے تیار نہیں، تاہم ہم بہت جلد وہاں سے نکل جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کو مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک سے بڑی حمایت حاصل رہی لیکن نیٹو سے حمایت نہیں ملی، ہمیں اس کی ضرورت بھی نہیں لیکن انہیں خطے میں ہونا چاہیے تھا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ برطانوی وزیراعظم اسٹارمر نے تعاون نہیں کیا، برطانوی وزیر اعظم ہماری جیت کے بعد 2 طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے پر تیار ہوئے۔
اُن کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں برطانوی وزیراعظم ایک اچھے انسان ہیں لیکن میں مایوس ہوں، ایران ایک خطرہ تھا، ہر ملک کو احساس تھا کہ وہ کتنا بڑا خطرہ تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ یہ بہت ضروری تھا کہ وہ ایران سے ایٹمی خطرے کو ختم کر دیں، ہمیں کسی مدد کی ضرورت نہیں لیکن نیٹو احمقانہ غلطی کر رہا ہے۔
امریکی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم کے ڈائریکٹر جو کینٹ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں نے جوکینٹ کا بیان پڑھا ہے، میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ وہ ایک اچھے آدمی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرا ہمیشہ سے یہ خیال تھا کہ جوکینٹ سیکیورٹی کے معاملے میں کمزور ہیں، جب میں نے جو کینٹ کا بیان پڑھا تو احساس ہوا کہ اچھا ہوا کہ وہ چلے گئے۔