• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بہت سے مینوفیکچررز اور بزنس ٹو بزنس (B2B) کمپنیاں بڑی تعداد میں مصنوعات کی خریدو فروخت میں مشغول ہوتی ہیں اور یہ چیز انہیں روایتی طور پر ای کامرس کو اپنانے میں قدرے سست بناتی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایسا کرنا بھی ضروری ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، صارفین کی توقعات بڑھ رہی ہیں اور کورونا وبائی مرض نے سپلائی چین میں مزید لچک اور اس پر توجہ دینے کی ضرورت کو اُجاگر کیا ہے۔ کمپنیاں جب ای کامرس میں منتقلی پر غور کرتی ہیں تو انہیں ذیل میں درج کچھ تحفظات ہوتے ہیں۔

صارفین پر مبنی نقطہ نظر اختیار کریں 

حالیہ برسوں میں بزنس ٹو کنزیومر (B2C) خریداری میں نمایاں طور پر اضافہ ہوا ہے۔ نتیجے کے طور پر، صارفین کام کی جگہ پر اپنی B2B خریداریوں سے بھی اتنی ہی توقع رکھتے ہیں جتنی وہ گھر پر اپنی B2C خریداریوں سے کرتے ہیں۔یعنی وہ توقع کرتے ہیں کہ وہ آن لائن خریداری کریں، شپمنٹ کو ٹریک کریں اور اسی دن مصنوعات کی ڈیلیوری حاصل کرلیں۔ بین الاقوامی سطح پر ایسی ہی توقعات B2B خریدار بھی رکھتے ہیں۔ دنیا کی سب سی بڑی ای کامرس کمپنی ایمازون نے اپنے صارفین کو بغیر کسی اضافی قیمت کے پہلے اگلے دن شپنگ اور پھر اسی دن شپنگ کی پیشکش کی، جس کے بعد یہ صارفین کی توقعات کے لیے تیزی سے اس صنعت کا ایک معیار بن گیا۔

B2B صارفین کی جانب سے کم شپنگ ٹائم کی مانگ میں اضافے سے اخراجات اور مصنوعات و خدمات کی طلب کی لچک پر اثرات پڑتے ہیں جو کمپنیوں کے منافع کے مارجن کو متاثر کرتا ہے۔ اسی لیے ای کامرس پلیٹ فارم میں کمپنیوں کو شفافیت اور مرئیت کو ترجیح دیتے ہوئے مختلف اخراجات کے انتظام میں زیادہ سے زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ 

ای کامرس، کمپنی کو کیش فلومینجمنٹ پر توجہ مرکوز کرنے اور اخراجات کو آمدنی کے مطابق کرنے، نقد رقوم کی ادائیگی کو کم کرنے اور ممکنہ طور پر ادائیگی کی شرائط کو ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ چیز مینوفیکچررز کو روایتی B2B کے بہترین طریقوں پر رہتے ہوئے، اپنے صارفین کی ضروریات پر پوری طرح توجہ مرکوز کرنے کی اجازت دیتی ہے، جیسے کہ سامان کی ڈیلیوری جلدی نہیں بلکہ شیڈول کے مطابق کی جاتی ہے۔

لاجسٹکس کو ڈیجیٹائز کریں

ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کو چاہیے کہ لاجسٹکس چین اور پروسیس کو زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل بنائیں۔ بصورت دیگر، ان کے اخراجات میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ بالخصوص وہ کمپنیاں جو ای کامرس یا ملٹی چینل حکمت عملی کی طرف منتقل ہوتی ہیں، وہ خود کو اس طرح ممتاز کرتے ہوئے مستقبل میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتی ہیں۔

صنعت کیلئے مضمرات/اثرات

سرحد پار مال برداری کو ڈیجیٹائز کرنے سے پیچیدگیاں کم ہوتی ہیں، لیکن یہ ابھی تک ایک اہم حل نہیں ہے۔ بلکہ، انکریمنٹل رول آؤٹ پوری سپلائی چین میں پہلے سے موجود مسائل پر روشنی ڈالتا ہے جو پہلے غیر منظم تھے۔ بڑھتی ہوئی شفافیت کے ساتھ آگاہی اور جانچ میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگرچہ ای کامرس میں منتقلی کا دورانیہ کسی حد تک غیر آرام دہ ہوسکتا ہے، لیکن یہ بہت اہم ہے۔ کیوں؟ کیونکہ آج کے B2B خریدار کے پاس عمل درآمد کا اعلیٰ معیار ہے اور وہ اپنے سوالات کا جواب چاہتا ہے جیسے کہ اس کا سامان کہاں ہے؟ وہ اس وقت کس کے پاس ہے؟ ٹیکس اور ڈیوٹیز کیا ہیں؟ کسٹم کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟ وغیرہ

جب تبدیلی آہستہ آہستہ ہوتی ہے تو سپلائی چین بہترین طریقے سے چلتی ہے، کووِڈ-19وبائی مرض نے بھی ای کامرس پلیٹ فارم پر جانے کی خوبی کو ظاہر کیا ہے۔تاہم قیمتوں کا تعین کرنا غیر یقینی ہوسکتا ہے کیونکہ ایئرکارگو کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور سمندری مال برداری میں استعداد کے مطابق استعمال کم ہے، جس سے کمپنیوں کی شپمنٹ کو کم فوقیت ملنے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ ای کامرس ٹولز آپ کو اس غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے میں مدد کرتے ہیں۔ B2Bکمپنیوں کی جانب سے ان ٹولز اپنانے کے بعد، ای کامرس تیزی سے اس صنعت کا معیار بن جائے گی کیونکہ کسی بھی B2B کمپنی سے جڑے لوگ یا کمپنیاں اس سے ایسی ہی خدمات کا مطالبہ کرتی ہیں۔

اسمارٹ مینوفیکچررز ای کامرس پلیٹ فارم کو اپنانے میں تیزی لانے کے لیے وبائی مرض کو تجربے کے طور پر لیں گے اور پوری سپلائی چین میں اپنے ساتھ کام کرنے والی کمپنیوں کو بھی اسے اپنانے کا مطالبہ کریں گے۔ اس طرح نیٹ ورک کا اثر شروع ہو جائے گا اور یہ نظام کلیدی کارکردگی کے فوائد حاصل کرے گا، جیسے کہ لچک، شفافیت، اور پیش گوئی وغیرہ۔ زیادہ سے زیادہ B2Bکمپنیوں کی جانب سے ای کامرس کی طرف آنے سے صارفین کو بھی سہولت ہوگی۔

ڈیجیٹائزیشن کیلئے تجاویز

میکنزی، کئی کثیرالاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ رکھتی ہے، جس کی بنیاد پر وہ ڈیجیٹائزیشن کے عمل کے دوران کمپنیوں کو چھ تجاویز پیش کرتی ہے۔

جارحانہ لائحہ عمل اختیار کریں: اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے صارفین کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے اپنے ہی کاروباری ماڈل کو ہلاکر رکھ دیں۔

ڈیجیٹل ایکو سسٹم سے استفادہ کریں: کمپنیاں ایسا لائحہ عمل ترتیب دیں، جس کے تحت وہ ملک کی بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کرسکیں۔

انالیٹکس کا استعمال: ڈیجیٹل ڈیٹا کو حاصل اور اس کا سائنسی تجزیہ کرکے کمپنیاں اپنے لیے مسابقتی ماحول تخلیق کرسکتی ہیں۔

ڈیجیٹل انقلاب کیلئے تیاری: اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی کمپنیوں میں عہدوں کے مطابق طبقے کم کرتے ہوئے اسمارٹ ٹیمیں تشکیل دی جائیں، جو ڈیجیٹل انقلاب کو کم مزاحمت اور آسانی سے اپنانے کے لیے تیار ہوں۔

ڈیجیٹل آپریشنز: ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، عالمی معیشتوں کو تیزی سے تبدیل کررہی ہے اور کئی کمپنیاں نہیں جانتی کہ ڈیجیٹل دنیا میں کس طرح کام کیا جاتا ہے، انھیں اس کے لیے ابھی سے تیاری کرنا ہوگی۔

حکومت کے ساتھ روابط: چھوٹے کاروباری اداروں کو حکومت کے ساتھ روابط پیدا کرنے چاہئیں کہ وہ ڈیجیٹل معیشت میں کس طرح اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔