• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ٹی وی ڈراما بلندیوں پر، فلم انڈسٹری ڈوبنے لگی !!

2021ء میں شوبزنس انڈسٹری کی صورتِ حال میں کچھ بہتری آئی، مگر مایوسیوں اور اُمیدوں کے مابین اب بھی مقابلہ چل رہا ہے۔ 2021ء میں شوبزنس کی چمکتی دمکتی دُنیا کے دو اہم اور طاقت ور میڈیم فلم اور ٹیلی ویژن کی بات کی جائے تو حسبِ روایت ٹیلی ویژن ڈراما ، پوری توانائی اور مقبولیت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور بلندیوں کو چُھو رہا ہے ، جب کہ دوسری جانب فلم انڈسٹری کا ٹائیٹنک ڈُوب رہا ہے۔ فلم انڈسٹری لاوارث دکھائی دے رہی ہے۔ اسے کوئی اپنا نہیں سمجھتا۔ 

 ماضی میں وہ اپنی مدد آپ کے تحت آگے بڑھتی رہی ہے اور دھوپ چھائوں کی طرح رنگ بدلتی رہی۔ 74برسوں میں لاوارث فلم انڈسٹری کو سرکاری سطح پر ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ کام کرنے والے چند فلم ساز اور ڈائریکٹر بھی اب نااُمید دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا، جب پاکستان فلم انڈسٹری کی جانب سے سال بھر میں سو سے زیادہ فلمیں ریلیز کی جاتی تھیں۔ 

کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک ہی ہیرو کی ایک ہی دن میں تین فلمیں ریلیز ہوئی اور سب کی سب سپر ہٹ ثابت ہوئیں۔ فلم کے ہیروز کے نام پر فلمیں بکتی تھیں۔ فلموں کی موسیقی اپنے عروج پر ہوتی تھی، فلم کے ریلیز ہونے سے قبل اس کے گانے سپر ہٹ ہو جاتے تھے۔ فلموں میں کام کرنے والے فن کار، ٹیلی ویژن کے آرٹسٹوں کو کم تر سمجھتے تھے۔ فلم اسٹار، ٹی وی ڈراموں میں کام کرنا اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ اب زمانہ بالکل بدل گیا ہے، سب کچھ یکجا ہو گیا ہے۔ فلمی گیتوں کی جگہ ڈراموں کے ٹائٹل سونگز مقبولیت کےریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔

تقریباً دو برس کے طویل وقفے کے بعد سینما گھر کُھلے توکوئی پروڈیوسر اپنی فلم ریلیز کرنے کو تیار نہیں ہو رہا تھا۔ ایسے میں ہدایت کار نبیل قریشی اور فضہ علی میرزا نے ہمت کی اور فلم ’’کھیل کھیل میں‘‘ ریلیز کی۔ نبیل قریشی نے سُلگتے ہوئے موضوع پر ٹھنڈی فلم بنائی۔ اس فلم نے سینما گھروں کے سناٹوں کو رونقوں میں نہیں بدلا۔ ’’کھیل کھیل میں‘‘ کی کہانی سقوط ڈھاکا کے گرد گھومتی دکھائی گئی۔ فلم کے مرکزی کرداورں میں خُوب صورت اداکارہ سجل علی اور بلال عباس نے ادا کیے ، جب کہ نامور فن کار علی ظفر، جاوید شیخ، منظر صہبائی، ثمینہ احمد اور مرینہ خان سمیت دیگر نے بھی مختلف کردار نبھائے۔ 

ہدایت کار نبیل قریشی نے نئی نسل کے دو بے حد مقبول فن کار بلال عباس اور سجل علی سے عمدہ کردار نگاری کروانے میں ناکام نظر آئے۔ سجل علی کی اداکاری کی تعریفیں تو پڑوسی ملک والے بھی کرتے ہیں، جب کہ بلال عباس کو حال ہی میں بہترین اداکار کا لکس اسٹائل ایوارڈ بھی دیا گیا۔ نبیل قریشی کو اپنی دوسری نئی فلم ’’قائد اعظم زندہ باد‘‘ ریلیز کرنی چاہیے تھی، تاکہ اس فلم کے ہیرو فہد مصطفیٰ اورماہرہ خان کی وجہ سے سینما گھروں کی رونقیں شاید بحال ہو جاتیں، کیوں کہ ان دونوں سپر اسٹارز نے پاکستان فلم انڈسٹری کو چند زبردست اور کام یاب فلموں سے نوازا ہے۔ 

بعد ازاں یعنی ایک ماہ بعد ہدایت کار جلال اور پروڈیوسر کامران باری نے فلم ’’کہے دل جدھر‘‘ ریلیز کی۔ اس فلم کی کاسٹ میں ٹیلی ویژن کے نامور فن کاروں نے عمدہ کام کیا۔ ٹیلی ویژن ڈراموں کے اسٹار جُنید خان نے پولیس انسپکٹر کے کردار میں زبردست اداکاری کا مظاہرہ کیا، جب کہ فلم ہیروئن منشا پاشا نے فلم بینوں کو متاثر نہیں کیا، البتہ پروڈیوسر اور فن کار کامران باری نے اپنے کردار میں حقیقت کے رنگ بھرے۔ منشیات کے موضوع پر ایک عمدہ فلم پیش کی گئی اور اس کی موسیقی بھی شان دار تھی، مگر سینما مالکان نے حسبِ روایت اس فلم کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا اور بہت کم شوز دیے۔ 

فلم میں سینئر اداکار ساجد حسن اور عتیقہ اوڈھو نے عمدہ کام کیا۔ فلم ’’کہے دل جدھر‘‘ سے فلم انڈسٹری کو جُنید خان کے روپ میں ایک اچھا ہیرو میسر آگیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے فلم ساز اس نوجوان فن کار کی صلاحیتوں سے کتنا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ فلم ’’کہے دل جدھر‘‘ کو ایک بہت بڑے بجٹ کی فلم ’’اسپائڈر مین‘‘ کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ انہیں سینما گھروں میں کم شوز دیےگئے۔

2021 کے دسمبر میں اسپائڈر مین‘‘ پاکستانی سینماگھروں کی زینت بنی تو سارا ماحول بدل گیا۔ راتوں رات سینما گھروں کی رونقوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سینما گھروں میں لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ فلم بین شوز ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہوتے تھے۔ سینما گھر ہائوس فُل تھے، جسے کھڑکی توڑ باکس آفس کہا جاتا ہے، وہ دیکھنےکو ملا ۔ کاش ہماری پاکستانی فلموں کی ریلیز کےموقع پر بھی ایسا منظر دیکھنے کو ملے۔ ہال ماضی میں پاکستانی فلموں کی ریلیز کے مواقع پر ہائوس فلم کے بورڈ آوزاں ہوتے تھے۔ 

فلم’’اسپائڈر مین‘‘ دیکھنے کے لیے غیر معمولی رش یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر فلم اچھی ہو گی، تو فلم بین ضرور گھروں سے نکلیں گے۔ ’’اسپائڈر مین‘‘ سے شاید ہماری انڈسٹری کو تو کوئی فائدہ نہ پہنچے۔ البتہ سینما مالکان بہت خوش ہوگئے ہوں گے۔ سینما مالکان کو سرمایہ دار ذہین بدل کر کچھ انڈسٹری کے لیے مثبت سوچنا ہوگا۔ تھوڑی سے رونقیں بحال ہوتی ہیں تو سینما مالکان پاکستانی فلموں کو نظر انداز کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

دوسری جانب جیو فلمز کے تحت ریلیز کی جانے والی ’’ڈونکی کنگ‘‘ نے2021 میں پاکستان کے دوست ملک چین میں ریلیز ہو کر ریکارڈ بزنس کیا اور پاکستان کی بہترین فلم کا اعزاز حاصل کیا۔ اینی میٹڈ فلم ’’ڈونکی کنگ‘‘ کو چینی شائقین فلم کی جانب سے شان دار پزیرائی حاصل ہوئی۔ چینی فلم بینوں کو مزاح، طنز، سیاسی افواہوں اور دیگر پنچ لائنوں سے بھر پور فلم بے حد پسند آئی اور اس فلم نے کروڑوں کا بزنس کیا۔ ’’ڈونکی کنگ‘‘ ایک ماہ تک چین کے سینما گھروں کی زینت بنی رہی۔ ہدایت کار عزیز جندانی اور جیو فلمز کی ’’ڈونکی کنگ‘‘ اکتوبر 2018میں ریلیز ہوئی تھی اور اسے جنوبی کوریا، اسپین، ترکی اور روس میں بے حد پسند کیا گیا۔ تین برس گزرجانے کے باوجود ’’ڈونگی کنگ‘‘ کی شہرت اور مقبولیت بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

2021 میں کراچی میں ایک اوپن ایئر سینما گھر بھی کُھلا۔ اس طرح کے تجربات ہوئے تو شاید انڈسٹری کے حالات کچھ بدل جائیں۔ اگر فلم انڈسٹری کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا ہے، تو پاکستان بھر میں چھوٹے چھوٹے سینما گھر بنانے ہوں گے۔ صرف کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے جدید سینما گھر فلم انڈسٹری کو مستحکم نہیں کر سکتے۔ سنگل اسکرین والے سینما گھر بنانے ہوں گےاور سستی ٹکٹوں کا سلسلہ شروع کرنا ہو گا۔2021 میں دو چار فلموں کی ریلیز سے گُھپ اندھیرے میں اُمید کی کچھ کرنیں تو روشن ہوئی ہیں، لیکن تین سال قبل جیسی رونقیں بحال کرنے کے لیے سب کو سنجیدگی سے کام کرنا ہو گا۔

اب ہم چھوٹی اسکرین کے ڈراموں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔2021 میں سب سے زیادہ مقبولیت جیو کی اسکرین پر پیش کیے جانے ڈراموں کو حاصل ہوئی۔ جیو اور سیونتھ اسکائی کے عبداللہ کادوانی اور اسد قریشی نے ایک سے بڑھ کر ایک دل چسپ ڈرامے پیش کیے۔ ان ڈراموں نے سوشل میڈیا پر بھی مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے۔2021 میں یوٹیوب پر سب سے زیادہ دیکھے جانے والا ڈراما ’’خدا اور محبت‘‘ قرار پایا۔ 

خدا اور محبت کے سیزن تھری میں نامور اداکار فیروزخان اور اقراء عزیز کی ناقابل فراموش اداکاری نے ناظرین کے دل جیت لیے۔ اس مقبول ترین ڈرامے کے ٹائٹل سونگ نے بھی یوٹیوب پر کئی ریکارڈ قائم کیے۔ نوجوان موسیقار نوید ناشاد کا کمپوز کیا ہوا، استاد راحت فتح علی خان کی آواز میں گایا ہوا ٹائٹل سونگ ’’تَن جُھوم جُھوم مَن جُھوم جُھوم‘‘ کو اب تک یوٹیوب پر 160ملین سے زیادہ بار سُنا اور دیکھا گیا ہے۔ 

اس ٹائٹل سونگ نے ڈراما’’میرے پاس تم ہو‘‘ کے سونگ کو بھی بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ سیونتھ اسکائی کے عبداللہ کادوانی اور اسد قرشی جب بھی کوئی ڈراما پروڈیوس کرتے ہیں، تو اسکرپٹ ، ڈائریکشن اور فن کاروں کے ساتھ ڈرامے کے OST پر خصوصی توجہ دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی ڈراما سپر ہٹ ہوتا ہے، تو اس کا OST مقبولیت کے ساتویں آسمان کو چُھونے لگتا ہے۔ استاد راحت فتح علی خان اور نوید نوشاد کے اشتراک سے بہترین OST پیش کیے جا رہے ہیں۔ استاد راحت فتح علی خان کو 2021میں 0ST کے بہترین گائیک کے لکس اسٹائل ایوارڈ سے بھی نواز گیا۔ ’’چپکے چپکے‘‘ اور ’’عشق ہے‘‘ ڈرامے کے ٹائٹل سونگ نے بھی مقبولیت حاصل کی۔

2021 میں جیو اور سیونتھ اسکائی انٹرٹمنٹ کا ایک اور شاہ کار ڈراما ’’رنگ محل‘‘ پیش کیا گیا۔ عبداللہ کادوانی اور اسد قریشی نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ وہ نمبر ون ہیں۔ ’’رنگ محل‘‘ ڈرامے کی کام یابی سے ٹیلی ویژن انڈسٹری کو سحر خان جیسی باصلاحیت اداکارہ میسر آگئی ہیں۔ سحر خان نے اس ڈرامے میں ’’مہ پارہ‘‘ کے کردار میں حقیقت کا رنگ بھرا۔ محبت ، جذبات، طبقاتی اختلافات، خوشی اور غم کی ڈور سے بنی گئی دل چُھو لینے والی ڈرامے نے ناظرین کو پہلی قسط سے آخری قسط تک اپنے سحر میں رکھا۔ 

ڈرامے کے ہدایت کار زاہد محمود نے تمام فن کاروں سے عمدہ کام لیا، جب کہ شافعہ خان نے اس ڈرامے کو لکھا تھا۔ سحر خان کے ساتھ علی انصاری کو بے حد پسند کیا گیا۔ دیگر فن کاروں میں فضیلہ قاضی، راشد فاروقی ،محسن گیلانی، صبیحہ ہاشمی، عاصم محمود، حمیرا بانو، سلمیٰ حسن، شبیر جان نے یاد گار پرفارمنس دی، جسے ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ ڈراموں کا ٹائٹل سونگ ساحر علی بگا نے کمپوز کیا تھا اور اسے افشاں فواد اور ساحر علی بگا کی مدھر آوازوں کے ساتھ حامد نقوی قوال کی صدا کاری نے رنگ جمایا۔

2021 کے آغاز میں میگا سریل ’’قیامت‘‘ جیو ٹی وی پر پیش کی گئی، حسبِ روایت عبد اللہ کادوانی اور اسد قریشی نےعمدہ ڈراما پروڈیوس کیا، ڈرامے میں نامور اداکار احسن خان اور نیلم منیر، مرکزی کرداروں میں نظر آئے۔ ڈرامے میں احسن خان کا ڈائیلاگ ’’میرا میٹر گھوم جائے گا‘‘ بے حد مقبول ہوا۔ 

اداکارہ امر خان نے بھی اپنے کردار میں شان دار پرفارمنس دی ۔ نیلم منیر اور احسن خان، اس سے قبل ایک فلم ’’چھپن چھپائی‘‘ میں کام کر چکے ہیں اور آئندہ برس ایک دونوں فن کاروں کی فلم ’’چکر‘‘ ریلیز کے لیے تیار ہے۔ ڈراما ’’قیامت‘‘ میں صبا فیصل ، ہارون شاید اور شبیر جان کے کرداروں کو بھی سراہا گیا۔ ناظرین نے احسن خان اور نیلم منیر کی جوڑی کو بے حد پسند کیا۔

جیو کی اسکرین پر سال 2021 میں دیگر ڈراموں کو بھی ناظرین نے پسندیدگی کی سند سے نوازا۔ ان ڈراموں میں فتور ، مجھے خدا پر یقین ہے، عشق جلیبی، مہلت، تیری بے بسی وغیرہ شامل ہیں۔ دسمبر میں دو تین نئی سپر ہٹ ڈراما سریل کا آغاز بھی کیا ہے۔ ڈراما سیریل فاسق اور اے مشتِ خاک کی ابتدائی اقساط نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔ خاص طور پر فیروز خان اور ثناء جاوید کو اے مشت خاک میں بے حد پسند کیا جا رہا ہے۔ یہ جوڑی قبل ازیں جیو کی میگا ہٹ سیریل ’’خانی‘‘ میں مرکزی کردار ادا کر چکے ہیں۔

پاکستان کے شہرت یافتہ فن کاروں نے ڈراموں سے کام یابی کے بعد فلموں میں کام شروع کیا اور وہ ایک مرتبہ پھر سے ٹی وی ڈراموں کی جانب آرہے ہیں۔ سپر اسٹار ماہرہ خان نے ڈراما ’’ہم کہاں کے سچے تھے‘‘ سے شان دار واپسی کی۔ ماہرہ خان نے اس ڈرامے میں پانچ سال بعد کام کیا۔ اسے عمیرا احمد نے لکھا تھا، ’’ہم کہاں کے سچے‘‘ میں اداکار عثمان مختار، کبری خان، ہارون شاید ، شمیم ہلالی، زینب قیوم، ہما نواب، لیلیٰ واسطی اور دیگر فن کاروں نے بھی مختلف کردار نبھائے۔ 

ہدایت کار عاصم رضا کی سپر ہٹ فلم ’’ پرے ہٹ لو‘‘ سے مقبول ہونے والی فن کار جوڑی شہریار منور اور مایا علی نے ڈراما سیریل ’’پہلی سی محبت‘‘ میں شان دار انٹری دی۔ اداکارہ مایا علی نے پانچ سال بعد اور شہریا منور نے تقریباً سات برس بعد ٹیلی ویژن اسکرین پر نظر آئے۔ مایا علی نے رخشی اور شہریار منور نے اسلم کا کردار ادا کیا ، جب کہ معروف ڈیزائنر حسن شیریار یاسین (SHY) نے پہلی بار اس ڈرامے میں اداکاری کی ۔ ڈرامے کی ڈائریکشن انجم شہزاد نے دی۔

2021 میں مزاحیہ فن کار یاسر حُسین نے ڈراما’’کوئل‘‘ سے ہدایت کاری کا آغاز کیا۔ اس ڈرامے میں منشا پاشا اور نورالحسن نے مرکزی کردارنبھائے ہیں، جب کہ ڈاکٹر ہما میر کی کئی برس بعد ڈراموں میں واپسی ہوئی ہے، ناظرین ڈاکٹر ہما میر کو دل چسپ کردار میں دیکھیں گے۔ دیگر ٹی وی ڈراموں میں ڈراما سیریل ’’پری زاد‘‘ نے بھی ناظرین کی بھر پور توجہ حاصل کی۔ سوشل میڈیا پر اس ڈرامے کو غیر معمولی کام یابی ملی۔ ’’پری زاد‘‘ کی کہانی ہاشم ندیم کے ناول پر مبنی تھی۔ 

ڈرامے کے نمایاں فن کاروں میں احمد علی اکبر، نعمان اعجاز، عروہ حسین، صبور علی اور لبنیٰ زیدی شامل تھے۔ پری زاد میں ہمارے معاشرے کے ان پہلوئوں اور ذات کی عکاسی کی گئی، جنہیں ہمارے اردگرد کے لوگ آسانی سے قبول نہیں کرتے ہیں۔ یہ ایسے نوجوان کی کہانی تھی ،جیسے رنگ کالا ہونے کی وجہ سے تنگ نظر معاشرہ قبول نہیں کرتا، اسے زندگی کے ہر قدم پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ 2021 میں بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکار عاطف اسلم نے ڈراموں میں اداکاری کا آغاز کیا۔ 

وہ اس سے قبل جیو فلمز اور شعیب منظور کی فلم ’’بول‘‘ میں ماہر خان کے مدِمقابل اداکاری کر چکے ہیں۔ اب انہوں نے چھوٹی اسکرین پر انٹری دی ہے۔ ناظرین عاطف اسلم کو ڈراما سیریل ’’سنگ مرمر‘‘ کے سیکوئل ’’سنگ ماہ‘‘ میں دیکھ سکیں گے۔ اس میں ڈراموں اور فلموں کی اداکارہ کبریٰ خان ، ثانیہ سعید، نعمان اعجاز اور میکال ذوالفقار نے بھی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔

ہدایت کار و اداکار دانش نواز کے ڈرامے ’’ چپکے چپکے‘‘کو بھی رواں برس پزیرائی حاصل ہوئی، ڈرامے میں اداکارہ عائزہ خان، عثمان خالد بٹ، میرا سیٹھی، علی سفیان، ایمن سلیم وغیرہ نے عمدہ کردار نگاری کی۔ نوجوان ہدایت کار آبس رضا کا ڈراما ’’عشق ہے ‘‘ میں معروف اداکار دانش تیمور کو منال خان کے ساتھ پسند کیا گیا۔ دونوں فن کاروں نے جم کر اداکاری کی۔ اس ڈرزامے کے ٹائٹل سونگ کو بھی بے حد مقبولیت ملی۔

2021 میں کئی فن کاروں نے شادی کی۔ مریم انصاری کی شادی کی تقریبات میں فن کاروں نے رنگ جمایا۔ ڈراما انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے کئی نامور فن کار ہم سے بچھڑ گئے۔ ٹیلی ویژن اسکرین کے لیے سپر ہٹ ڈرامے لکھنے والی حسینہ معین دُنیا چھوڑ گئیں۔ ڈراموں کے نامور اداکار انور اقبال اور انکل سرگم پروگرام سے بین الاقوامی شہرت حاصل کرنے والے فن کار فاروق قیصر، نامور گلو کار شوکت علی، اداکارہ سنبل شاہد، شہنشاہ کامیڈی عمرشریف، نائلہ جعفری، اعجاز درانی اور دردانہ بٹ بھی خالق حقیقی سے جا ملے۔ پاکستان ٹیلی ویژن کی پہلی خاتون میزبان کنول نصیر بھی دُنیا سے چلی گئی۔

 (لے آئوٹ آرٹسٹ شاہدحسین)

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید