• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن نے شور شرابا کیا ہے، حزبِ اختلاف کی جانب سے قومی سلامتی پالیسی پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنے پر احتجاج کیا گیا۔

اپوزیشن ارکان نے چیئرمین سینیٹ کی ڈیسک کے پاس نعرے بازی کی جس کے بعد انہوں نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

بعد میں اپوزیشن ارکان ایوان میں واپس آ گئے، جس پر چیئرمین سینیٹ نے ارکان کو نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کی۔

قائدِ ایوان سینیٹر شہزاد وسیم کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے نعرے لگائے۔

شہزاد وسیم نے اس موقع پر کہا کہ پی ٹی آئی سے پہلے 21 بار مختلف حکومتیں آئی ایم ایف کے پاس گئیں۔

انہوں نے کہا کہ کل لیڈر آف اپوزیشن نے اعتراف کیا کہ بین الاقوامی لیڈرز سے بات کی اور واپس آنے کا راستہ بحال ہوا، آپ اپنے قبلے جہاں مرضی کریں، ہمارا قبلہ عوام کی طرف ہے۔

ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی سلامتی پالیسی بنائی گئی ہے، یہ پالیسی قومی سلامتی کمیٹی میں پیش کی گئی لیکن اپوزیشن نے ایوان کا بائیکاٹ کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وردی والے نہیں آئے تھے، اس لیے اپوزیشن اجلاس میں نہیں آئی تھی، جب قومی سلامتی کمیٹی میں وردی والے ہوتے ہیں تو یہ بھاگے چلے آتے ہیں۔

قائدِ ایوان نے کہا کہ آج تک کسی حکومت نے قومی سلامتی پالیسی پیپر نہیں دیا، یہ اعزاز وزیرِ اعظم عمران خان کو حاصل ہوا۔

انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی کا مسودہ بہتر بنانے کے لیے قومی سلامتی کمیٹی میں رکھا گیا لیکن اپوزیشن نہیں آئی۔

شہزاد وسیم کا کہنا ہے کہ پہلے بھی قومی سلامتی کمیٹی میں بریفنگ دی تب بھی وزیرِاعظم عمران خان نہیں تھے، لیکن اپوزیشن والے بھاگے چلے آئے کیونکہ اس اجلاس میں وردی والے موجود تھے۔

قائدِ ایوان سینیٹر شہزاد وسیم نے یہ بھی کہا کہ آپ کے لیڈرز سی وی لے کر امریکا میں بینچ پر بیٹھے اور یہ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ ہم بین الاقومی سامراج کے پاس گئے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید