• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی سلامتی پالیسی پارلیمنٹ میں کیوں پیش نہ کی گئی: شیری رحمٰن

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر و سینیٹر شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ حکومت نے قومی سلامتی پالیسی پیش کی، مگر اسے پارلیمنٹ میں کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ قومی سلامتی پالیسی کا مسودہ ایوان میں پیش کر کے پارلیمان کی رائے لی جانی چاہیے تھی۔

سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر شیری رحمٰن نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کہے گی کہ اپوزیشن نے پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کا بائیکاٹ کیا جس میں پالیسی کا مسودہ پیش کیا گیا، اپوزیشن نے اس اجلاس کا اس لیے بائیکاٹ کیا کیونکہ وزیرِ اعظم عمران خان اس کمیٹی اجلاس میں نہیں آتے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ ہو گا کہ ملک کو آئی ایم ایف کو گروی رکھ دیا گیا، اسٹیٹ بینک اب بین الاقوامی سامراج کو جواب دہ ہو گا، یہ آپ کی معاشی سلامتی پالیسی ہو گی؟ یہ کیا قومی سلامتی کمیٹی ہے جس پر پارلیمان پر بحث نہیں ہوئی، جسے پارلیمان نے دیکھا نہیں۔

پی پی پی کی نائب صدر کا کہنا ہے کہ کیا اس میں ریاست کے خلاف وہ گروپس شامل ہیں، جو ریاست کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، کیا آپ ان کو قومی دھارے میں شامل کرنا چاہ رہے ہیں، کیا قومی سلامتی پالیسی کو آئی ایم ایف چلائے گا؟

شیری رحمٰن کی تقریر کے دوران محسن عزیز نے شور مچایا جس پر شیری رحمٰن نے کہا کہ آپ ہمیں بات کرنے دیں، محسن عزیز ایوان کو قابو کر رہے ہیں، یہ چیخے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کونسی قومی سلامتی پالیسی ہے جس میں پارلیمان کا پاتھ کہیں ہے، اس پالیسی سے پاکستان کا تحفظ نہیں ہو گا۔

سینیٹر شیری رحمٰن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے دور میں کالے قوانین لائے جا رہے ہیں جسے قومی سلامتی پالیسی کا لبادہ پہنایا جا رہا ہے، ہم ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہیں۔

جس کے بعد شیری رحمٰن اور اپوزیشن اراکین نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

قومی خبریں سے مزید